سوال:

کیا حسام الحرمین کی مخالفت کبھی کسی بریلوی عالم نے کی ہے ؟

جواب :

جی ہاں !

آج بھی بہت سے علماء کرام حسام الحرمین کےمخالف ہیں ،پہلے بھی بہت سےعلماء حسام الحرمین کے مخالف تھے لیکن عوامی رد عمل کے خوف سے اس کا اظہار نہیں کرتے البتہ کچھ علماء کرام تھے جنہوں نے  پہلے بھی کھل کر اس کی مخالفت کی۔

مفتی خلیل احمد خان قادری برکاتی صاحب بھی ایسے ہی علماء میں سے تھے ،جنہوں نے کھل کرحسام الحرمین کی مخالفت کی ،آپ نے مکمل ایک کتاب فاضل بریلوی کے اس فتوےکے رد میں لکھی ،جس کا نام انکشاف حق ہے ،مفتی خلیل احمد خان قادری برکاتی صاحب ظفر العلوم مدرسے کے سربراہ تھے،یہ مدرسہ یوپی ،ہند میں واقع تھا ۔

Inkishaf e Haq Book on Hassam ul harameen by Mufti Khalil Ahmed Qadri Barakati

اس کتاب سے چند اہم جملے میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس کتاب میں مفتی خلیل قادری صاحب نے کیا کیا لکھا ہے ۔

۱۔مفتی صاحب نے کتاب کے شروع میں لکھا ہے کہ حق اور ناحق کو معلوم کرنے کا میزان شریعت ہے ۔

۲۔مفتی صاحب کہتے ہیں میں حتی الامکان اپنے معاملات کو شریعت کے میزان پر تول کر صحیح و غلط کو معلوم کرتا ہوں،حق واضح ہونے پر فورا اسے اختیار کر لیتا ہوں ،سیاسی اورمذہبی معاملات میں میرا یہی طریقہ ہے ۔

۳۔مفتی صاحب لکھتے ہیں سب جانتے ہیں کہ میرا مسلک علماء دیوبند کی تکفیر کے معاملے میں وہی تھا جو فاضل بریلوی اور ان کے متبعین کا ہے ،اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے ان کی تحریروں پر اعتماد تھا اور کبھی ذاتی تحقیق کا موقع نہیں مل سکا ۔

۴۔مفتی صاحب لکھتے ہیں میں نے جب ان فتوؤں اور تحریروں کو غور سے پڑھا تو مجھے ان میں بہت سی کمزوریاں اور شرعی نقائص نظر آئے،اس لیے میں اب انہیں کافر نہیں کہتا کیونکہ مسلمان کو کافر کہنے کا معاملہ بہت سخت ہے ۔

۵۔مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے بریلی کے فتوی تکفیر پر غور کیا تو ان کے اعتبار سے ہندوستان اور بیرون ہند لاکھوں بلکہ کروڑوں مسلمان خارج از اسلام اور کافر ٹھہرتے ہیں۔

۶۔ناظرین انصاف سے بتائیں جو نبی تمام جہانوں کیلئے رحمت بن کر آئے ہو ،جن کی رحمت سے دوست اور دشمن  حسب حال فیض یاب ہوئے ہوں کیا ایسے نبی کی شریعت نے یہ اجازت دی ہے کہ کلمہ پڑھنے والوں ،نماز ،روزہ ،حج اور زکوۃ کی پابندی کرنے والوں اور صبح شام اللہ کے ذکر سے زبانوں کو تر رکھنے والوں کو کافر قرار دیا جائے

اور

وہ بھی ایسا کافر کہ جس سے نہ سلام جائز ہے نہ کلام ،جس سے نہ لین دین جائز ہے ،نہ رشتہ ناطہ حتی کہ اس کا ذبیحہ بھی مردار ہے ۔

۷۔مفتی خیل برکاتی صاحب لکھتے ہیں کیا امام ابو حنیفہ ،امام شافعی ،امام مالک اور امام احمد بن حنبل کا یہی موقت ہے ان لوگوں نے تو خوارج اور معتزلہ تک کو کافر نہیں کہا بلکہ وہ لوگ تو کافروں کو مسلمان اور بروں کو اچھا کرنے کی کوشش کرتے تھے اور ہم کس طرف جا رہے ہیں ؟

۸۔مفتی خلیل احمد خان صاحب لکھتے ہیں فاضل بریلوی نے علماء دیوبند کی عبارات کے جو معنی متعین کیے ان سے اس وقت کے بہت سے علماء متفق نہیں تھے ۔

۹۔مفتی صاحب لکھتے ہیں جو علماء اس فتوے سے متفق نہیں تھے ،ان میں فرنگی محلی،رام پور ،علی گڑھ اور بدایوں کے علماء شامل تھے حالانکہ یہ دیگر اختلافی مسائل میں فاضل بریلوی کے ہم نوا تھے ۔

۱۰۔مفتی صاحب لکھتے ہیں میں عقائد اہلسنت میں دو اماموں کی پیروی کرتا ہوں ،امام ابو منصور ماتریدی اور ابو الحسن اشعری ،فقہ میں امام اعظم کا پیروکار ہوں ،تکفیر میں بھی انہی کی مانتا ہوں ،مجھے کسی نئے پیر اور مولوی کی تقلید کی ضرورت نہیں ہے ۔

۱۱۔اعلی حضرت نے دو ایسے مسئلے پیش کیے جو ان سے پہلے کسی نے پیش نہیں کیے،دونوں مسئلوں کی وجہ سے مسلمان خوب آپس میں لڑے اور ایک دوسرے کے دشمن بنے ،ایک کفر کا فتوی اور دوسراجمعہ کی اذان ثانی مسجد سے باہرضرور قرار دینا ۔

۱۲۔تکفیر کا مسئلہ تقلیدی نہیں ہے بلکہ یہ تحقیقی مسئلہ ہے لہذا شریعت میں ہم کسی کی پیروی میں کسی کو کافر نہیں کہہ سکتے ۔

۱۳۔فاضل بریلوی نے جو عقائد علمائے دیوبند کی طرف منسوب کیے ہیں وہ ہر گز ان کے عقائد نہیں ہیں ۔

۱۴۔اعلی حضرت کا تکفیری فتوی ساقط الاعتبار ہے ۔

۱۵۔اعلی حضرت بریلوی کوئی فرشتے نہیں تھے بلکہ انسان تھے جن سے غلطی ہو سکتی ہے ۔

۱۶۔علمائے کرام کسی پر حکم کفر اس وقت تک نہیں لگاتے تھے جب تک تمام مشائخ اس کے کفر پر متفق نہ ہو جائیں جب تک کمزور سے کمزور احتمال بھی ایسا موجود ہوتا جو کفر کی نفی کرتا تو وہ حکم کفر نہیں دیتے تھے ۔

۱۷۔صاحب کلام جو اپنے کلام کی تاویل کرتا ہے وہ قابل قبول ہوتی ہے ۔

۱۸۔نبی کریم ﷺ نے ایسے لوگوں کی بد حالی کی دعا کی ہے جو امت میں افتراق و انتشار کی کوشش کرتے ہیں ۔

۱۹۔حسام الحرمین کوئی آسمانی کتاب ہے جس کا انکار کرنے والا کافر ہو جاتا ہے ؟

۲۰۔مفتی خلیل احمد خان قادری برکاتی صاحب لکھتے ہیں جب میں نے علماء دیوبند کی کتب خود پڑھیں تو حسام الحرمین کے فتوے سے انکار کر دیا ۔

آپ مفتی خلیل برکاتی صاحب کی کتاب کا آن لائن مطالعہ بھی کر سکتے ہیں۔

اس پر ہم اب تک تین وڈیوز بنا چکے ہیں، آپ ان تینوں کو ملاحظہ فرمائیں: