مطلوبہ عنوان تک فورا جانے کیلئے یہاں کلک کریں hide

بسم اللہ کی تفسیر قسط نمبر تین

اس قسط میں ہم عربی زبان کے حرف ب کے  تعدیہ کے معنی کے متعلق گفتگو کرین گے ۔

عربی زبان کا حرف ب اور تعدیہ کا معنی:

حرف ب تعدیہ کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے۔

تعدیہ کی تعریف:

تعدیہ سے مراد یہاں یہ ہے کہ فعل لازم کو ب کے ذریعے فعل متعدی بنا دیا جاتا ہے۔

ہمزہ اور حرف ب کا تعدیہ:

ب کا تعدیہ بھی ہمزہ ہی کی طرح ہوتا ہے ،اس وقت بھی فاعل مفعول بن جاتا ہے ۔

ہمزہ  کیسے فعل لازم کو فعل متعدی بناتا ہے  اور اس وقت کیسے فاعل مفعول بن جاتا ہے ۔

اس کو مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کریں۔

یہاں خرج اور اخرج کا فرق واضح کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔

خرج اور اخرج کے معنی میں فرق :

خرج ایک فعل لاز م ہے ،اگر خرج کے شروع میں ہمزہ کا اضافہ کر دیا جائےاور اسے اخرج بنا دیا جائے تو یہ فعل  لازم سے متعدی ہو جاتا ہے اور اس کا  معنی بھی بدل جاتا ہے ۔

خرج کا معنی ہے وہ ایک شخص نکلا  اور اخرج کا معنی ہے اسے کسی دوسرےنے نکالا ۔

اب اس کی قرآن کریم سے مثالیں ملاحظہ فرمائیں

سورۃ البقرہ کی آیت نمبر دو سو ترتالیس میں ہے :

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ

اس آیت کا ترجمہ یہ ہے :

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ہزاروں میں تھے اور (طاعون کی ) موت کے ڈر (کی وجہ ) سے اپنے گھروں سے نکلے تھے ،اللہ تعالی نے ان سے فرمایا ،مر جاؤ،پھر انہیں (اپنے نبی کی دعا کی وجہ سے دوبارہ ) زندہ کر دیا تھا ۔

اس آیت میں خرجوا فعل ہے جس کا معنی ہے: وہ نکلے ۔

اس آیت کا پس منظر خاصا دلچسپ ہے اس لیے اس کو بیان کر دیتے ہیں پھر ہم دوبارہ اپنے اصل موضوع کی طرف چلتے ہیں ۔

اللہ کے نبی حزقیل علیہ السلام کی دعا سے مردے زندہ ہو گئے:

تفسیر جلالین کے مطابق یہ بنی اسرائیل کی قوم تھی ،ان کے علاقے میں طاعون کی وباء آگئی تھی ،یہ اس سے فرار ہو رہے تھے تو اللہ تعالی نے ان سے فرمایا مرجاؤ، یہ مر گئے تو پھر ان کے نبی نے ان کے لیے دعا کی ، انہیں ان کے نبی حضرت حزقیل علیہ السلام کی دعا سے دوبارہ زندہ کر دیا گیا  تھا ۔

کرونا اور طاعون کی بیماری ایک ہی جیسی ہے:

کرونا کی بیماری اور طاعون کی بیماری میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔

لوگ دونوں سے بہت  خوفزدہ ہو تے ہیں  ،ان دونوں سے فرار کی کوشش کرتے ہیں اوریہ دونوں ہی بظاہر متعدی بیماریاں بھی  ہیں ،ہم نے کرونا ہی کی مناسبت سے اسے قدرے تفصیل سے ذکر کر دیا ہے ۔

اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف واپس  چلتے ہیں اور آپ کے سامنے قرآن کریم سے اخرج کی مثال پیش کرتے ہیں ۔

سورۃ الاعراف کی آیت نمبر ستائیس میں ہے :

يَابَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ

اس آیت کا ترجمہ یہ ہے :

اے بنی آدم شیطان تمہیں فتنہ میں نہ مبتلا کر دے جیسا کہ اس نے جنت سے تمہارے والدین کو بھی نکلوا دیا تھا ۔

اس آیت  میں اخر ج  فعل استعمال ہوا ہے ،جس کا معنی ہے ،اس ایک نے نکالا ۔

یعنی خرج کا مطلب ہے وہ خود نکلے ،اخرج کا مطلب ہے   وہ خود نہیں نکلے بلکہ انہیں کسی دوسرے نے نکالا ہے ۔

اب یقینا آپ کو سمجھ آگئی ہو گی کہ ہمزہ کی وجہ سے فاعل کیسے مفعول بن جاتا ہے ۔

دخل اور ادخل  كا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔ ہم آپ کی سہولت کیلئے دخل اور ادخل کی  مثالیں بھی قرآن کریم سے بیان کر دیتے ہیں تاکہ اس کا فرق بھی آپ کے سامنےو اضح ہو جائے ۔

دخل اور ادخل کا فرق :

دخل  فعل لازم ہے اور ادخل فعل متعدی ہے ،دخل کا معنی ہے وہ داخل ہوا،ادخل کا معنی ہے اس نے داخل کیا۔

دخل کی قرآن کریم سے مثال ملاحظہ فرمائیں  

سورۃ نوح آیت نمبر اٹھائیس میں حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق ہے کہ انہوں نے  یہ دعا مانگی تھی۔

رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا

اس آیت کا ترجمہ یہ ہے :

اے میرے رب!

 مجھے بخش دے ،میرے والدین کو بخش دے اور جو میرے گھر میں حالت ایمان میں داخل ہوا اسے  بھی بخش دے ۔

اب ادخل کی مثال قرآن کریم سے ملاحظہ فرمائیں

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ

اس آیت کا ترجمہ یہ ہے :

اور اگر اہل کتاب (محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر ) ایمان لاتے اور (کفر  سے ) بچتے  تو ہم ضرور ان کے گناہ بخش دیتے اور ضرور انہیں   نعمتوں والی جنت میں داخل کر دیتے۔

آپ نے دخل  اور ادخل کا معنوی فرق جان لیا ہے۔

یہاں ایک دوسری بات بھی بڑی قابل توجہ ہے ،اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہم آپ کے ذہن کو اس طرف بھی لے جاتے ہیں ۔

اہل کتاب سے متعلق ایک اہم سوال :

اہل کتاب یعنی یہود و نصاری وغیرہ  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان  نہیں لائے تو کیا وہ جنت میں جا سکتے ہیں؟

اگر کوئی آپ سے یہ سوال پوچھے تو آپ اسے جواب میں یہ آیت سنا دیجیے گا ،اسے اسلام کا حقیقی موقف معلوم ہو جائے گا ،اب بھی اس آیت پر غور کریں ،آپ کو کچھ سوالات کے جوابات خود بخود ہی مل جائیں گے ۔

چلیں ہم واپس اپنے موضوع کی طرف چلتے ہیں ،آپ نے ہمزہ کا تعدیہ تفصیل سے سمجھ لیا ہے ۔

حرف ب کا تعدیہ:

اب ہم ب کا تعدیہ آپ کو سمجھاتے ہیں ،ذھب ایک  فعل لازم ہے ،اس کا معنی ہے وہ گیا ،اگر اس کے ساتھ ب آجائے تو یہ فعل لازم سے متعدی ہو جاتا ہے ،اس کا معنی بھی بدل جاتا ہے ۔

مثلا

ذھب زید کا معنی ہے زید گیا اور ذھب بزید کا مطلب ہے  وہ زید کو لے گیا ۔

ھمزہ اور حرف ب کے تعدیہ میں فرق:

بعض علماء کرام نے ایک بڑی دل چسپ بات لکھی ہے ،وہ کہتے ہیں  کہ ہمزہ اور ب کے تعدیہ میں ایک فرق ہے۔

وہ یہ ہے کہ جب ب کے ذریعے متعدی کیا جائے تو اس وقت فاعل فعل میں مفعول کا مصاحب بن جاتا ہے

آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ وہ بھی کام میں اس کا ساتھی بن جاتا ہے ۔

جیسے

اگر آپ کہتے ہیں

ذھبت بزید ۔

تو اس صورت میں آپ بھی جانے میں اس کے ساتھ ہیں۔

اس بات کا لطف آپ  قرآن کریم کی اس آیت سے اٹھا سکتے ہیں جو نزول قرآن کے حوالے سے ہے ۔

سورت الشعراء کی آیت نمبر ایک سو ترانوے میں ہے

نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ

اس کا ترجمہ یہ ہے :

اسے روح امین لے کر اترے ۔

فائدہ:

یعنی جبریل نزول میں شریک سفر تھے ۔

اس کا فائدہ آپ کو اس مثال میں بھی صاف نظرا ٓئے گا ،جس میں یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینکنے کا تذکرہ ہے ،اس وقت ان کے بھائی شریک فعل تھے ۔

سورت یوسف کی آیت نمبر پندرہ میں ہے

فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهِ وَأَجْمَعُوا أَنْ يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَتِ الْجُبِّ

اس کا ترجمہ یہ ہے:

پھر جب وہ (سب )بھائی یوسف علیہ السلام کو لے گئے اور انہوں نے عزم مصمم کے ساتھ اجماع کر لیا کہ وہ انہیں  گہرے تاریک کنویں میں پھینک دیں گے ۔

لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے جس کی وجہ سے علماء نے لکھا ہے کہ جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے۔

وہ یہ لازمی نہیں سمجھتے  کہ جب ب سے تعدیہ کیا جائے تو اس وقت  فاعل بھی مفعول کا شریک فعل اور مصاحب ہو ۔

اس کی وجہ ان جیسی آیات ہیں

قرآن کریم میں ہے

ذھب اللہ بنورھم

اللہ ان کے نور کے لے گیا ۔

سورت الاسراء کی آیت نمبر ایک ہے :

یہاں بھی بعبدہ کی ب تعدیہ کیلئے ہے

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

اس آیت کا ترجمہ یہ ہے :

پاک ہے وہ ذات جو لے گیا اپنے بندےكو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تك ۔

یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی کی ذات اس سے منزہ ہے اورباقیوں پر اس  قاعدے کا اطلاق ہوتا  ہے۔

یہ تسلیم کر لینا بھی  ٹھیک ہے کہ ہم جمہور کے مذہب کے ساتھ ہیں اور اس قاعدے کو تسلیم نہیں کرتے۔

زمخشری نے ایک مقام پر یہ قاعدہ صرف ذھب کے متعلق لکھا ہے جبکہ بعض علماء نے مطلقا ہی اسے بیان کیا ہے ۔

یہ قسط آپ کو کیسی لگی ہے ،اگر کوئی بات سمجھ نہیں آئی تو آپ کمنٹ میں پوچھ سکتے ہیں ۔

بسم اللہ کی تفسیر کی چوتھی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

4 thoughts on “بسم اللہ کی تفسیر قسط نمبر تین || حرف جار ب اور تعدیہ کا معنی”
  1. ماشااللہ بھائی بہت مفید قسط ہے، بہت سی نئی باتیں آسان انداز میں سمجھ آ گئی۔
    اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین💕

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے