بسم اللہ کی تفسیر

قسط نمبر چار

اس قسط میں ب کے دو معانی بیان کیے گئے ہیں ۔استعانت اور تعلیل ۔

عربی زبان کا حرف ب اور استعانت کا معنی:

ب کا تیسرا معنی استعانت ہے،  استعانت مدد طلب کرنے کو کہتے ہیں ، جب ب استعانت کے معنی میں استعمال ہوتی ہےتو  اس وقت جس سے مدد طلب کی جائے ب اس پر داخل ہوتی ہے اور اسے مجرور کر دیتی ہے ۔

جیسے

کتبت بالقلم

میں نے قلم کی مدد سے لکھا ۔

اس  مثال کو یوں سمجھ لیں کہ فاعل نے اپنے مجرورقلم  سے   لکھنے کےلیے مدد مانگی ہے ۔

اس كی قرآن كریم سےملاحظہ فرمائیں

سورت البقرہ آیت نمبر بیالیس میں ہے

وَلا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْباطِلِ

ترجمہ:

حق کو باطل کی مدد سے خلط ملط نہ کرو ۔

کچھ علماء کرام کے نزدیک یہاں ب استعانت کیلئے ہے ،مذکورہ بالا ترجمہ بھی ب کو استعانت کیلئے سمجھ کر ہی کیا گیا ہے ۔

اگر ب کو ملابست کیلئے مانا جائے تو ترجمہ اس طرح کیا جاسکتا ہے ۔

حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو۔

یا

حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ ۔

یہ بات یاد رہے کہ اس مقام پر زیادہ  تراہل علم نے ب کا معنی استعانت والا نہیں کیا ۔

ب اور سبب یا تعلیل

 ب تعلیل یا سبب کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے ،اس وقت یہ سببِ فعل یا اس علت پر داخل ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ کام ہوا ۔

اس کی مثال یہ ہے

مات بالجوع

ترجمہ:

وہ بھوک کی وجہ سے مر گیا ۔

یہاں مرنے کی وجہ بھوک ہے ۔

اسکی دوسری مثال یہ ہے

عرفنا بفلان

ترجمہ:

ہم فلاں کی وجہ سے پہچانے گئے ۔

اب قرآن کریم سے اسکی چند مثالیں آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں

سورت البقرہ آیت نمبر چوون میں ہے

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ

ترجمہ:

اور جب موسی (علیہ السلام ) نے اپنی قوم سے فرمایا

اے میری قوم !

بے شک تم نے  بچھڑے کو (معبود )بنانے کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ۔

قرآن کریم میں اس کی دوسری مثال یہ ہے

سورۃ المائدہ آیت نمبر تیرہ میں ہے

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً

ترجمہ:

پس ان کی بدعہدی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کے دلوں کو سخت بنا دیا ۔

قرآن کریم میں اس کی تیسری مثال یہ ہے

سورت عنکبوت آیت نمبر چالیس میں ہے

فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ

ترجمہ:

(قارون ،فرعون اور ہامان ) پس ان میں سے ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کی وجہ سے پکڑا ۔

اس سے اگلی قسط میں ہم ان شاء اللہ ب کے مزید معنوں کے متعلق بات کریں گے ۔

بسم اللہ کی تفسیر کی پانچویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں ۔