ابن حجر عسقلانی کی کتاب المنبھات :

از

احسان اللہ کیانی

احتشام فاروقی صاحب نے مجھےچند کتب تحفے میں دی ہیں ،ان میں سے ایک کتاب  "المنبھات”ہے ،جو امام ابن حجر عسقلانی کی تالیف ہے ،اس کا ترجمہ مولانا محمد ذوالفقار علی نعیمی صاحب نے کیا ہے ،جو جامعہ نعیمیہ ،لاہور میں مدرس ہیں ،یہ کتاب جامعہ کے مکتبے نے چھاپی  ہے ،یہ ترجمہ کل 142صفحات پر مشتمل ہے ۔

 

اس کتاب کی ترتیب بہت خوبصورت ہے

 

کل نوباب ہیں :

پہلے باب میں وہ روایات ہیں ،جن میں دودو چیزوں کا ذکر ہے ۔

دوسرے باب میں وہ روایات ہیں ،جن میں تین تین چیزوں کا ذکر ہے ۔

تیسرے باب میں چار چار،پھر بالترتیب پانچ پانچ ،چھ چھ ،سات سات ،آٹھ آٹھ ،نونو چیزوں کا ذکر ہے ۔

جبکہ آخری باب میں دس دس چیزوں کا ذکر ہے ۔

 

چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں :

 

دو دو باتیں :

حضرت اعمش فرماتے ہیں :

جس کا اصل سرمایہ تقوی ہو لوگوں کی زبانیں اسکی تعریف کرتے ہوئے تھک جاتی ہیں

اور

جس کا اصل سرمایہ (مقصود زندگی )دنیا ہو ،لوگوں کی زبانیں اس کے دینی نقصان کو بیان کرتے ہوئے تھک جاتی ہیں ۔

 

حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں :

ہر وہ گناہ جو خواہش نفس سے سرزد ہو ،اسکی بخشش کی امید کی جا سکتی ہے

 اور

 ہر وہ گناہ جو تکبر کی وجہ سے ہو اسکی بخشش کی امید نہیں

اس لیے کہ ابلیس کی نافرمانی تکبر کی وجہ سے تھی اور حضرت آدم علیہ السلام کی لغزش کی وجہ سے تھی ۔

 

قول :

جس نے گناہ کرنا چھوڑ دیا ،اس کا دل نرم ہو گیا

اور

جس نے رزق ِحرام کو چھوڑا اور حلال کھایا ،اسکی فکر میں پاکیزگی آجاتی ہے ۔

 

حدیث :

تمام گناہوں کی بنیاد دنیا کی محبت ہے

اور

تمام فتنوں کی بنیاد عشر (زکوۃ ) کا نہ ادا کرنا ہے ۔

 

تین تین باتیں :

قول علی رضی اللہ عنہ :

دنیا کی نعمتوں میں سے تم کو اسلام ہر نعمت سے بے نیاز کرنے کے لئےکافی ہے ۔

مشغولیات میں صرف اللہ کی اطاعت کافی ہے ۔

عبرت حاصل کرنے کیلئے تم کو موت کافی ہے ۔

 

حدیث :

تین لوگوں کو عرش کا سایہ نصیب ہوگا ۔

تکلیف کی حالت میں وضو کرنے والا

رات کی تاریکی میں مسجد جانے والا

بھوکے کو کھانا کھلانے والا

 

حضرت ابرہیم علیہ السلام سے پوچھا گیا ،آپ خلیل اللہ کیسے بنے ؟

فرمایا :تین چیزوں کیوجہ سے

میں نے غیر کے معاملے پر ،اللہ تعالی کے معاملے کو ترجیح دی ۔

میں نے خود اس چیز کی فکر نہ کی ،جس کا ذمہ خود اللہ تعالی نے لیا ہوا ہے ۔

میں نے صبح و شام کبھی مہمان کے بغیر کھانا نہ کھایا ۔

 

حضرت ابراہیم نخعی فرماتے ہیں :

پہلے لوگ تین عادتوں کیوجہ سے ہلاک ہوئے

بے فائدہ کلام کرنے سے (زیادہ بولنے سے)

زیادہ کھانے سے

زیادہ سونے سے

 

اس کتاب کا اردو ترجمہ مفتی اکمل صاحب نے بھی کیا ہے،میرے نزدیک وہ ترجمہ زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں بہت سے مقامات پر روایات کی وضاحت بھی موجود ہے ۔

 

 

 

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے