احسان اللہ کیانی کی مدرسے کے داخلے سے لے کر دورہ حدیث تک کی کہانی

سات اقساط ایک ساتھ

پہلی قسط:

میں نے مدرسے کی تدریس کیوں چھوڑی ۔۔۔۔؟؟

تحریر:

احسان اللہ کیانی

میں پہلے آپ کو اپنے بارے میں کچھ تفصیل سے بتاتا ہوں، تاکہ آپ کو میرا مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہو

میرے والد صاحب سرکاری ملازم تھے، انہیں اسلام آباد میں ایک سرکاری فلیٹ ملا ہوا تھا، میں اسلام آباد میں ہی پیدا ہوا،یہاں ہی جوان ہوا، میرے سب دوست یہاں ہی کے تھے

میں نے زندگی میں مدرسے جانے کا کبھی سوچا بھی نہیں تھا

مولوی بننا اور مولوی بن کر زندگی گزارنا تو بہت دور کی بات ہے

دوسری بات یہ بھی ہے کہ

میرے گھر میں کوئی بندہ باقاعدہ مولوی نہیں تھا، جو مسجد یا مدرسے سے وابستہ ہو تا ،صرف میرا گھر ہی نہیں بلکہ میرے پورے خاندان میں کوئی بندہ اس فیلڈ میں نہیں ہے

کہنا کا مقصد یہ ہے کہ میں ایک عام شہری لڑکا تھا، جسے مولویوں کے بارے میں کچھ پتا ہی نہیں تھا

پھر میں کوئی نیک آدمی بھی نہیں تھا، جس کا مذہبی لوگوں کے ساتھ زیادہ اٹھنا بیٹھنا ہو

میں تو گناہ گار آدمی تھا، لوفر تھا، لوفروں میں اٹھتا بیٹھتا تھا، میرا حلیہ بھی مذہبی نہیں تھا، پینٹ شرٹ پہنتا تھا، بازو پر سرخ کلر کی ڈوری باندھتا تھا، شیڈ والی ٹوپی الٹی کرکے پہنتا تھا

میں نے زندگی کے اٹھارہ سال یوں ہی گزار دیے، کوئی خاص نیک کام نہیں کیا، بس جمعہ پڑھتا تھا اور کبھی کبھار نماز پڑھتا تھا ،ہاں ایک چیز ہے ،میں نعتیں بہت سنتا تھا، محفل نعتوں میں بھی جاتا تھا

میٹرک کے امتحان کے بعد میں نے پڑھائی چھوڑ دی اور کریانے کی ایک دکان بنالی پھر ایک انٹرنیٹ کیفے خرید لیا

انٹرنیٹ کیفے پر گانے مانے بھی سنتا تھا کبھی فلم ولم بھی دیکھ لیتا تھا، جب دل پریشان ہوتا تو نعتیں بھی سنتا تھا یا ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے بیان سنتا تھا

پھر ایک دن میں نے مولانا طارق جمیل صاحب کا ایک بیان سنا، جس میں وہ دعا مانگ رہے تھے، مجھے وہ بیان بہت اچھا لگا، میں نے ان کے بہت سے بیانات ڈاؤن لوڈ کر لیے اور مستقل سننا شروع کر دیے

ان کے بیانات کے موضوعات کا تعلق براہ راست میری آخرت کے ساتھ تھا،اس لیے ہر بیان نے دل و دماغ پر ایک خاص اثر چھوڑا، چند دن بعد میں نے نماز شروع کر دی، ماں باپ کے ساتھ بھی میرا رویہ بہتر ہونا شروع ہو گیا، رفتہ رفتہ میں بالکل بدل سا گیا

کچھ دوست سوچیں گے، ہم بھی اصلاحی بیانات سنتے ہیں لیکن ان کا اثر کچھ دیر رہتا ہے، پھر وہی حالت ہو جاتی ہے

میرے ساتھ بھی یہی ہوتا تھا، بیان سننے کے کچھ دیر بعد دل کی کیفیت پھر فاسقوں جیسی ہو جاتی تھی

میں چاہتا تھا، میری یہ کیفیت ہمیشہ رہے، اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں چوبیس گھنٹے ہی یہ بیانات سنتا رہا کروں گا، تاکہ یہ کیفیت ہمیشہ رہے، اس کے بعد میں پورا دن انٹرنیٹ پر مولانا طارق جمیل صاحب کے بیانات سنتا رہتا تھا پھر جب دکان بند کرنے لگتا تو پہلے موبائل پر بیان لگاتا اور کان میں ہینڈ فری لگا لیتا، پھر گھر کی طرف جاتا، کھانا کھاتے ہوئے بھی بیان چلتا رہتا، میں سوتا تب بھی کان میں بیان چلتا رہتا، رات کو کسی وقت آنکھ کھلتی تو بعض اوقات طارق جمیل صاحب دعا میں رو رہے ہوتے تھے، میں بھی رونے لگتا اور دیر تک روتا رہتا اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافیاں مانگتا رہتا، اب حالت یہ تھی کہ میرا دل اتنا نرم ہو چکا تھا کہ میں ذرا ذرا سی بات پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا تھا، میں نعت سنتا تو آنسو ہی نہ رکتے تھے

پھر ایک وقت وہ آگیا جب میں نے نیٹ کیفے ختم کر دیا اور گھر جا کر کہا

میں نے مدرسے داخل ہونا ہے

گھر والوں نے کہا

تو ۔۔!

مدرسے پڑھے گا ۔۔؟؟؟

انھیں یقین نہیں آرہا تھا، وہ جانتے تھے مدرسوں میں سختیاں ہوتی ہیں ،یہ آزاد طبیعت اور نخریلہ کیسے اتنی سختیاں برداشت کرے گا، خیر میرے اصرار پر وہ مان گئے

مجھے اس وقت دو جگہوں کا علم تھا، فیضان مدینہ کراچی اور منھاج القرآن لاہور، لیکن گھر والے دور بھیجنے پر راضی نہیں ہوئے کیونکہ وہ جانتے تھے یہ عارضی شوق ہے،کچھ دن بعد اتر جائے گا

میں نے کہا ،جہاں آپ چاہییں، مجھے وہاں داخل کروا دیں، والد صاحب نے کہا، میرے ایک جاننے والے ہیں، ان سے بات کرتا ہوں، والد صاحب نے بتایا، داخلہ ہو جائے گا، ایک بستر، ایک ٹرنگ اور ضروری چیزیں تیار کر لو، میں نے شام سے پہلے ہی سب کچھ تیار کر لیا، رات کو ابو آئے تو میں نے کہا، ابو مجھے چھوڑ آئیں، ابو بولے ،صبح چلیں گے ، میں نے دل میں سوچا ہو سکتا ہے، صبح شیطان ذہن بدل دے اور ضد کرکے رات کو ہی مدرسے پہنچ گیا، ہم مدرسے پہنچے تو ۔۔۔۔

باقی اگلی قسط میں

دوسری قسط :

میں نے مدرسے کی تدریس کیوں چھوڑی ۔۔۔؟

تحریر:

احسان اللہ کیانی

سب سے پہلے تو میں آپ سے معافی چاہتا ہوں ،آپ کو دوسری قسط کیلئے اتنا انتظار کرنا پڑا ،میں وضاحت بھی کر دیتا ہوں ،آپ کو اتنا انتظار کیوں کرنا پڑا ،در اصل میں فیکٹری میں چودہ گھنٹے کام کرتا ہوں اورہماری فیکٹری میں ہفتے میں کوئی چھٹی نہیں ہوتی ،اس لیے تقریبا سارا ہفتہ یہی ترتیب رہتی ہے ،جب میں رات کو گھر واپس آتا ہوں ،تو ذہنی و جسمانی طور پر سخت تھکا ہوا ہوتا ہوں ،فورا سو جاتا ہوں کیونکہ پھر صبح جلدی اٹھ کر کام پر پہنچنا ہوتا ہے ،اگرچہ فیکٹری میں مجھے کافی وقت بھی ملتا ہے ،لیکن وہاں میرے پاس لیب ٹاپ نہیں ہوتا ،جس پر میں لمبی تحریر لکھ سکوں ، میں موبائل پر بھی لکھ سکتا ہوں ،لیکن آج کل جو موبائل میرے پاس ہے ،اس پر تحریر لکھنا کافی مشکل ہے ۔

امید ہے ،آپ میرا عذر قبول فرمائیں گے

چلیں

اب میں آپ کو اپنی زندگی کے قیمتی ترین لمحات کی طرف لے جاتا ہوں ، میں اس بار آپ کو سب کچھ سچ سچ بتائوں گا ،میں ساری تفصیل بھی لکھوں گا ،مجھے امید ہے ان تحریر وں میں آپ کو وہ کچھ پڑھنے کو ملے گا ،جو شاید کسی دوسری جگہ پر نہ مل سکے

چلیں

اصل کہانی کی طرف چلتے ہیں ،میں مدرسے میں داخلہ لینے جا رہا تھا ،میرے والد صاحب میرے ساتھ تھے ،رات کا وقت تھا ،ہم مدرسے کے گیٹ پر پہنچے تو دروازہ بند تھا ،والد صاحب نے ناظم صاحب کو کال کی ، انھوں نے بتایا ،میں کسی کام سے آیا ہوا ہوں ،صبح ملاقات ہوگئی ،پھر ناظم صاحب نے مدرسے کے قاری صاحب کو کال کرکے کہا ،گیٹ پر میرے مہمان آئے ہیں

کچھ ہی دیر بعد قاری صاحب آئے، گیٹ کھولا ،مدرسے کے لڑکوں نے ہمارا سامان اٹھا یا اور ہمیں بیسمنٹ میں لے گئے،قاری صاحب نے نیچے پہنچ کر کہا ،ناظم صاحب کسی کام سے گئے ہیں ،صبح آئیں گے ،آپ لوگ مہمان خانے میں آرام کریں ،صبح ملاقات ہو جائے گی ،ساتھ ہی قاری صاحب نے بلند آواز سے ایک لڑکے کو کہا ،مہمانوں کیلئے کھانے کا بندوبست کرو،ہم نے بتایا ،ہم اسلام آباد میں ہی رہتے ہیں ،گھر سے کھاناکھا کر آئے ہیں ،کھانے کی ضرورت نہیں ہے ، قاری صاحب نے ایک لڑکے کی طرف اشارہ کیا ،وہ ہمیں مہمان خانے کی طرف لے جا رہا تھا ،ہم مہمان خانے کی طرف جا رہے تھے ،تو میرے دل میں خیال آیا ،والد صاحب کو واپس بھیج دیتا ہوں تاکہ یہ تو گھر میں سکون سے آرام کر سکیں ،میں نے والد صاحب کو کہا ،ابوجی !آپ چلے جائیں ،صبح میں خود ہی داخلہ کروا لوں گا ،والد صاحب کچھ پیسے مجھے دے کر واپس چلے گئے

لیکن

اب بھی میرے ذہن میں کچھ اور چل رہا تھا ،میں رات مہمان خانے میں نہیں گزارنا چاہتا تھا ،کیونکہ مجھے ڈر تھا ،کئی رات کوشیطان میرا ذہن بدل نہ دے ،میں جلدی سے اس ماحول میں ایڈجسٹ ہونا چاہتا تھا ،تاکہ میرا دل یہاں لگ جائے

میں فورا قاری صاحب کے کمرے میں پہنچا،ادب سے دو زانو بیٹھ کر کہا ،قاری صاحب اگر آپ اجازت دیں ،تو میں لڑکوں کے کمرے میں سو جائو ، میں جلدی لڑکوں میں ایڈجسٹ ہونا چاہتا ہوں ،قاری صاحب نے کہا ،جیسے آپ کی مرضی،ہمیں کوئی اعتراض نہیں ،پھر مجھے قاری صاحب نے ایک کمرے میں بھیج دیا ،جس میں بڑے لڑکے رہتے تھے ،میں کمرے میں داخل ہوا،تو میں نےمسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ السلام علیکم کہا اور ہر لڑکےکے پاس جا کر اس سے ہاتھ ملایا ، لڑکے بھی مجھے بہت اچھے طریقے سے ملے ،یہ جمعرات کی رات تھی ،

اس سے پہلے میں نے زندگی میں کوئی مدرسہ نہیں دیکھا تھا ،میں لڑکوں کے ساتھ ہی بیٹھ گیا ،میں نے لڑکوں کو اپنے بارے میں کچھ بتایا پھر ان سے پوچھا ،مجھے بتائیے ،مدارس میں تعلیم کا کیا طریقہ ہوتا ہے ؟

انھوں نے بتایا

مدرسے میں دو شعبہ ہوتے ہیں

شعبہ حفظ اور شعبہ کتب

شعبہ حفظ میں بچوں کو قرآن حفظ کروایا جاتا ہے

شعبہ کتب جسے درس نظامی بھی کہتے ہیں ،اس میں عالم بنایا جاتا تھا

میں نے پوچھا ،میں کتنے عرصے میں حفظ کر لوں گا ،تمام لڑکوں نے یک زبان ہو کر کہا ،بھائی آپ شعبہ حفظ میں داخلہ نہ لینا بلکہ شعبہ کتب میں داخلہ لینا ۔

میں نے معصومیت سے پوچھا ،کیا درس نظامی کیلئے حافظ قرآن ہونا ضروری نہیں ہے ؟

سب لڑکوں نے کہا نہیں بھائی ،حافظ ہونا ضروری نہیں ہے

مجھے یہ جاننے کا تجسس ہوا کہ ان میں سے کتنے حافظ ہیں اور کتنے نہیں ہے؟

میں نے ایک ایک سے پوچھنا شروع کیا ،بھائی کیا آپ حافظ ہیں ؟بھائی کیا آپ حافظ ہیں ؟

ایک لڑکے کے سوا کمرے میں موجود سب لڑکوں نے کہا ،ہم حافظ قرآن ہیں ،میر ے دل میں ان سب کی عزت بڑھ گئی ،میں سوچ رہا تھا ،انکے لیے نیکیاں کرنا کتنا آسان ہے ،یہ جب چاہیں زبانی قرآن پڑھ کر نیکیاں کما سکتے ہیں ،پھر ہم دیر تک باتیں کرتے رہے اور پھر سو گئے ۔۔

صبح فجر کی اذان ہوئی ،تو ایک لمبے سے قاری صاحب آئے ،انکے ہاتھ میں لمبا سا بانس کا ڈنڈہ تھا ،جس پر کالی ٹیپ لپٹی ہوئی تھی ،دیکھ کر میرے ماتھے پر پسینہ آگیا ،میں فورا اٹھا اور بھاگ کر دروازے کی کنڈی کھولی اور باہر نکل گیا ،انھوں نے غصے سے ایک آواز دی ،سب لڑکے ایک دم اٹھے اور وضو خانوں کی طرف چل پڑے ،وہ جس کمرے سے گزرتے تھے ،لڑکے فورااٹھ کر بھاگنے لگتے تھے اور جو نہیں اٹھتا تھا ،پھر چیخ کی آواز آتی تھی

میں نے وضو کیا اور فورا مسجد میں پہنچ گیا ،مسجد میں شاید پہلی بار اتنی ٹھہر ٹھہر نماز پڑھی اور پھر اٹھ کر سامنے الماری کی طرف چلا گیا ،وہاں سے ایک ترجمے والا قرآن پاک اٹھایا ،تو بے اختیار آنسو بہنے لگے ،کیونکہ آج سالوں بعد قرآن کریم کو پڑھنے کیلئے کھولا تھا ،میں نے قرآن کریم کھولا اور اس کا ترجمہ پڑھنے لگے ،ابھی نماز میں تقریبا بیس سے پچیس منٹ باقی تھے ،میں خوب محبت سے قرآن پاک پڑھتا رہا اور دل ہی دل میں کہنے لگا ،مدرسے کی زندگی کتنی اچھی ہے ،یہاں قرآن پڑھنے کیلئے بھی اتنا زیادہ ٹائم مل جاتا ،جب اقامت ہونے لگی ،تو میں نے قرآن کریم بند کر کے رکھ دیا اور فجر کی نماز پہلی صف میں تکبیر اولی کے ساتھ پڑھی ،جیسے ہی نماز ختم ہوئی ،تو کچھ لوگ جلدی سے گھروں کی طرف چلے گئے ،میں اطمینان سے بیٹھا تھا ،کیونکہ اب میں نے گھر نہیں جانا تھا بلکہ مدرسہ ہی میرا گھر تھا ،نماز کے بعد دعا ہوئی ،تو تمام لوگ اٹھ کر چلے گئےالبتہ مدرسے کے بچے اٹھے اور مسجد کے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے ،وہاں انھوں نے پہلے دانوں پر درود شریف پڑھا ،پھر ایک مرتبہ سورت یس پڑھی اور پھر دعا ہوئی اور سب لڑکے اپنے اپنے کمروں کی طرف چلے گئے ،

کچھ دیر بعد کھانے کی گھنٹی بجی ،تو سب لڑکےکمروں سے اپنی اپنی پلیٹیں اٹھا کر کھانے والے ہال میں پہنچ گئے ،کھانے والےہال میں زمین پر سرخ رنگ کا دستر خوان بچھا تھا ،کچھ لڑکے کھانا تقسیم کر رہے تھے ،باقی سب بیٹھے تھے ،ہمیں ایک لڑکے نے ایک روٹی دی اور پلیٹ میں سالن ڈال دیا ،میں نے اس کا شکریہ ادا کیا ،تو سب میرا منہ دیکھنے لگے ،یہ لڑکا شکریہ کیوں ادا کر رہا ہے ،ساتھ والے لڑکے نے جل کر کہا ،بھائی شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،یہ اپنے اخلاق کی وجہ سے ایسے نہیں کر رہا بلکہ قاری صاحب نے اس کی ڈیوٹی لگا ئی ہوئی ہے ،میں خوب ہنسا اور سر ہلا دیا ،در اصل ان دو لڑکوں کی آپس میں بنتی نہیں تھی ،میں نے اس کا شکریہ ادا کیا ،تو دوسرے سے برداشت نہیں ہوا ،کھانے کے بعد سب لڑکوں نے یونیفارم پہننا شروع کر دیا

آپ سوچ رہے ہوں گئے ،مدارس میں کونسا یونیفارم ہوتا ہے ،جناب مدارس کایونیفارم سفید کپڑے اور سفید ٹوپی ہے البتہ بعض مدارس میں سفید کپڑے اور عمامہ شریف یونیفارم میں شامل ہے،میں نے بھی کپڑے چینج کیے اورمسجد کی طرف چل دیا ، مسجد کے صحن میں پہنچا ،تو سب لڑکے لائنوں میں کھڑے ہو رہے تھے ،یہ مدرسے کی اسمبلی کا وقت تھا ،جس میں پہلے تلاوت ہوئی ،پھر نعت اور اس کے بعد قصیدہ بردہ شریف پڑھا گیا ،پھر ایک استاد نے سب کلاسوں کی حاضری لگائی ،کون مدرسے میں موجود ہے ،کون نہیں ہے ،سب کچھ رجسٹر میں محفوظ کر لیا گیا ،پھر دعاہوئی اور سب لڑکے کمروں میں گئےاور اپنی اپنی کتابیں اٹھا کر کلاسوں میں پہنچ گئے ،میں آپ کو بتاتا ہوں ،مدارس میں عموما کلاسیں مسجد میں لگتی ہیں ،استاد کے لیےزمین پر ایک جائے نماز بچھائی جاتی ہے ،سامنے ایک چھوٹا سا میز رکھا جاتا ہے ،اس کے بالکل سامنے تمام لڑکے بیٹھے ہوتے ہیں ،لڑکوں کے سامنے بھی میز ہوتا ہے،سب زمین پر بیٹھے ہوتے ہیں ۔

میں جب مدرسے جا رہا تھا ،تو میرے ذہن میں تھا کہ شاید مدرسے میں کوئی نصاب نہیں ہوتا ،بلکہ وہاں بس نعتیں سنوائی جاتی ہے ،ذکر کروایا جاتا ہے ،تلاوت کروائی جاتی ہے ،قرآن کریم کا ترجمہ اور کچھ احادیث یاد کروا ئی جاتی ہیں

یہاں آکر معلوم ہوا ،یہاں آٹھ سالوں پر مبنی ایک نصاب ہوتا ہے ،جس میں عربی گرامر بھی سکھائی جاتی ہے ،قرآن کا ترجمہ بھی سکھایا جاتا ہے ،احادیث بھی پڑھائی جاتی ہے ،نماز ،روزہ ،حج ،زکوۃ ،تجارت ،نکاح ،طلاق ،قتل ،چوری ،ڈاکہ ،بغاوت ،تقسیم جائیداد ،جہاد ،عدالت ،شھادت اور حلال و حرام کےتقریبا تمام ضروری مسائل بھی پڑھائے جاتے ہیں ،اس کے علاوہ عربی شاعری ،منطق ،فلسفہ ،بلاغت اور علم الکلام بھی پڑھایا جاتا ہے ۔

میرا داخلہ پہلے سال میں ہوا تھا ،میرے کلاس فیلوز کے پاس غالبا آٹھ کتابیں تھی

ایک کتاب کا نام علم التجوید تھا ،جس میں قرآن کریم کے حروف کے ادائیگی کے اصول لکھے تھے ،مثلا کون سا حرف کب موٹا پڑھا جاتا ہے ،کب باریک پڑھا جاتا ہے ،کس حرف میں کون کون سی صفات پائی جاتی ہیں ،کونسی صفات لازمی ہیں کونسی عارضی ہیں ،اسی طرح س اور ص میں کیسے فرق کیا جاتا ہے ،ح اور ہ میں کیسے فرق کیا جاتا ہے ،اسی طرح ذ اور ز کیسے فرق کیا جاتا ہے

دوسری کتاب کا نام علم الصرف تھا ،جس میں عربی الفاظ بنانے کے اصول بتائے گئے تھے ،مثلا علم ،تعلیم ،معلم ،عالم ،معلوم ،یعلمون ،تعلمون وغیرہ کو کیسے ع ل م سے بنایا گیا ہے اوران کا معنی کیا کیا ہے ۔

تیسری کتاب کا نام علم النحو تھا ،جس میں عربی زبان کے حروف کو جوڑنے اوراس سے نئے معانی حاصل کرنے کے طریقے بتائے گئے تھے ،مثلا بسم اللہ الرحمن الرحیم میں ہر لفظ کا دوسرے لفظ کے ساتھ ایک تعلق ہے ،یہ تعلق علم النحو ہی کے ذریعے جانا جا سکتا ہے

تیسری کتاب کا نام ہمارا اسلام تھا ،اس میں اسلام کے متعلق سوال جواب تھے ،آج کل اسکی جگہ قانون شریعت نامی کتاب پڑھائی جاتی ہے

چوتھی کتاب قرآن کریم تھی ،اس کے پہلے چار سپاروں کا ترجمہ نصاب میں شامل تھا

پانچویں کتاب علم المنطق تھی ،جس میں منطقی لوگوں کے بنائے گئے اصول بتائے گئے تھے

چھٹی کتاب کا نام تسھیل الانشاء تھا ،جس میں عربی زبان کے آسان آسان جملے تھے اورجملے بنانے کے آسان آسان طریقے لکھے ہوئے تھے ،آج کل اسکی جگہ الطریقۃ الجدیدۃ فی تعلیم العربیۃ نامی کتاب پڑھائی جاتی ہے

ساتویں کتاب کا نام جنرل سائنس تھا ،اس میں سائنس کی ابتدائی باتیں لکھی تھی

آٹھویں کتاب کا نام مطالعہ پاکستان تھا ،اس میں پاکستانی کی تاریخ تھی اور پاکستان کے متعلق اہم باتیں تھی ۔

میرے لیے سب سے مشکل سبق علم التجوید تھا ،کیونکہ پانچ دن تک میں صحیح طریقے سے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ہی نہیں پڑھ سکا ،میں جب بھی پڑھتا ،قاری صاحب کہتے ،آپ غلط پڑھ رہے ہیں ،اَ ۔۔اور۔۔۔ع۔۔۔میں فرق کرو ،مجھ سے یہ فرق نہیں ہو تا تھا ،مجھے امید ہے ،ستر فیصد عام لڑکے بھی کسی قاری صاحب کے سامنے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم نہیں پڑھ سکیں گے ،میں تو آج آپ کو سچ سچ بتارہا ہوں ،مدرسے سے پہلے مجھے دیکھ کر بھی قرآن پڑھنا نہیں آتا تھا،اگرچہ میں سمجھتا تھا ،میں دو بار قرآن مکمل ختم کر چکا ہوں

مجھے مدرسے میں بڑی شرمندگی ہوتی تھی کیونکہ ۔۔۔۔۔

باقی اگلی قسط میں

تیسری قسط:

میں نے مدرسے کی تدریس کیوں چھوڑی ۔۔۔؟

تحریر:

احسان اللہ کیانی

مجھے مدرسے میں بڑی شرمندگی ہوتی تھی کیونکہ وہاں چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی صحیح صحیح قرآن پڑھنا آتا تھا ،جبکہ مجھے ابھی قرآنی قاعدہ پڑھنے کی شدید ضرورت تھی ،مجھے قرآن سیکھنے کا بہت شوق تھا ،اس لیے میں نے استاد کے علاوہ کچھ دوستوں سے بھی قرآن پاک پڑھنا شروع کر دیا ،جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا ،علم التجوید کا پیریڈ میرے لیے بہت مشکل تھا ،علم التجوید کے علاوہ دوسرا پیریڈ جو میرے لیے سب سے مشکل ہوتا تھا ،وہ علم الصرف کا تھا ،اس میں بھی بہت رٹا لگانا پڑتا تھا اور مشکل یہ تھی کہ زیر زبر پیش کی غلطی بھی ناقابل معافی تھی ،علم الصرف میں ایسی مشکل گردانیں جو میری زبان پر چلتی ہی نہیں تھی ،پھر قہر یہ ہے کہ استاد صاحب کی فرمائش تھی ،درمیان میں رکنا نہیں ہے ،ایک ہی سانس میں سنائو ،دو سال تک علم الصرف پڑھا ،اللہ اللہ کرکے تیسرے سال اس سے جان چھوٹی ۔

میں ایک گردان کا مختصر سا حصہ یہاں پیش کررہا ہوں ،آپ اس سے اندازہ لگاسکتے ہیں ،یہ کتنی مشکل چیز ہے ،جس سے مدارس کے پہلےدو سال کے بچوں کو گزرنا پڑتا ہے ،پھر عموما خادم حسین رضوی صاحب جیسے سخت استاد علم الصرف پڑھاتے ہیں اورنصاب میں بھی کوئی دو چار گردانیں شامل نہیں ہیں ،بلکہ ایسی سینکڑوں گردانیں ہیں ۔

ملاحظہ فرمائیں،اسے گردان کہتے ہیں ۔

اِجْتَنَبَ یَجْتِبُ اِجْتِنَابًا فَھُوَ مُجْتَنِبٌ وَ اُجْتُنِبَ یُجْتَنَبُ اِجْتِنَابًا فَذَاکَ مُجْتَنَبٌ لَمْ یَجْتَنِبْ لَمْ یُجْتَنَبْ لَایَجْتَنِبُ لَایُجْتَنَبُ لَنْ یَّجْتَنِبَ لَنْ یُّجْتَنَبَ لَیَجْتَنِبَنَّ لَیُجْتَنَبَنَّ لَیَجْتَنَبَنْ لَیُجْتَنَبُنْ اَلْاَمْرُ مِنْہُ اِجْتَنِبْ لِتُجْتَنَبْ لِیجْتَنِبْ لِیُجْتَنَبْ وَالنَّہْیُ عَنْہُ لَاتَجْتَنِبْ لَا تُجْتَنَبْ لَایَجْتَنِبْ لَا یُجْتَنَبْ اَلظَّرْفُ مِنْہُ مُجْتَنَبٌ مُجَتَنَبَانِ مُجْتَنَبَاتٌ۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ صیغے کیسے بنے ،ان کے قواعد بھی زبانی یاد کروائے جاتے ہیں ، میں کہتا ہوں ،صیغے بننے کے قواعد سے تو اللہ ہی معاف کرے ،وہ بہت مشکل ہوتے ہیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت صیغہ ہی کی سمجھ نہیں ہوتی ،اسکے قاعدے کی خاک سمجھ آئےگی ،پھر ظلم یہ ہے یہ سب کچھ پہلے دو سالوں میں پڑھایا جاتا تھا ،میں سمجھتا ہوں ،علم الصرف کے نصاب کو مزید کچھ حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے ،پہلے سال میں کچھ ابتدائی باتیں اور بس ثلاثی مجرد کے ابواب پڑھانے چاہییں ،پھر دوسرے،تیسرے ،چوتھے اور پانچویں سال میں مزید حصے پڑھانے چاہییں،یقین مانیے علم الصرف کی صحیح سمجھ بھی اگلے سالوں میں ہی آتی ہے

کچھ لوگ سمجھتے ہیں ،مدارس کا نصاب آسان ہوتا ہے ،جسے ہر کوئی پاس کر سکتا ہے ،بھائی یہ آپکی غلط فہمی ہے ،مدارس کا نصاب انتہائی مشکل ہے ۔

مدرسے میں میری دن بھر کی روٹین کیا ہوتی تھی ،یہ آپ کو بتاتا ہوں ،میں صبح کلاسوں کے بعد مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ جاتا تھا ، وہاں قرآن کریم یا کوئی اصلاحی کتاب پڑھتا رہتا یا اللہ کا ذکر کرتا رہتا ،مدرسے کے بچے میرے پاس آکر بیٹھ جاتے اور مجھے جو کچھ یاد ہوتا انہیں سناتا رہتا ،میں عمومااصلاحی باتیں ہی کیا کرتا تھا ،لڑکے میری باتیں بڑے شوق سے سنتے تھے ،حتی کہ اگر کسی کا مدرسے میں دل نہیں لگ رہا ہوتا ،تو بھی وہ میرے پاس آجاتا اور کہتا احسان بھائی مدرسے میں دل نہیں لگ رہا ،کوئی حدیث یا کوئی واقعہ سنائیں،میں اسے کچھ باتیں بتاتا ،تو اس کا دل مطمئن ہو جاتا ،ان دنوں میری باتوں میں بڑا اثر ہوا کرتا تھا ،کیونکہ اس وقت میں تنخواہ دار ملازم نہیں تھا ، میرے پیش نظر صرف اللہ کی رضا تھی ،اس وقت حالت یہ تھی کہ جس سے بات کرتا ،اسکے دل میں اتر جاتی تھی ،بعض بچےتو میری باتیں سن کر ایسے نیک ہو گئے تھے کہ مجھے خود ان پر رشک آتاتھا ،وہ نابالغ بچے رات کو خود اٹھ کر تھجد کی نماز پڑھتے تھے ،میں انہیں کبھی مسجد کے صحن میں دیکھتا اور کبھی وضو خانے میں ،وہ حافظ تھے ،وہ نماز میں لمبالمبا قیام کیا کرتے ہیں ،بعض بچے مجھے صبح بتاتے ،احسان بھائی میں نے رات کو تھجد کی نماز میں پوری سورہ بقرہ پڑھی تھی ،کوئی بتاتا میں نے پہلی رکعت میں سورت یس اور دوسری میں سورت رحمن پڑھی تھی ،میں یہ سن کر رونے لگتا ،یہ بے گناہ اور معصوم بچے اللہ کو راضی کرنے کیلئے اتنا کچھ کر رہے ہیں اور میں گناہوں سے لتھڑا ہوا ،کچھ نہیں کر رہا ، میں انہیں کہتا ،بیٹا ! میرے لیے دعائیں کرو ،اللہ تعالی مجھے بخش دے،وہ یہ سن کر رونے لگتے ،اور کہتے ،احسان بھائی،اللہ آپ کو ضرور بخش دے گا ،آپ کو تو بہت نیک ہیں ،یہ سن کر میں رونے لگتا ،کچھ بچوں کے ساتھ میرا ایسا تعلق بن گیا تھا کہ جب میں مدرسہ پہلا مدرسے چھوڑ کر جانے لگا ،تو وہ ایسے رو رہے تھے ،جیسے انکی دنیا ہی اجڑ گئی ہو،جیسے ان کوئی پیارا دنیا سے جا رہا ہو،وہ مجھے کہتے تھے ،احسان بھائی آپ چلے جائیں گے ،تو ہمیں آپ جیسی باتیں کون بتائے گا ،میں انہیں کہتا ،بیٹا ! دیکھو ،آپ کی خوشی دیکھو یا اللہ کی خوشی دیکھو ،وہ روتے ہوئے کہتے ہیں ،اللہ کی ،تو میں کہتا ،بیٹا ! اللہ کیلئے مجھے اجازت دے دیں ۔

میں نے زندگی میں بہت سے مدرسے تبدیل کیے ہیں ،غالبا میں نے تیس سے چالیس مدرسوں میں پھرا ہوں ،میں ایسا کیوں کرتا تھا ،آپ کو بتاتا ہوں ،میں سب سے پہلے جس مدرسے میں داخل ہوا تھا ،وہاں میں نے دو سال تک پڑھا ،تو مجھے احساس ہوا ،میرے تقوی میں کمی ہو رہی ہے ،مجھے کسی بہت ہی نیک آدمی کے پاس جانا چاہیے ،جومیرے دل کو بہت نیک بنا دے ،میں خوب سوچتا رہا ،کہاں جائو ،پھر فیصلہ کیا ،دعوت اسلامی والے نیک ہوتے ہیں ،انکے مدرسے میں چلا جاتا ہوں ،میں نے کچھ پیسے جمع کیے ،سامان اٹھایا اور دعوت اسلامی کے مدرسے میں پہنچ گیا ،مدرسے والوں سے پوچھا ،میں نے تیسرے سال میں داخلہ لینا ہے ،کیا میرا داخلہ ہو جائے گا ۔۔؟؟

مدرسے والوں نے کہا ،ہم آپ سے دوسرے سال کی کتابوں کا امتحان لیں گے ،اگر آپ نے وہ پاس کر لیا ،تو ہم آپ کو تیسرے سال میں داخلہ دے دیں گے ،میں نے ٹیسٹ دیا اور پاس ہوگیا ،مزے کی بات بتائوں ،میں جس بھی مدرسے میں جاتا تھا ،مجھے داخلہ مل جاتا تھا ،کیونکہ مجھے تیسرے سال کے شروع میں ہی بغیر زیر ،زبر ،پیش والی عربی عبارت پڑھنا آگئی تھی ،بس جسے یہ پڑھنا آجائے ،اسے ہر مدرسے میں باآسانی داخلہ مل جاتا ہے ،یقینا آپ میں سے جو لوگ مدرسے سے وابستہ ہیں ،وہ یہ جاننا چاہییں گے کہ میں نے تیسرے سال میں کیسے بغیر زیر ،زبر ،پیش والی عربی عبارت پڑھنا سیکھ لی تھی

در اصل میری عادت تھی کہ مجھے گھر سے جو بھی پیسے ملتے تھے ،میں واپسی کا کرایہ نکال کر باقی سب پیسو ں کی کتابیں خرید لیتا تھا ،میں شروع شروع میں صرف عربی سیکھنے والی کتابیں خرید تا تھا ،حتی کہ علم الصرف اور علم النحو کی کوئی بھی کتاب ملتی میں خرید لیتا ،ان کتابوں سے مجھے فائدہ یہ ہوا کہ میں ایک ہی اصول کو جب مختلف کتابوں سے پڑھتا ،تو مجھے وہ زیادہ آسانی سے سمجھ میں آجاتا تھا

یوں ہی کتابیں خریدتے ہوئے ،میں نے ایک دن میں نے ایک کتاب خریدی ،جو مولانا حسن صاحب کی لکھی ہوئی تھی ،کتاب کا نام تھا "العلامات النحویہ فی حل تراکیب عربیہ "یقین مانیے ،اس کتاب نے مجھے وہ فائدہ دیا جو ناقابل بیان ہے میں نے جب اس کتاب کو پڑھا ،اس کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا ،تو ایک ماہ کے اندر مجھے عربی عبارت پڑھنا آگئی ،میری ترجمہ کرنے کی صلاحیت بھی بہت اچھی تھی ،میں بڑی آسانی سے عربی عبارت کا با محاورہ ترجمہ کر لیتا تھا

اس کے پیچھے بھی ایک راز تھا وہ بھی بتادیتا ہوں ۔

در اصل میں مفید باتیں اپنے پاس لکھ کر محفوظ کر لیتا تھا ،میرا لکھنے کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے عنوان دیتا ،پھر عربی عبارت لکھتا ،پھر حوالہ لکھتا اور نیچے ترجمے کے لیے جگہ چھوڑ دیتا ،پھر بغیر کسی کی مدد لیے ،ڈکشنری کے ذریعے اس عبارت کا ترجمہ کرتا ،ایسا کرنے سے مجھ میں ترجمہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگئی ۔

یہ مفید باتیں میں کیوں جمع کرتا تھا ،یہ بھی بتاتا چلوں،میں یہ ساری باتیں کمپیوٹر پر کمپوز کرتا ،اس کےپرنٹ نکالتااور اسے مسجد کے شیشوں پر ٹیپ سے چپکا دیتاتھا ،میں ہرہفتے یا پندرہ دن بعد نئی معلومات مسجد کے شیشوں پر لگاتا تھا ،لوگ بھی اسے بڑے شوق سے پڑھتے تھے ،میں یہی معلومات اپنےویب بلاگ پر بھی شیئر کر دیتا تھا اوراس کے وال پیپر ز بنا کر اپنی فیس بک پر بھی شیئر کر تا تھا ،اب بھی میرے پاس کئی رجسٹر ایسی معلومات سے بھرے پڑے ہیں ،میرا اہل مدرسہ کو مشورہ ہے ،وہ بھی ایسا کریں ،بہت فائدہ ہوگا ۔

چلیں ،واپس دعوت اسلامی کے مدرسے میں چلتے ہیں ،میرا داخلہ تیسرے سال میں ہوگیا ،میں کلاس میں آیا ،تو وہ مختصر القدوری کا پیریڈ تھا ،ایک بزرگ سے استاد سبق پڑھا رہے تھے ،میں آیا ،تو انہوں نے مجھ سے چند سوال جواب کیے اور پھر کہا ،عبارت پڑھیے ،میں نے عبارت پڑھی ،تو اس میں ایک غلطی بھی نہیں آئی ،سب لڑکے حیران ہو گئے ،پھر استاد صاحب نے کہا ،آپ ترجمہ بھی کیجیے ،مدرسے کے لڑکوں میں عموما ترجمہ کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے ،اگر کوئی ترجمہ کرتا بھی ہے ،تو فقط لفظی ترجمہ کر تاہے ،میں نے ترجمہ کیا ،تو استاد صاحب نے تعجب سے پوچھا ،کہاں سے پڑھ کر آئے ہوں ،میں نے بتایا ،فلاں مدرسے سے ،پوچھا کون استاد پڑھاتے ہیں ،میں نے بتایا ،فلاں استاد ،کہنے لگے ،کیسے پڑھاتے ہیں ؟میں نے بتایا ،ان کے پڑھانے کا انداز ایسا ایسا ہے ۔

دعوت اسلامی کے مدرسے میں میرے ساتھ کیا کیا ہوا ،میں نے دعوت اسلامی والوں کو کیسا پایا ،اور پھر دعوت اسلامی کا مدرسے کیوں چھوڑا ،یہ جاننے کیلئے اگلی قسط کا انتظار فرمائیں ۔

چوتھی قسط:

میں نے مدرسے کی تدریس کیوں چھوڑی ۔۔؟؟

تحریر:

احسان اللہ کیانی

میں دعوت اسلامی کے مدرسے میں داخل ہوا، تو یہاں ماحول ہی الگ تھا، ہر لڑکے نے سفید سوٹ پہن رکھا تھا، اکثر کے سر پر طوطیہ سبز رنگ کا عمامہ تھا،بہت سے لڑکوں نے سر پر سفید چادریں بھی اوڑھ رکھی تھی، کچھ کے پاس گتھی رنگ کی چادریں تھی جو وہ بیٹھتے وقت جسم کے نچلے حصے پر ڈال لیتے تھے ،تاکہ بے پردگی نہ ہو ۔

میں لڑکوں کے پاس گیا، تو لڑکے مجھے بہت اچھے طریقے سے ملے، ان میں سے اکثر مسکرا کر بات کرتے تھے، کچھ حیاء سے نظریں جھکا کر بات کرتے تھے، وہ تُو اور تم نہیں، بلکہ ” آپ ” کہہ کر بات کرتے تھے

یہ نہ صرف گالی گلوچ سے بچتے تھے، بلکہ یہ غیر اخلاقی بات بھی نہیں کرتے تھے

ان میں سے اکثر کو نیک اور متقی بننے کا بہت شوق تھا، یہ لوگوں کو بھی نیک بنانے کی کوشش کرتے تھے

انہیں کتابیں پڑھنے کا بھی خاصا شوق تھا، ان میں سے بعض نے سینکڑوں کتابیں پڑھ رکھی تھی، کچھ نے پوری بہار شریعت اور کچھ فتاوی رضویہ مکمل پڑھنے کی تیاریوں میں تھے

یہاں لڑکے ایسے بھی تھے، جو دن میں ہزاروں بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود شریف پڑھتے تھے ،کچھ ایسے بھی تھے جو کئی بار قرآن کا ترجمہ پڑھ چکے تھے، یہاں ایک فضاء تھی، جس میں نیک بننا اور نیک رہنا آسان تھا

میں اس سے پہلے بھی بہت سے مدارس دیکھ کر آیا تھا، وہاں ایسا ماحول نہیں تھا

میں یہاں آکر بہت خوش ہوا، اساتذہ بہت با اخلاق تھے، یہاں مار پیٹ کا تصور بھی نہیں تھا ،استاد صاحب شاگردوں کا بھی احترام کرتے تھے

مثلا

کوئی لڑکا لیٹ آتا، تو اس سے پوچھنے کا انداز یہ ہوتا تھا

بیٹا ! آپ کہاں سے تشریف لا رہے ہیں ۔۔؟؟

حالانکہ

دیگر مدارس میں استاد یوں پوچھتے تھے

تم کہاں تھے ۔۔؟؟

تو کہاں سے آ رہا ہے ۔۔؟؟

تو کدھر مر گیا تھا، ابھی آ رہا ہے ..؟

ذلیلا تو کتھے رہ گیا سیں۔۔؟؟

(پنجابی استاد)

اب آپ کو بتاتا ہوں، میرے دن یہاں کیسے گزرے۔۔؟؟

میں نے پہلے دن سے ہی سفید سوٹ اور سبز عمامہ پہن لیا تھا، لیکن میں گھر پہنچنے کے بعد سبز عمامہ نہیں پہنتا تھا ،کیونکہ یہ پہن کر بندہ ساری دنیا سے الگ تھلگ لگتا ہے،لوگ بھی اسے طوطا کہتے ہیں

میں کبھی کبھی کالا اور سفید عمامہ باندھتا تھا، لیکن سبز عمامے سے احتراز کرتا تھا

دوستو!

میں سمجھتا ہوں، بندے کو اپنے علاقے کی علماء ہی کی طرح رہنا چاہیے، ورنہ بندہ خلائی مخلوق کی طرح لگتا ہے، دوستو! ایسے فتاوی بھی موجود ہیں، جن میں اپنے علاقے کی وضع قطع سے الگ تھلک لباس اختیار کرنے کو وجہ شہرت اور مکروہ لکھا گیا ہے

خود فتاوی رضویہ میں بھی یہ بات لکھی ہے

دعوت اسلامی کے مدرسوں میں عطاری بنانے پر بڑا زور بھی لگایا جاتا تھا، مجھ پر بڑی محنت کی گئی لیکن میں عطاری نہیں ہوا

وہ مجھ سے ہمیشہ پوچھتے، آخر کیا وجہ ہے ،آپ کیوں عطاری نہیں ہو رہے، میں کوئی وجہ بتا نہیں سکتا تھا، کیونکہ میں جانتا تھا، وہ اپنے پیر سے انتہاء درجے کی محبت کرتے تھے

میں انہیں بتاتا یار

میں صرف نیک بننا چاہتا تھا، دعوت اسلامی والا یا عطاری نہیں بننا چاہتا، میں ایک عام مسلمان رہنا چاہتا ہوں

اسی لیے میں نے کبھی دعوت اسلامی کی اصطلاحیں نہیں بولی، میں اس طرح کی اصطلاحوں کے مخالف تھا

میں اردو میں عربی تلفظ کے بھی خلاف تھا

میں صرف سبز عمامہ کی تخصیص کے بھی خلاف تھا

میں چھ جیبوں والی قمیص کا بھی حمایتی نہیں تھا

میں انہیں کہتا تھا، یار عام مذہبی لوگوں کی طرح حلیہ اور وضع قطع اختیار کرو، عام لوگوں کی زبان میں بات کروں

میں انہیں کہتا

یار اس طرح تمہارا کام زیادہ پھیلے گا، وہ مجھے کہتے، اگر اس طریقے میں کوئی کمی ہوتی تو دعوت اسلامی نوے ممالک میں نہ پھیل چکی ہوتی

میں انہیں کہتا ،یار اگر تم یہ چیزیں چھوڑ دو گے، تو اس سے بھی زیادہ ممالک تک پہنچ جاؤ گے

مجھے افسوس ہے کہ

اس وقت میری بات نہیں مانی گئی البتہ آج مجھے خوشی ہوتی ہے، دعوت اسلامی یہ سب چیزیں چھوڑ چکی ہے

میں دعوت اسلامی میں اس وجہ سے بھی ایڈجسٹ نہیں ہو سکا

کیونکہ

میں مدرسے جانے سے بھی پہلے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کو سنا کرتا تھا،اس وقت مجھے ان سے خاصی محبت بھی تھی،ایک دن کوئی بات ہوئی تو میں نے کہہ دیا، ڈاکٹر صاحب نے اس موضوع پر ایک زبردست کتاب لکھی ہے،استاد صاحب نے پوچھا، کون سے ڈاکٹر صاحب نے ۔؟؟

میں نے کہا، شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے، استاد صاحب نے ناک چڑھا کر کہا، اسے شیخ الشیطان، طاہر الپادری کہا کرو، سب لڑکے میری طرف دیکھ کر ہنسے لگے

مجھے اس وقت بالکل بھی معلوم نہیں تھا، یہ دعوت اسلامی والے ڈاکٹر صاحب سے اتنی نفرت کرتے ہیں، وقت گزرنے سے معلوم ہوا، دعوت اسلامی میں ڈاکٹر صاحب کو شیخ الاسلام کہنا حرام اور ڈاکٹر صاحب کہنا مکروہ تحریمی ہے

ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ

میں ابتدا میں پیر کرم شاہ صاحب کے ایک شاگرد کے مدرسے میں پڑھا تھا، مجھے ان سے خاصی عقیدت بھی تھی، ایک دن میرے استاد صاحب نے کہا، کڑم شاہ نے بھی ایک دیوبندی کی کتاب پر تقریظ لکھی تھی ،وہ بھی صحیح العقیدہ نہیں تھا

ایک وجہ یہ بھی تھی کہ

دعوت اسلامی والے دیوبندیوں، اہل حدیثوں ،منھاجیوں اور شیعوں کو کتے سے بھی زیادہ برا سمجھتے تھے،یعنی اپنے سوا سب کو برا سمجھتا تھے، جبکہ میں اتحاد امت کا قائل تھا، اس لیے میرا ان کے ساتھ چلنا تقریبا ناممکن تھا

ایک وجہ یہ بھی تھی کہ

یہ انتہائی متعصب رضوی تھے، یہ اعلی حضرت کے علاوہ کسی دوسرے کی تحقیق کو قبول نہیں کرتے تھے

جبکہ میں کسی دوسرے مزاج کا بندہ تھا

لیکن

اس کے باوجود میں تسلیم کرتا ہوں، دعوت اسلامی والوں کا ماحول سینکڑوں مدارس سے زیادہ اچھا ہے

میں مولانا الیاس قادری صاحب کو بھی بہت نیک آدمی سمجھتا ہوں، ان کے تقوے اور احتیاط کا بھی معترف ہوں، ان کی خدمات کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں

مزہ کی بات بتاؤ، ایک بار دوستوں کے اسرار پر میں میسجی عطاری بھی ہو گیا تھا، یعنی میں نے ایک مرتبہ ایک نمبر پر میسج کیا تھا،جس پر میسج کرنے سے بندہ عطاری ہو جاتا ہے ،لیکن میرا خیال ہے، اب میں عطاری نہیں ہوں

میں نے اس کے بعد مولانا رضا ثاقب مصطفائی صاحب کے ادارے میں جانے کا ارادہ کیا، وہاں کیسے گیا، وہاں میرے ساتھ کیا ہوا، اس کیلئے اگلی قسط کا انتظار کریں

پانچویں قسط:

میں نے مدرسے کی تدریس کیوں چھوڑی..؟؟

تحریر:

احسان اللہ کیانی

دعوت اسلامی کے بعد میں مولانا رضا ثاقب مصطفائی صاحب کے مدرسے میں پڑھنے چلا گیا تھا، وہاں کیسے گیا تھا ۔۔؟؟

یہ قصہ بھی بہت دلچسپ ہے

میں اکثر اہلسنت کی نئی ویب سائٹز تلاش کرتا رہتا تھا،جب بھی کوئی ویب سائٹ ملتی تھی ، تو اسکی خوب تشہیر کرتا تھا، میں سُنیت کو سارے عالم میں پھیلانا چاہتا تھا

ایک دن یونہی مجھے گوگل سرچ پر ایک ویب سائٹ نظر آئی، جس کا نام ادارۃ المصطفی ڈاٹ کام تھا، اس میں آڈیو اور وڈیو کی صورت میں مولانا رضا ثاقب مصطفائی صاحب کے بیانات تھے، میں نے انکے بیانات سنے، تو میں بہت خوش ہوا اور میں نے کہا

یہ وہ بندہ ہے ،جو سُنیوں میں طارق جمیل جیسے خطیب کی کمی کو پورا کر سکتا ہے،یاد رہے، میں نے مولانا طارق جمیل صاحب کے بہت سے خطابات، مولانا انور بن اختر صاحب کی کتب سے پڑھے تھے،وہ دل پر بڑا گہرا اثر چھوڑتے تھے، میرا جی چاہا، کیوں نہ مصطفائی صاحب کے بیانات کو کتابی شکل میں مارکیٹ میں پیش کیا جائے

میں براہ راست تو ادارۃ المصطفی کے کسی بندے سے نہ مل سکتا تھا ،نہ ملنے چاہتا تھا

اس لیے میں نے ادارۃ المصطفی کی ویب سائٹ پر رابطہ کیا، وہاں میری بات ایک بہت اچھے انسان سے ہوئی، ان کا نام ساجد بھائی تھا

میں نے انہیں اپنے بنائے ہوئے کچھ وال پیپر دکھائے ،اپنے ویب بلاگ کا لنک دیا اور کہا، میں اسلام آباد میں رہتا ہوں، میں مصطفائی صاحب کیلئے کام کرنا چاہتا ہوں، میرا جی چاہتا ہے، میں انکے اقوال زریں کے وال پیپرز بناؤں اور انکے بیانات کو کتابی شکل میں منتقل کر دوں ،میں نے کہا، میں یہ سب کام فی سبیل اللہ کرنے کو تیار ہوں

میں نے انہیں کہا

میں درس نظامی کے چھٹے سال میں پڑھتا ہوں، اگر میرا داخلہ جامعۃ المصطفی میں ہو جائے، تو میں وہاں پڑھتا بھی رہوں گا اور یہ سب کام بھی کرتا رہوں گا

انہوں نے کہا، احسان بھائی میں ناظم صاحب سے بات کر لوں، پھر میں آپ کو بتاؤں گا،میں نے کہا، بہت شکریہ بھائی

پھر کچھ ٹائم بعد انھوں نے بتایا، میری ناظم صاحب سے بات ہوئی ہے،آپ بھی ایک بار فون پر ان سے بات کر لیں، میری ان سے فون پر بات ہوئی، تو انھوں نے مجھے کہا، آپ ایک بار مل لیں، تو بہتر ہوگا، میں نے کہا، میں کل صبح ان شاء اللہ آپ کے پاس ہوں گا

میں صبح سویرے یہاں سے گوجرانوالہ کی گاڑی میں بیٹھ گیا، جی ٹی روڈ سے تقریبا ساڑھے چار گھنٹے لگے اور میں پنڈی بائی پاس پہنچ گیا، وہاں سے لوگوں سے پوچھتے پوچھتے،بالآخر جامعۃ المصطفی پہنچ گیا،لوہیانوالہ یہ بالکل دیہی علاقہ تھا، یہاں گلی میں گدھا گاڑیاں بھی نظر آتی تھی اور کبھی کبھار دوسرے مویشی بھی، مجھے وہاں ساجد بھائی کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا

میں ہمیشہ کے طرح بےکار سے حلیے میں وہاں پہنچا،پرانے سے سفید کپڑے تھے، سفید ٹوپی تھی، غالبا لنڈے کی سویٹر یا ہپر پہنا ہوا تھا، ساجد بھائی سے ملاقات ہوئی، انھوں نے ناظم صاحب سے ملایا، ناظم صاحب نے پوچھا، کیا آپ کے پاس تنظیم المدارس کی سند ہے، شاید وہ مجھے دیوبندی سمجھ رہے تھے، اس لیے ایسا پوچھا، میں نے بتایا، جی ہاں، میرے پاس تنظیم المدارس اہلسنت کی سند ہے، مختلف باتیں ہوئی ،پھر انھوں نے کہا، ہمیں آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے، آپ آجائیں،

میں بہت خوش ہوا اور واپس اسلام آباد آگیا

میں گھر پہنچا، کچھ آرام کیا اور واپسی کیلئے تیاری شروع کر دی،اس بار میں ضرورت سے زیادہ کتابیں وغیرہ اپنے ساتھ مطالعے کیلئے لے گیا تھا، میں نے بہت سے رجسٹر بھی لے لیے تھے، تاکہ ان پر مختلف مواد جمع کیا جا سکے۔

میں غالبا ایک یا دو دن بعد دوبارہ گوجرانوالہ کیلئے روانہ ہوگیا تھا ، یہاں شام کو پہنچا تو ساجد بھائی سے رابطہ کیا،انھوں نے بتایا، میں صبح کے ٹائم ادارے میں ہوتا ہوں، ابھی گھر ہوں، صبح ملاقات ہوگی، انھوں نے کسی سے کہا اور میرے لیے بستر کا بندوبست ہوگیا

میں مہمان خانے میں پہنچ گیا،خدا کا شکر ہے،مجھے کوئی رضائی دے گیا، رات ہوئی تو میں سو گیا، تھہجد کا وقت ہوا تو میں اٹھ گیا،تھجد پڑھی، پھر کچھ دیر لیٹ گیا ،پھر فجر کی اذان کا انتظار کرنے لگا، اذان ہوئی تو دوبارہ مسجد میں چلا گیا، سنتیں ادا کیں اور تلاوت یا ذکر اللہ میں مصروف ہوگیا،نماز ختم ہوئی، دعا ہوئی، سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے، میں بھی مہمان خانے میں چلا گیا

میرا سونے کا ارادہ تھا، لیکن اس ڈر سے نہیں سویا کہ کوئی کھانے دینے آئے گا، تو کیا سوچے گا، مولوی صاحب ابھی تک سو رہے ہیں، لہذا میں اٹھا رہا، لیکن ۔۔۔کوئی نہیں آیا

حتی صبح کے نو بج گئے،بالاخر ساجد بھائی آ ہی گئے، انھوں نے میری ملاقات ناظم صاحب سے کروائی اور میرا داخلہ ہوگیا، میں ہنستے مسکراتے چہرے کے ساتھ کلاس میں بیٹھ گیا

یہاں میں فورا ہی لڑکوں میں گھل مل گیا،لڑکے بھی بہت اچھے تھے،کلاس میں میری مختلف اساتذہ کرام سے بھی ملاقات ہوئی

میں حیران تھا کہ میں نے ان میں سے کسی کو بھی پہلے نہیں دیکھا، حالانکہ میں انکی ویب سائیٹ پر موجود تمام وڈیوز دیکھ چکا تھا، مجھے ایسے لگا، جیسے ادارہ اپنے اساتذہ کو اپنے سٹیج پر نہیں لانا چاہتا، بلکہ آج تک بھی میں نے ان اساتذہ کو ادارۃ المصطفی کے سٹیج پر نہیں دیکھا، اس کی کیا وجہ ہے، یہ بھی قابل غور ہے، لیکن فی الحال اسے چھوڑیں، آگے بات بتاتا ہوں

یہاں طلباء اور اساتذہ میں میری معلومات کو کافی سراہا گیا،لڑکوں میں بھی مجھے بہت سے اچھے دوست ملے، کچھ ایسے تھے، جن کے ساتھ بیٹھ کر انسان سب غم بھول جاتا تھا، وہ ہنسا ہنسا کر پیٹ میں مروڑ ڈال دیتے ہیں

میرے خیال میں اس وقت سب سے مزاحیہ آدمی کاشف بھائی تھے، میں نے ان کے ساتھ بڑا اچھا وقت گزارا ،مجھے آج بھی وہ بہت یاد آتے ہیں، کچھ اور دوستوں کا بھی تعارف کروانا ہے، وہاں سے متعلق بتانے کیلئے ابھی بہت کچھ ہے، اس لیے اس تحریر کو ایک دوسری قسط تک باقی رکھنا ہوگا

ملتے ہیں اگلی قسط میں

چھٹی قسط:

میں نے مدرسے کی تدریس کیوں چھوڑی؟؟

تحریر:

احسان اللہ کیانی

مولانا رضا ثاقب مصطفائی صاحب کے مدرسے میں پڑھائی بہت اچھی تھی، نظم و ضبط بھی کافی اچھا تھا،مولانا ارشد صاحب پابندی سے طلباء کو تکرار کے لیے بھی بٹھاتے تھے

یہاں اس وقت ایک استاد مفتی فہیم مصطفائی صاحب تھے، میں ان کے نام کو پہلے بھی جانتا تھا، کیونکہ میں نے ان کے بہت سے چھوٹے چھوٹے رسائل راولپنڈی کی مارکیٹ میں دیکھے تھے، میں نے ان سے مشکوۃ شریف کے کچھ اسباق پڑھے تھے ۔

یہاں ایک استاد مفتی ابوبکر صاحب بھی پڑھاتے تھے، جو زبردست خطیب اور مناظر تھے، پڑھانے کا انداز بھی اچھا تھا، میں نے ان سے قطبی اور مقامات کے کچھ اسباق پڑھے تھے

یہاں ایک استاد صاحب تھے ،جو مفتی فضل احمد چشتی صاحب کے فین تھے، مجھے باقیوں کی نسبت یہ جدا دکھائی دیے، زبردست تقوی اور دینی غیرت والے تھے، پڑھانے کا انداز بھی بہت اچھا تھا، میں نے ان سے حسامی کے کچھ اسباق پڑھے تھے

یہاں بہت سے دوست ملے، جو آج بھی یاد آتے ہیں، میں دلی طور پر یہاں کافی مطمئن تھا

لیکن میرے لیے یہاں کچھ پریشانی بھی تھی، پہلی مدرسے کے لڑکے عصر کے بعد باہر چلے جاتے تھے، جبکہ مجھے باہر جانے کا دل نہیں کرتا تھا، میں چاہتا تھا، اس ٹائم میں بھی کچھ اضافی کتب کا مطالعہ کر لوں،میں ان دنوں فتاوی رضویہ کی بائیسویں جلد کا مطالعہ کر رہا تھا

میں ناظم صاحب کے پاس گیا اور کہا، میں فتاوی رضویہ کی ایک جلد پڑھنا چاہتا ہوں، اجازت دیں، تو یہاں آپ کے سامنے آفس میں بیٹھ کر پڑھ لیتا ہوں یا سامنے مسجد میں بیٹھ کر پڑھ لیتا ہوں، مغرب کی اذان سے کچھ پہلے یہاں دے جاؤں گا

جواب ملا

میرے پاس لائبریری کی چابی نہیں ہے، میں نے سینے پر ہاتھ رکھا، سر ذرا سا نیچے کیا اور کہا ،جی ٹھیک ہے، پھر واپس آگیا، لیکن مجھے دلی طور پر یہ بات اچھی نہیں لگی کہ ایک طالب علم کتاب پڑھنا چاہتا ہے اور اسے اجازت نہیں دی جا رہی، صرف اس خوف سے کہ یہ کتاب کی جلد یا بائنڈنگ کو خراب کر دے گا، پھر یہ الماری میں پڑی ہوئی اچھی نہیں لگے گی ۔

خیر وقت گزرتا رہا، میں صبح درس نظامی پڑھتا، پھر لڑکوں کے ساتھ کچھ دیر تکرار کرتا اور رات تک ان ہی کو دہرا کر وقت گزار دیتا

ہر کچھ دن بعد میں ناظم صاحب کے پاس جا کر کہتا، مجھے کمپیوٹر لیب میں بیٹھنے کی اجازت دیں، تاکہ میں کچھ وال پیپر بنا سکوں، یا حضرت صاحب کے بیانات کو کمپوز کر سکوں، لیکن جواب ملتا تھا، ابھی نہیں، ابھی یہ مسئلہ ہے، ابھی یہ مسئلہ ہے، میں نے انہیں کہا، حضرت اگر مجھ پر بھروسہ نہیں تو آپ مجھ سے کام کروا لیں، پھر چیک کریں، اگر وہ صحیح ہو تو اپ لوڈ کریں ،ورنہ نہ کریں، لیکن ہر دفعہ کوئی نیا بہانا ہوتا تھا، تقریبا ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا

اتنے ٹائم میں مجھے اندازا ہوگیا کہ یہاں صرف درس نظامی پڑھنے کا ہی موقع ملے گا، نہ لائبریری میں بیٹھنے کی اجازت ملے گی ،نہ ہی کمپیوٹر لیب میں بیٹھنے کی اجازت ملے گئی، میں نے سوچا کہ میں جو پہلے روزانہ اپنی ویب سائٹ پر اسلامی مواد اپ لوڈ کرتا تھا، اسے دو ہزار آدمی روزانہ دیکھ لیتے تھے اور میری نیکیوں میں اضافہ ہوتا تھا ،اب یہ سلسلہ رک گیا ہے ،میں نے کہا، اگر صرف درس نظامی ہی پڑھنی ہے، تو پنڈی میں اس سے اچھے ادارے موجود ہیں

یہاں آنے کا مقصد درس نظامی تو نہیں تھا بلکہ مصطفائی صاحب کے بیانات کمپوز کرنا تھا، کیونکہ مجھے امید تھی، یہ زیادہ لوگوں تک جائیں گے اور مجھے زیادہ ثواب ملے گا

خیر کچھ دن بعد میں نے یہ مدرسے چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا، راتوں رات تیاری کی اور صبح فجر کی اذان کے ساتھ ہی میں جامعہ سے نکل گیا

یاد رہے ،ان دنوں مولانا رضا ثاقب مصطفائی صاحب مدرسے میں موجود نہیں تھے، بلکہ وہ ایک انٹرنیشنل دورے پر تھے ۔

اس کے بعد میں بہت سے جامعات میں گومتا رہا، بالآخر میں جامعہ نعیمیہ لاہور پہنچ گیا ،سارا پاکستان چھوڑ کر یہاں دورہ حدیث کرنے کیوں آیا تھا، یہ مدرسہ مجھے کیسا لگا، اس کیلئے اگلی قسط کا انتظار فرمائیں

ساتویں قسط:

میں نے مدرسے کی تدریس کیوں چھوڑی؟؟

تحریر:

احسان اللہ کیانی

میں بہت سے مدرسوں میں گومنے کے بعد بالاخر جامعہ نعیمیہ لاہور آگیا تھا، یہاں آنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہاں کے ناظم صاحب کشادہ ذہن کے مالک تھے، یہاں کے ماحول میں تنگ نظری بالکل بھی نہیں تھی ۔

یہاں سیفی بھی تھے، عطاری بھی تھے، جلالی بھی تھے، لبیکی بھی تھے اور بہت سے غامدی بھی تھے لیکن جامعہ میں کسی کے سوچنے اور بولنے پر پابندی نہیں تھی، ہر شخص اپنی بات کر سکتا تھا ۔

یہاں آنے کی ایک وجہ یہاں کی وسیع و عریض لائبریری بھی تھی، جہاں ہر طالب علم کو کتابیں پڑھنے کی مکمل اجازت تھی،میں نے یہاں خوب کتابیں پڑھیں، میں اس سے پہلے جتنے بھی جامعات سے گوم کر آیا تھا، کسی بھی جگہ کتابیں پڑھنے کی اتنی آزادی نہیں تھیں، جتنی یہاں تھیں ۔

یہاں کا ماحول بہت زبردست تھا، خوبصورت بلڈنگ تھی، کشادہ صحن تھا،لڑکے پڑھے لکھے اور قدرے تمیز دار تھے، یہاں جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ ایک صاحب کا رویہ تھا، جو یہاں کے ہاسٹل انچارج تھے، وہ اردو میں بات کرتے تھے، تمیز اور تھذیب ان کے ہر ہر لفظ سے چھلکتی تھی

ورنہ عموما مدارس میں ہاسٹل انچارج اس شخص کو بنایا جاتا ہے، جو انتہائی بدتمیز و بد تھذیب قسم کا انسان ہوتا ہے،جو بعض اوقات تو وحشی درندوں سے بھی زیادہ سخت دل ہوتا ہے

یہاں میٹرک سے ایم اے تک عصری تعلیم بھی دی جاتی تھی لیکن میں نے یہاں عصری تعلیم میں داخلہ نہیں لیا، کیونکہ میں جب دیکھتا تھا ،کچھ لڑکے حدیث شریف کے پیریڈ میں بھی بی اے کی انگلش رٹ رہے ہوتے تھے، تو مجھے بہت دکھ ہوتا تھا، میں سوچتا تھا، اگر یہ لڑکا آج ہی فوت ہو جائے، تو یہ اللہ اور رسول کی بارگاہ میں کیا جواب دے گا، اس کے نزدیک تو حدیث سے زیادہ بی اے کی انگلش کی اہمیت تھی ۔

لیکن آج مجھے بعض اوقات افسوس بھی ہوتا ہے، کاش میں بھی بی اے تک تعلیم حاصل کرلیتا تو زیادہ اچھا تھا

کیونکہ جب میں مدرسے اور مسجد کے لوگوں کا رویہ دیکھتا ہوں، تو احساس ہوتا ہے، اچھی عصری تعلیم بھی طلباء کے پاس ہونی چاہیے، تاکہ اگر وہ مسجد و مدرسے میں ایڈجسٹ نہ ہو سکیں، تو کوئی مناسب کام کر سکیں ۔

مجھے یہاں سب سے زیادہ پسند دو اساتذہ کرام تھے، ایک مفتی انور القادری صاحب اور دوسرے ڈاکٹر راغب حسین نعیمی صاحب۔

مفتی انور القادری صاحب انتہائی نیک اور متقی آدمی تھے،یہ انتہائی رحم دل اور بااخلاق تھے، گالی گلوچ تو بہت دور کی بات ہے، میں نے کوئی بدتمیزی والا لفظ بھی کبھی انکی زبان سے نہیں سنا،میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں، جس سے آپ کو اندازہ ہوگا، یہ حقوق العباد میں کس قدر احتیاط کرنے والے انسان تھے، ایک مرتبہ سخت بارش ہو رہی تھی، استاد صاحب نے بلغم پھینکنے جانا تھا، استاد صاحب چپلوں والی جگہ آئے، جلدی سے دیکھا، مگر اپنی چپل نظر نہیں آئی، انھوں نے بغیر اجازت کسی طالبعلم کی چپل پہننا مناسب نہ سمجھا اور ننگے پاؤں بارش میں وضو خانے کی طرف چلے گئے۔

ڈاکٹر صاحب سے متاثر ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ سب کچھ سن لیتے تھے، اختلاف رائے برداشت کر لیتے تھے، اپنے سے اختلاف کرنے والے کو بے ادب نہیں سمجھتے تھے، میری اور انکی سوچ میں بعض اوقات نوے درجے کا اختلاف ہوتا تھا، لیکن وہ استاد ہوتے ہوئے بھی میری رائے سن لیتے تھے اور برداشت کر لیتے تھے، کلاس میں میرے ایک ساتھی تھے، جو زبردست خطیب اور مناظر تھے، میری اور انکی بحث اکثر ہوتی رہتی تھی ،بعض اوقات یہ سلسلہ راغب صاحب کے سامنے بھی جاری رہتا تھا، راغب صاحب اسے سنتے تھے، برداشت کرتے تھے اور ہمارے درمیان فیصلہ بھی فرما دیتے تھے ۔

یہاں تقریبا میری پوری کلاس سے ہی دوستی تھی، میں ہر ایک کے پاس بیٹھ جاتا تھا اور ہر ایک مجھے اپنے پاس بٹھا لیتا تھا

لیکن میں یہاں صرف اپنی تعریفیں ہی نہیں کروں گا بلکہ کچھ تلخ حقیقتیں بھی بیان کروں گا

میرے ایک بہت ہی قریبی دوست مجھے” فتنہ” کہہ کر پکارتے تھے،کچھ لوگ مجھے "فساد فی الارض” کی جیتی جاگتی مثال قرار دیتے تھے

در اصل اسکی وجہ یہ تھی کہ میں نے ان دنوں بریلوی مسلک کی اصلاح کی کوشش شروع کر دی تھی

میرا طریقہ کار یہ تھا کہ میں ایک پوسٹ لکھتا تھا، جس کی سرخی ہوتی تھی، بریلوی حضرات توجہ فرمائیں، اس کے بعد ایک بات جس میں بریلوی لوگ غلطی پر تھے، وہ لکھتا تھا، پھر "توجہ طلب” کا لفظ لکھتا تھا اور اس پر تبصرہ کر دیتا تھا، جوابا بریلوی دوست مجھے ماں بہن کی گالیاں دیتے تھے، وہ گالیاں اتنی زیادہ ہوتی تھیں کہ پڑھتے پڑھتے میرا چہرہ اور کان لال ہو جاتے تھے

میرے قریبی دوست پنجابی میں پوچھتے تھے

” احسان پائی! اج لگدا اے، بوتیاں گالیاں پی گئیا نے، کن بہتے لال نے”

جس کا ترجمہ ہے، احسان بھائی لگتا ہے، آج گالیاں زیادہ پڑ گئی ہیں، کان زیادہ لال لگ رہے ہیں

اس وقت مجھے پتا چلا تھا، دین کے نام پر گالیاں دینا بہت آسان ہے، جب کہ دین کیلئے گالیاں کھانا بہت مشکل ہے، میں یہ گالیاں سنتے تھا، تو مجھے انبیاء کرام کی تکلیفوں کا احساس ہوتا تھا، وہ کیسے لوگوں کے طعنے برداشت کرتے ہوں گے، خیر میں گالیاں سنتا رہا اور برداشت کرتا رہا، میں جوابا کسی کو گالی نہیں دیتا تھا بلکہ میں تو سخت لفظ میں جواب بھی نہیں دیتا تھا ۔

میری اس دعوت کو بڑی شہرت ملی،جامعہ میں سے ہی کچھ لوگوں نے مجھے مارنے کی پلاننگ شروع کر دی تھی ، مجھے معلوم ہوا کہ لوگ مجھے مارنے کی سکیم تیار کر رہے ہیں، لیکن میں نے پھر بھی یہ سلسلہ نہیں روکا، مجھے معلوم تھا، میں پردیس میں بیٹھا ہوں، مجھے آسانی سے ٹھیک ٹھاک مارا جا سکتا ہے، لیکن میں کہتا تھا، خیر ہے، اللہ کے دین کے لیے مار بھی کھا لیں گے ۔

ایک دفعہ میرے قریبی دوست نے فیس بک پر میری پوسٹ اور کمنٹ دیکھے، تو کہا، اب تم عالمگیر فتنہ بنتے جا رہے ہو، میرا یہی سلسلہ چلتا رہا حتی کہ جامعہ میں میرے آخری دن آگئے

ڈاکٹر صاحب نے ایک دن ہم سے پوچھا، آپ لوگ فراغت کے بعد کیا کریں گے، سب لڑکوں نے مختلف رائے دیں، دو لڑکوں نے کہا ،ہم مدرسے میں تدریس کریں گے،جن میں سے ایک میں تھا، ڈاکٹر صاحب نے ہم دونوں سے پوچھا، کیا آپ کی کسی مدرسے میں بات ہوچکی ہے، اس نے کہا، جی ہاں، میں نے کہا، ابھی تک کسی جگہ بات نہیں ہوئی ،مجھے اللہ پر بھروسہ تھا، مجھے باآسانی تدریس مل جائے گی اور میں کم تنخواہ پر گزارا بھی کر لوں گا

آپ میں سے اکثر دوست جاننا چاہتے ہوں گے کہ میں کس سال جامعہ میں پڑھتا تھا، تو جناب یہ سال بہت مشہور تھا،اکثر ٹی وی چینلز پر بھی ہماری دستار بندی دکھائی گئی تھی، آپ ابھی یوٹیوب پر سرچ کریں، نواز شریف صاحب کو جوتی کس سال پڑی تھی، وہی سال ہماری دستار بندی کا تھا، میں بھی اس وقت سٹیج کے ایک طرف موجود تھا، جب میاں صاحب کو جوتی لگی تھی

لیکن میں میاں صاحب کی ایک خوبی کو یہاں بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں،جس کا مجھے اس وقت احساس ہوا، میاں صاحب نے جوتی لگنے کے بعد مختصر سی تقریر کی تھی، جس میں جامعہ نعیمیہ اور اسکے طلباء کیلئے دعائیں تھیں، میاں صاحب نے تقریر کا اختتام کرنے سے پہلے ہاتھ اٹھا کر کہا تھا، جامعہ نعیمیہ زندہ باد

میں چیلنج سے کہتا ہوں، ہمارے پچاس فیصد مولویوں کا رویہ اس معاملے میں نواز شریف صاحب جیسا بھی نہیں ہے، ہم تو گالی کا جواب گالی سے دیتے ہیں، جو ہمیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے، ہم اس کے کپڑے تک اتار دیتے ہیں ۔

مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد میرا ساتھ کیا کیا ہوا، میں نے کس مسجد اور کس مدرسے میں تدریس کی، مسجد اور مدرسہ چھوڑنے کی وجہ کیا بنی؟ اب کیا حالات چل رہے ہیں، یہ جاننے کیلئے، اگلی قسط کا انتظار فرمائیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے