حکومت ایسے کیوں کر رہی ہے ؟

تحریر:

احسان اللہ کیانی

حکومت چاہتی تو فرانسیسی سفیر کو نکال سکتی تھی لیکن اس نے ایسا اس لیے نہیں کیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اگر اس نے فرانس کے سفیر کو نکالا تو  باقی یورپی ممالک کے سفیر بھی نکل جائیں گے ،اس طرح  فرانس اور   سارایورپ اس کے خلاف ہو جائےگا ۔

 

پاکستان کی حکومت فرانس کو ناراض اس لیے نہیں کرنا چاہتی کیونکہ فرانس ایک انتہائی طاقتور ملک ہے ، وہ یورپی یونین کا اہم رکن ہے،وہ اقوام متحدہ کے بانیوں میں سے ہے ، وہ ایف اے ٹی ایف کا اہم  اراکین میں سے ہے ،اس کے پاس سلامتی کونسل میں  ویٹو پاور ہے ،ویٹو پاور کا مطلب یہ ہے کہ اس کی مرضی کے خلاف اقوام متحدہ کا کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا ۔

 

حکومت کو ڈر ہے کہ اگر فرانس کےسفیر کو  نکالا گیا تو  وہ ایف اے ٹی ایف کے ذریعے ہم پر پابندیاں لگا دےگا اور ہمیں بہت سا معاشی نقصان پہنچائے گا ،اسی طرح حکومت کو یہ بھی ڈر ہے کہ اگرہم نے ان کا سفیر نکالا تو یورپ  میں بسنے والے مسلمانوں کو وہاں سے نکال دیا جائے گا،وہاں کی مساجد کو تالے لگا دیے جائیں گے ،یہی وہ وجوہات ہیں جن  کی بنا پر حکومت فرانسیسی سفیر کو نہیں نکال رہی ۔

 

یہ باتیں ہر عقل مند آدمی کے نزدیک اہم ہیں یقینا  ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔

لیکن

 کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب فرانس اور یورپ کچھ بھی کریں،ہم ہمیشہ برداشت ہی کریں گے،ہم کسی بھی صورت کوئی اقدام نہیں کریں گے ؟

 

میں سمجھانے کے لیے چند مثالیں دیتا ہوں ،اگر فرانس کا صدر ہمارےآرمی چیف کے منہ پر تھوک دے ،عمران خان  صاحب کے منہ پر جوتا مار دے ،اپنی فوجیں ہمارے ملک میں داخل کر دے ،ہمارے ایٹمی پلانٹ پر حملہ کر دے ،ہمارے وزاء کی بیویوں سے بالجبر زنا کرےیا اپنے طیاروں سے جی ایچ کیو پر حملہ کردے ۔

 

کیاان سب صورتوں میں بھی حکومتی رویہ یہی ہوگا ؟

اگر حکومت  کا جواب ہاں میں ہے تو پھر مجھے حکومت سے کوئی شکوہ نہیں

  لیکن

 اگر حکومت کا رویہ اس وقت بدل جائے گا تو مجھے اس پر شدید افسوس ہےکیونکہ  یہ سب چیزیں نبی کریم ﷺ کی عزت کے مقابلے میں بہت حقیر ہیں ۔

 

یاد رہے کہ پیغمبر اسلام کی توہین کرنا، یورپ کی طرف سے تمام مسلمان ممالک کے خلاف اعلان جنگ ہے،اس کا شدید سے شدید رد عمل دینا امت مسلمہ پر فرض ہے،اگر اس رد عمل کے نتیجہ میں تمام مسلمان مرد قتل ہو جائیں اور تمام مسلمان خواتین بے آبرو ہو جائیں تو بھی عند اللہ یہ عمل غلط نہیں ہوگا۔

 

یہ اللہ کی طرف سے ایک امتحان ہے ،اگر امت اس وقت اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے  اقدام کرے گی توہمیشہ کیلئے یورپ کی غلامی  سے نکل جائے گی ،اگر اس وقت امت  اقدام نہیں کرے گی تو مزید ذلت و رسوائی اس کا مقدر ہو گی ۔