افغان طالبان کیوں جیت گئے ؟ || Afghan Taliban kyo jeet gay

سوال:

افغان مجاہدین کس طرح  روس اور امریکہ سے جیت گئے اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب:

میری رائے کے مطابق افغان مجاہدین اسلحہ  کی وجہ سے نہیں جیتے کیونکہ ان کے مقابلے میں روسیوں اور امریکیوں کے پاس زیادہ جدید اور زیادہ تباہ کن اسلحہ تھا ،افغان مجاہدین  تعداد کی زیادتی کی وجہ سے بھی نہیں جیتے کیونکہ ان کے مقابلے میں دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی ،یہ  افغانی ہونے کی وجہ سے بھی نہیں جیتے کیونکہ جن  سرکاری فوجیوں نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیے وہ بھی افغان  قوم سے ہی  تعلق رکھتے تھے ۔

افغان مجاہدین  اللہ کی مدد کی وجہ سے جیتے :

میرے رائے میں یہ جہاد کے بنیادی تقاضے پورے کرکے لڑ رہے تھے ،اس لیے اللہ تعالی نے ان کی غائبانہ مدد کی اور یہ جیت گئےیاد رہے کہ قرآن کریم کے مطابق  جہاد میں اللہ تعالی اَن دیکھے لشکروں سے مسلمانوں کی مدد کرتا ہے ،اَن دیکھے لشکروں میں فرشتے بھی شامل ہوتے ہیں اور دیگر طریقوں سے بھی مدد کی جاتی ہے مثلا  کبھی دشمن کے دلوں پر دہشت اور رعب کو طاری کر دیا جاتا ہے ،کبھی  دشمن کی نظر میں مسلمانوں کی تعداد بڑھادی جاتی ہے ،کبھی ہواؤں اور بارشوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد کی جاتی ہے ،اس طرح کے بے شمار واقعات افغانستا ن میں بھی رونما ہوئےجو ان کی فتح کا باعث بنے ہیں ،ہم آپ کی خدمت میں مثال کے طور پر دو واقعات پیش کر رہے ہیں ۔

افغان مجاہدین اور بارودی سرنگیں :

 ایک مرتبہ دشمن کی فوجوں نے افغان مجاہدین کے علاقے کے ارد گرد بارودی سرنگیں بچھاد ی تاکہ وہ پیش قدمی نہ کر سکیں ،جب بھی کوئی افغان مجاہداس طرف جانے لگتا تو بارودی سرنگ پھٹ جاتی اور وہ شہید ہوجاتا یا شدید زخمی ہو جاتا ،افغان مجاہدین کے لیے یہ بارودی سرنگیں بڑی روکاٹ بنی ہوئی تھی اور وہ اس سے شدید پریشان بھی تھے لیکن اس سے نجات حاصل کرنے کا بظاہر کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا پھر اللہ تعالی نے ایک دن ان کی مدد اس طرح فرمائی کہ بہت تیز بارش بھرسا دی ،ایسی بارش اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی ،جب بارش رکی تو دشمن کی بارودی سرنگیں مٹی سے باہر دکھائی دے رہی تھی جنہیں افغان  مجاہدین نے آسانی سے  ناکارہ بنادیا۔

افغان مجاہدین اور ٹینکوں کا محاصرہ :

ایک مرتبہ دشمن کی فوج نے افغان مجاہدین کو محاصرے میں لے لیا ،مجاہدین تین طرف سے دشمن سے گرے ہوئے تھے اور ایک طرف نالہ تھا ،تین دن دشمن سے جنگ کی تاکہ دشمن کا محاصرہ ٹوٹ جائے لیکن  فتح نہیں ملی ،کمانڈر نے سب  ساتھیوں کو جمع کرکے کہا ،ہم اپنے طور پر کوشش کر چکے ہیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا ،اس  لیے اب  مل کر اپنے رب سے دعا کرتے ہیں  تاکہ وہ اس مسئلے کو حل کر دے  ،سب نے اللہ تعالی سے دعا کی تو اللہ تعالی نے کچھ ہی لمحوں بعد بادل بھیجے جوخوب بھرسے اور پھر دھند چھا گئی،دھند اس قدر زیادہ تھی کہ چند فٹ سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا ،افغان کمانڈر نے یہ منظر دیکھا تو کہا ،اللہ نے تمہاری سن لی ہے ،سامان اٹھاؤ اور چپ چاپ نکل جاؤ ، افغان مجاہدین اس دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے  اپنا سازو سامان اٹھا کر نکل گئےا وردشمن کو خبر بھی نہیں ہوئی ، جب دھند ختم ہوئی تو دشمن حیران رہ گیا کہ وہ کیسے نکل گئے۔

اس طرح کے بہت سے واقعات آپ کو مولانا محمد انور بن اختر صاحب کی کتاب میں مل جائیں گے جس کا نام ہے ،مجاہدین کے ساتھ اللہ کی مدد کے سچے واقعات ۔

از

احسان اللہ کیانی

 

نوٹ:

 پوسٹ کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کمنٹ باکس میں ضرور کریں نیز آپ کمنٹ کے ذریعے سوال بھی پوچھ سکتے ہیں جس کا جواب چند دن بعد  پوسٹ کر دیا جائے گا ۔

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے