بسم اللہ کی تفسیر قسط نمبر چھ

اس  قسط  میں ہم عربی زبان کے حرف ب کے دو معانی بدل اور مقابلے کے متعلق گفتگو کریں گے ۔

 

حرف ب بدل کے معنی میں کیسے استعمال ہوتا ہے ؟

حرف ب جب بدل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو وہ دو چیزوں میں سے ایک چیز کو دوسری پر اختیار کرنے   پر دلالت کرتا ہے لیکن یاد رہے یہ بلاعوض اور بلا مقابلہ ہوتا ہے ۔

اس کی مثال یہ حدیث ہے :

ما يَسُرُّني بها حُمْرُ النّعَم

ترجمہ:

مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ اس کے بدلے میرے پاس سرخ اونٹ ہوتے ۔

 

اس کی مثال بعض  افراد کا یہ  قول بھی ہے :

ما يَسُرُّني أني شَهِدتُ بَدْراً بالعقبة

ترجمہ:

مجھے یہ بات خوش نہیں کرتے کہ میں عقبہ کے بدلے بدر میں حاضر ہوتا ۔

 

نوٹ :

اس صورت میں ب کا جگہ بدل کے لفظ کو رکھا جا سکتا ہے ۔

 

حرف ب عوض یا مقابلہ کے لیے کیسے استعمال ہوتا ہے ؟

حرف ب جب عوض یا مقابلہ کیلئے استعمال ہوتاہے تو یہ ایک چیز کے عوض دوسری چیزکے ہونے پر دلالت کرتاہے ۔

اس کی مثال یہ ہے :

خُذِ الدارَ بالفرسِ

ترجمہ:

تم گھوڑے کے بدلے گھر کو لے لو ۔

اس کی قرآنی مثال یہ ہے :

سورت البقرۃ آیت نمبر چھیاسی میں ہے

اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ

ترجمہ:

انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا ۔

 

بسم اللہ کی تفسیر قسط نمبر سات کیلئے یہاں کلک کریں 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے