بسم اللہ کی تفسیر قسط نمبر ایک :

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

سب سے پہلے  ہم حرف ب  کے متعلق بات کریں گے ۔

عربی زبان کا حرف ب:

ب عربی زبان کا ایک حرف ہے اور عربی زبان میں بہت سے حروف ہیں، ان کے مختلف معانی ہیں،وہ الگ الگ طریقے سے عمل کرتے ہیں، ان کی الگ الگ خصوصیات ہیں ۔

حرف ب عربی زبان کے ان حروف میں سے ہے جنہیں حروف جر یا حروف جارہ کہتے ہیں۔

 

حروف جارہ کی تعریف:

حروف جارہ وہ حروف ہیں ،جو جر دینے کا کام کرتے ہیں،یاد رکھیں یہ ہمیشہ اسم سے پہلے آتے ہیں  اور اپنے مابعد اسم کے آخری سرے پر زیر دیتے ہیں۔

 

جیسے کہ  قرآن کریم میں ہے

الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ

اس آیت مبارکہ میں الغیب سے پہلے ب حرف جار آیا ہے ،اسی "ب” کی وجہ سے اس کے آخر میں زیر آئی ہے۔

ہم آپ کی آسانی کیلئے یہاں مزید دو مثالیں بھی قرآن کریم سے پیش کر دیتے ہیں ۔

أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

اس آیت مبارکہ میں اسماء سے پہلے ” ب ” حرف جار موجود ہے ،اسی کی وجہ سے اسماء کے آخر میں زیر آئی ہے۔

مزید ایک قرآنی مثال دیکھیں

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ

اس  آیت مبارکہ میں الباطل سے پہلے ” ب” حرف جار ہے ،اسی کی وجہ سے الباطل کے آخر میں زیر آئی ہے ۔

 

عربی زبان میں حرف ب کے معانی:

 عربی زبان میں حروف کے بھی معانی ہوتے ہیں، ب کے بھی بہت سے معانی ہیں ، ان معانی کا تعین موقع و محل کی مناسبت سے کیا جاتا ہے ۔

چند مثالوں سے اسے سمجھنے کی کوشش کیجیے

آپ نے یہ مثال سن رکھی ہو گی

بیدک الخیر

ا س مثال کا ترجمہ  یہ ہے

تیرے ہاتھ میں بھلائی ہے

یہاں حرف ب، حرف فی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

اسی طرح  ب کی دوسری مثال دیکھیں

قرآن کریم میں ہے

وَإِذ فرقنا بكم الْبَحْر

اس مثال کا ترجمہ یہ ہے

اور جب ہم نے تمہارے لیے سمندر كو پھاڑ دیا

اس مثال میں حرف ب حرف ل کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

ب بمعنی ل کی ایک اور  مثال یہ بھی ہے

قرآن کریم میں ہے

مَا خلقناهما إِلَّا بِالْحَقِّ

ترجمہ:

ہم نے ان دونوں کو حق کیلئے بنایا ہے۔

حرف ب استعانت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس کی مثال ملاحظہ فرمائیں

کتبت بالقلم

اس مثال کا ترجمہ یہ ہے

میں نے قلم کی مدد سے لکھا

یہاں ب استعانت کے معنی میں ہے

حرف ب کبھی عند کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں ہے

والمستغفرين بالأسحار

اس مثال کا ترجمہ یہ ہے

اور سحری کے وقت مغفرت طلب کرنے والے 

اس مثال میں ب عند کے معنی میں استعمال ہوئی ہے ۔

یہ آیت مبارکہ میں ایک اصلاحی پہلو ہے،اس لیے ہم اسکی مختصر سی تفسیر بھی بیان کر دیتے ہیں۔

اس آیت کے متعلق امام نسفی لکھتے ہیں:

وخص الأسحار لأنه وقت إجابة الدعاء ولأنه وقت الخلوة

سحری کے وقت کو اس لیے خاص کیا گیا ہے کیونکہ یہ دعا کی قبولیت اور خلوت و تنہائی کا وقت ہے۔

توجہ طلب:

ہمیں اس وقت کی قدر کرنی چاہیے۔

 

حرف ب کی دو اقسام:

یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ عربی زبان میں حرف ب کی دو اقسام ہیں۔

زائدہ اور غیر زائدہ ۔

عربی زبان میں حرف ب کے کتنے معانی ہو سکتے ہیں؟

حرف ب جو زائدہ نہ ہو بلکہ غیر زائدہ ہو، نحویوں کے نزدیک اس کے تیرہ معانی ہو سکتے ہیں ۔

 حرف ب  جن تیرہ معانی میں استعمال ہو سکتی ہے ،وہ درج ذیل ہیں

الصاق ،تعدیہ ،استعانت،تعلیل ،مصاحبت ،ظرفیت ،بدل ،مقابلہ ،مجاوزت ،استعلاء ،تبعیض ،قسم اور بمعنی الی۔

حرف ب کے تیرہ معانی کی تفصیل اگلی اقساط میں آرہی ہے

بسم اللہ کی تفسیر کی قسط نمبر دو دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں ۔

۔۔

2 thoughts on “بسم اللہ کی تفسیر قسط نمبر ایک || حرف جار ب کے تیرہ معانی”
  1. السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
    آپ کے کام سے دلی خوشی ہوئی, میں بھی اسلامیات کا طالب علم ہوں, اگر آپ مناسب سمجھیں,تو ان شاءاللہ تکنیکی اور علمی ہر دو حوالوں سے آپ کی بھرپور مدد کروں گا, نیک نیتی سے چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں:
    آیات مبارکہ کو رسم عثمانی کی رعایت رکھتے ہوۓ, عربی رسم الخط میں تحریر فرمائیں
    آیات مبارکہ کا مکمل حوالہ درج کرنے کا بھی اہتمام فرمائیں
    جن شخصیات کے اقوال نقل کئے ہیں ان کا اور ان کی مذکورہ کتب کا جامع تعارف تحریر فرمائیں (یہ کام اصل تحریر کو طول دئیے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے)
    اصطلاحات کی تعریفات بھی باحوالہ درج فرمائیے
    مثالوں میں عام عبارتوں کی بجاۓ قرآن کریم, احادیث مبارکہ, اقوال صحابہ اور نصیحت آموز اشعار وغیرہ کو ترجیح دیجئے
    اگر ہو سکے تو ترجمے کا اہتمام بھی کیجئے
    ایدک اللہ بروح القدس و نفعنا بک

  2. وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    تنویر بھائی
    آپ کی تمام باتیں بہت عمدہ ہیں،انہیں پڑھ کر بہت خوشی ہوئی، ان شاء اللہ میں آئندہ اہم باتوں کا مکمل حوالہ دینے کی کوشش کروں گا،عربی رسم الخظ کیلئے فی الحال کچھ مسائل ہیں،ان شاء اللہ جلد اس خامی کو بھی دور کر دیا جائے گا۔
    تنویر بھائی اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے ،آپ کے مشوروں اور تبصروں کا آئندہ بھی انتظار رہے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے