بسم اللہ کی تفسیر

قسط نمبر پانچ

اس قسط میں ہم عربی زبان کے حرف ب کے دو معانی مصاحبت اور ظرفیت  کے متعلق گفتگو کریں گے ۔

 

عربی زبان کا حرف ب اور مصاحبت کا معنی:

ب مصاحبت كیلئے جب استعمال ہوتی ہے تو اس کا معنی مع والا ہوتا ہے ۔

مع کا معنی سمجھنے کیلئے یہ آیت ہمیشہ یاد رکھیں

ان اللہ مع الصابرین

ترجمہ:

بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔

اب آپ کے سامنے وہ مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں ب مصاحبت کیلئے استعمال ہوئی ہے ۔

بعتُكَ الفَرَسَ بسرجهِ والدارَ بأثاثها

ترجمہ:

میں نے تمہیں گھوڑا، اسکی زین کے ساتھ  اور گھر اسکے سامان کے ساتھ بیچ دیا ۔

اس کی قرآنی مثال یہ ہے

سورت ھود آیت نمبر اڑتالیس میں ہے :

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ

ترجمہ :

فرمایا گیا اے نوح (علیہ السلام ) آپ (کشتی سے ) اتر یں ہماری طرف سے سلامتی اور برکات کے ساتھ ۔

اس کی دوسری قرآنی مثال یہ ہے

سورت المائدۃ آیت نمبر اکسٹھ میں ہے :

وَإِذَا جَاءُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَقَدْ دَخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ

ترجمہ:

اور جب  وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں حالانکہ وہ کفر کے ساتھ ہی داخل ہوئے تھے اور کفر کے ساتھ ہی نکلے ہیں ۔

اسکی تیسری قرآنی مثال یہ ہے

سورت الحجر آیت نمبر اٹھانوے میں ہے :

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ

ترجمہ:

پس آپ تسبیح کریں اپنے رب کی حمد کے ساتھ ۔

توجہ طلب :

اللہ تعالی کے اس حکم پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمل کرتے ہوئے یہ ذکر کیا کرتے تھے ۔

سبحان اللہ و بحمدہ

نوٹ:

یہاں مصاحبت کے ساتھ الصاق والا معنی بھی خاصا نمایاں ہے ۔

 

عربی زبان کا حرف ب اور ظرفیت کا معنی:

ب ظرفیت کے معنی میں بھی استعمال ہوتی ہے ،اس وقت اس کا معنی فی جیسا ہی ہوتا ہے ۔

اس کی قرآنی مثال یہ ہے :

سورت آل عمران آیت نمبر ایک سو تئیس میں ہے

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ

ترجمہ :

اور بے شک اللہ تمہاری بدر میں مدد کر چکا ہے جب تم بہت کمزور تھے ۔

اسکی دوسری قرآنی مثال یہ ہے

سورت طہ آیت نمبر بارہ میں ہے :

فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى

ترجمہ:

(اے موسی علیہ السلام ) آپ اپنے جوتے اتار دیجیے (کیونکہ) بے شک آپ مقدس وادی طوی میں ہیں ۔

اسکی تیسری قرآنی مثال یہ ہے

سورت القمر آیت نمبر چونتیس میں ہے

إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ نَجَّيْنَاهُمْ بِسَحَرٍ

ترجمہ:

بے شک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی اندھی بھیجی سوائے لوط (علیہ السلام ) کے گھر والوں کے (کیونکہ ) ہم نے ان کو سحر کے وقت بچا لیا تھا ۔

توجہ طلب :

اوپر والی دونوں مثالیں ظرف مکان کی ہیں تیسری مثال ظرف زمان کی ہے ۔

بسم اللہ کی تفسیر کی چھٹی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے