بسم اللہ کی تفسیر قسط نمبر آٹھ   || بسم اللہ کی ب کا معنی  کیا ہے ؟

بسم اللہ کی تفسیر قسط نمبر آٹھ   || بسم اللہ کی ب کا معنی  کیا ہے ؟

بسم اللہ کی تفسیر قسط نمبر آٹھ   ||بسم اللہ کی ب کا معنی  کیا ہے ؟

اس سے پچھلی  سات اقساط میں ہم نے یہ بیان کیا تھا کہ عربی زبان کے حرف ب کے کتنے معانی ہو سکتے ہیں ،اس تناظر میں ہم نے حرف ب کی دو اقسام کی تھیں ،زائدہ اور غیر زائدہ ۔

 

پھر  غیر زائد ہ کے تیرہ ممکنہ معانی بھی بیان کیے تھے ،ان تمام معانی کو سمجھانے کیلئے ان کی قرآنی مثالیں  بھی دیں تھیں۔اس قسط میں ہم یہ سمجھنے کو کوشش  کریں  گے کہ بسم اللہ کی ب کیلئے کون کون سے معانی کو  مان لینا  درست ہے۔

 

بسم اللہ کی ب کے کون کون سے معانی ہوسکتے ہیں ؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کیلئے ہم چند ہی  تفاسیر دیکھیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہمارا مقصد پورا ہو جائے گا ،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس کو مخصوص تفاسیر میں تلاش کریں گے جو لغوی ابحاث کرتی ہیں ۔

 

ہم سب سے پہلے اس کو "محی الدین مصطفی درویش” کی "اعرب القرآن و بیانہ” میں دیکھیں گے کیونکہ ہمارے نزدیک وہ اس موضوع پر جامع تفسیر ہے،ہم اعراب اور ترکیب کیلئے بھی زیادہ تر اسی پر بھروسہ کریں گے ۔

 

اس تفسیر میں بسم اللہ کی تفسیر کے تحت لکھا ہے :

والباء هنا للاستعانة أو للالصاق

ترجمہ:

باء یہاں استعانت کیلئے ہے یا الصاق کیلئے ہے ۔

 

ہم معلوم تو ہوگیا کہ یہ ب استعانت کیلئے ہے یا الصاق کیلئے ہے لیکن ایک ہی تفسیر کے مطالعے کے بعد فیصلہ کر دینا درست نہیں ہے ،اس لیے ہم مزید کچھ تفاسیر کا مطالعہ  بھی کریں گے تاکہ مختلف علماء کرام کی رائے ہمارے سامنے آجائے  ۔

 

مصطفی درویش کی تفسیر کے بعد  ہم نے "ابو جعفر نحاس "کی تفسیر” اعراب القرآن” دیکھی ،اس تفسیر میں لکھا تھا :

(اسم) مخفوض بالباء الزائدة

ترجمہ:

(بسم اللہ میں )اسم کا لفظ ب زائدہ کی وجہ سے مجرور ہے ۔

یہاں ایک دوسری رائے بھی ہمارے سامنے آگئی کہ یہ ب زائدہ بھی ہو سکتی ہے ۔

 

اس کے بعد ہم نے ” ابو عبیدہ معمر بصری ” کی ” مجاز القرآن ” دیکھی ، اس میں ہمیں  بسم اللہ کی تفسیر میں اس حوالے سے کچھ نہیں ملا۔

 

پھر ہم نے "محمود صافی "کی "الجدول فی اعراب القرآن ” دیکھی ، اس میں بھی ہمیں اس کے متعلق کچھ نہیں ملا البتہ ہمیں اس کے مطالعہ سے یہ احساس ہوا ہے کہ یہ شاندار تفسیر ہے ،اس میں قرآن کے اعراب کو بیان کیا گیا ہے  اور اسکے ہر ہر لفظ کی صرفی بحث بھی کی گئی ہے ،اس میں بلاغت اور نحو کو بھی خوب اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

 

پھر ہم نے "ابو البقاء عبد اللہ عکبری ” کی ” التبیان فی اعراب القرآن ” دیکھی ،اس میں بھی ہمیں اس حوالے سے کچھ نہیں ملا لیکن اس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ  ایک جاندار تفسیر ہے ،اس کا حجم کم اور معلومات کافی زیادہ ہیں ۔

 

پھر اس کے بعد ہم نے "ڈاکٹراحمد بن محمد خراط” کی "المجتبی من مشکل اعراب القرآن دیکھی "اس میں بھی ہمیں حرف ب کے معانی کے حوالے سے کچھ نہیں ملا البتہ اس کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوا ہے کہ یہ مختصر تفسیر ہے جو آپ کو قرآن کریم کی ترکیب میں بڑی مدد دے سکتی ہے ۔

 

 

پھر اس کے بعد ہم نے ” امام بیضاوی ” کی ” تفسیر بیضاوی ” کا مطالعہ کیا ،اس میں لکھا تھا :

وقيل الباء للمصاحبة والمعنى متبركا باسم الله تعالى اقرأ

ترجمہ:

اور کہا گیا ہے کہ حرف ب مصاحبت کے لئے ہے اور اس کا معنی ہے اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں قرآت کرتا ہوں ۔

 

پھر اس کے بعد ہم نے "دکتور وھبۃ بن مصطفی زحیلی ” کی "التفسیر المنیر فی العقیدۃ والشریعۃ والمنھج ” دیکھی تو وہاں لکھا تھا ۔

الباء من بِسْمِ اللَّهِ زائدة بمعنى الإلصاق والراجح أنها بمعنى الاستعانة

ترجمہ:

بسم اللہ کی ب  زائدہ بمعنی الصاق ہے اور راجح قول کے مطابق یہ ب استعانت کے معنی میں ہے ۔

 

زحیلی کی "تفسیر منیر” ایک اچھی تفسیر ہے ،اس میں آیت کے لغوی تشریح بیان کی جاتی ہے ،احکام مستنبطہ کو بیان کیا جاتا ہے ،اسباب نزول کو بیان کیا جاتا ہے،بلاغت اور اعراب کو بھی بیان کیا گیا ہے،ہر ایک بحث کو بیان کرنے سے پہلےاس طرح کا عنوان دیا جاتا ہے ، اعراب ،بلاغت ،فضیلت اورسبب نزول وغیرہ ۔

 

پھر اس کے بعد ہم نے "ابو سعود عمادی ” کی ” ارشاد العقول السلیم الی مزایا الکتاب الکریم ” دیکھی ،جسے ” تفسیر ابی سعود ” بھی کہتے ہیں،اس میں لکھا تھا ۔

ومعناها الإستعانة أو الملابسة تبركا أي باسم الله أقرأ أو أتلو

ترجمہ:

اس کا معنی استعانت یا تبرکا ملابست ہے یعنی اللہ کے نام کے ساتھ میں پڑھتا ہوں یا تلاوت کرتا ہوں ۔

 

پھر اس کے بعد ہم نے "امام رازی ” کی ” تفسیر کبیر ” دیکھی ،جس میں لکھا تھا :

أن الباء في قوله بسم الله باء الإلصاق

ترجمہ:

بے شک بسم اللہ میں ب الصاق کیلئے ہے ۔

پھر ہم نے "امام محمد بن جریر طبری ” کی تفسیر "جامع البیان فی تاویل القرآن ” کا مطالعہ کیا ،انہوں نے بسم اللہ کی تفسیر میں کافی کچھ لکھا ہے مگر اس حوالے سے ہمیں کچھ نہیں مل سکا ۔

 

پھر اس کے بعد ہم نےشاہ ولی اللہ کے شاگر د ” قاضی ثناء اللہ پانی پتی ” کی ” تفسیر مظہری کو دیکھا تو انہوں نے اس ب کے متعلق لکھا تھا ۔

والباء للمصاحبة او الاستعانة او التبرك

ترجمہ:

بسم اللہ کی ب مصاحبت ، استعانت یا تبرک کیلئے ہے ۔

 

 

اب تک کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ بسم اللہ کی ب کو زائدہ بھی مانا جاسکتا ہے اور الصاق ،استعانت ،مصاحبت اور ملابست کیلئے ماننابھی جائز ہے۔

 

اس سے اگلی اقساط میں ہم بسم اللہ کی  ب کے متعلق مزید  بحث کریں گے ۔

ان شاء اللہ

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے