چنگیز خان نے آدھی دنیا کیسے فتح کی؟

تحریر :

احسان اللہ کیانی

چنگیز خان نے آدھی دنیا کیسے فتح کی؟ کیا  صرف ظلم و بربریت سے؟کیا صرف لشکر جمع کرنے سے ؟ تو ایسا ہر گز نہیں ہے کیونکہ ایسے کام  تو بہت سے لوگوں نے کیے ہیں مگر وہ اس جیسی فتوحات  نہیں کر سکے ۔

چنگیز خان کا بچپن

ہم اس کے بچپن کو دیکھتے ہیں تو وہ کسی ترقی یافتہ اور متمدن علاقے میں پیدا نہیں ہوا بلکہ وہ  منگولیا کے ایک پسماندہ علاقے صحرائےگوبی میں پیدا ہوا جہاں  غربت اور افلاس کا عالم یہ تھا کہ لوگ لومڑیوں اور ریچھوں تک کا  شکار کرکے کھا جاتے تھے ۔

چنگیز خان کا خاندان

اس کا خاندان اور قبیلہ بھی کوئی عظیم الشان نہیں تھا اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ تیرہ سال کی عمر میں اس کے باپ کو دشمنوں  نے قتل کر کے اس کے پورےگاؤں کو آگ لگا دی اور اسے بھی اغوا کر کے لے گئے تھے ۔اسی طرح جب یہ سترہ سال  کا ہوا اوراس نے بورتائی سے پسند کی شادی کی تو دشمن اس کی بیوی کو بھی اٹھا کر لے گئے تھے ،یہی وجہ تھی  کہ اسے اپنے پہلے بیٹے جوجی پر شک تھا کہ وہ میری اولاد ہےبھی یا نہیں کیونکہ وہ دشمنوں کے پاس ہی پیدا ہوا تھا ۔

آخر وہ کیا چیزتھی جس کی وجہ سے چنگیز خان نےا ٓدھی دنیا فتح کر لی ،اس کی زندگی کا مطالعہ کریں تو چند چیزیں سامنےا ٓتی ہیں ، جن کی وجہ سےوہ اس قدر فتوحات کرنے میں کامیاب ہوسکا ۔

چنگیز خان کی فتوحات کی گیارہ وجوہات

سخت جان اور فاقوں کا عادی

سب سے پہلی وجہ تو یہ تھی کہ وہ  انتہائی سخت جان تھا پھر اسے علاقہ ایسا مل گیا تھا ،جو سخت جان بنانے کیلئے  انتہائی مفید تھا ،اس کے علاقے میں اشیاء خوردو نوش کی کمی تھی اور گرمی اور سردی بھی خوب پڑتی تھی ،اسی لیے وہ کئی کئی دن کے فاقے برداشت کرنے کا  عادی اورسخت گرمی اور سخت سردی بھی سہنا اس کیلئے معمولی بات تھی  بلکہ صرف چنگیز خان ہی نہیں بلکہ  یہی حال  پوری منگول فوج کا تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب منگول فوجیں خوارزم پر حملے کیلئےگئی تو راستے کی برف پوش پہاڑیاں اور یخ بستہ ہوائیں ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں  کیونکہ وہ پہلے ہی اس کے عادی تھے اگر یہاں کوئی دوسری فوج ہوتی تو یقینا حوصلے چھوڑ جاتی۔

سادہ زندگی کا عادی

دوسری وجہ یہ تھی کہ چنگیز خان ناز و نعم کی زندگی کو پسند نہیں تھا بلکہ ریگستانی زندگی ہی اسےعزیز تھی، یہی وجہ ہے کہ جب اس نے چین جیسی عظیم الشان سلطنت کو فتح کیا تو وہاں مقولی کو اپنا نائب مقرر کرکے خود واپس  منگولیا کے صحراؤں میں چلا گیا ۔

اتحاد کا داعی

تیسری وجہ یہ تھی کہ یہ لوگوں کو متحد کرنا جانتا تھا ،اس نے ابتداء اپنے بکھرے ہوئے قبیلے کو متحد کیا اور پھر بہت سے متفرق  اور باہم حریف قبائل کو یکجا کر دیا  ، اس نے انہیں متحد رکھنے کیلئے مسلسل  نئے دشمن  فراہم کیے کیونکہ یہ جانتا تھا اگر یہ دشمن سے نہ لڑے تو ایک دوسرے کو کاٹ کر پھینک دیں گے ۔جب اس کی سلطنت وسیع ہو ئی تو اس نے سب کو متحد رکھنے کیلئے ایک دستاویزی آئین بھی بنا لیا تھا ،جس میں  کچھ اچھی باتیں بھی تھی مثلا ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت تھی جب تک چنگیز خان کے مفادات متاثر نہ ہوں ،اسی طرح چوری ،زنا اور غداری کی سزا موت تھی ۔

مسلسل محنت و جدوجہد کرنے والا  

چوتھی وجہ یہ تھی کہ یہ انتہائی بہادر انسان تھا ،یہ موت کے منہ میں جاکر بھی  دشمن سے گبھراتا نہیں تھا ،یہ مسلسل محنت اور جدوجہد کا  بھی عادی تھی ،یہی وجہ ہے کہ  اس نے جب چین پر حملے کا ارادہ کیا تو یہ جانتا تھا،اس سلطنت نے شمالی حملوں سے حفاظت کیلئے دیوار چین بنارکھی ہے،جس کی چوڑائی اتنی زیادہ ہے کہ اس پر ایک وقت میں چھ گھوڑے دوڑ سکتے ہیں لیکن پھر بھی اس نے کئی سال  مسلسل جنگ لڑنے کے بعد چین  کو فتح کر لیا ۔

مشورہ کا عادی

پانچویں وجہ یہ تھی کہ یہ اپنے کاموں میں مشورہ کرکے چلتا تھا ، یہ اپنی بیوی سے بھی مشورہ لیتا تھا ، یہ عموما اپنے چاروں بیٹوں سے مشورہ کیا  کرتا تھا اور اوکتائی خان  کوتواس نے امیر مشاورت بنا رکھا تھا ،اسی طرح جب اس نے جب ایشائے بلند فتح کرنا چاہا تو بھی تمام ماتحت سرداروں سے مشورہ کیا تھا ۔

بہادروں کا قدردان

چھٹی وجہ یہ تھی  کہ یہ بہادروں کی بہت قدر کرتا تھا ،یہی وجہ ہے کہ اس کے پاس بے شمار بہادر جمع ہو گئے تھے ،جن میں سبدائی ،مقولی ،یغورچی اور قسار سرفہرست ہیں ،آپ اس کی جنگجوؤں سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ایک جنگ میں اسے کسی نے تیر مار دیا ،اس نے پوچھا  یہ تیرکس نے مارا ہے ،ایک جوان نے کہا میں نے اس نے اسے سزا دینے کے بجائے اپنے سپہ سالاروں مین شامل کر لیا اور کہا مجھے تم جیسے بہادروں کی ضرورت ہے ،اس شخص کا نام نویان تھا ۔

اقدام سے پہلے معلومات لینے والا

ساتویں وجہ یہ تھی کہ یہ اپنے جاسوسوں کے ذریعے پہلے پوری معلومات جمع کرتا تھا ،پھر کسی علاقے پر حملہ کرتا تھا مثال کے طور پر دیکھیے ،جب اس نے چین پر حملے کرنا چاہا تو اس وقت تک یہ وہاں کے پہاڑوں ،جنگلوں ،قلعوں اور شاہراہوں کے نقشے حاصل کر چکا تھا ۔اس کی ایک خوش قسمتی یہ بھی تھی کہ اس کی قوم میں دوسرا آدمی داخل ہوسکتا تھا ،اگر کوئی داخل بھی ہوجاتا تو وہ انوکھی شکل و صورت کی وجہ سے فورا پہچانا جاتا تھا ،یہی وجہ ہے کہ اس کی جاسوسی کرنا انتہائی مشکل تھا ۔

دشمن کو حیران و ششدر کر دینے والا

آٹھویں وجہ یہ تھی  کہ یہ دشمن پر اچانک حملہ کرتا تھا ،حملوں سے پہلے کسی کو  خبر تک نہیں ہونے دیتا تھا ،یہ دشمن پر مختلف اطراف سے حملہ کرتا تھا ،یہ جنگ میں دشمن کو حیران و پریشان کر دیتا تھا ،بعض اوقات سامنے سے بالکل کم تعدادلشکر کو بھیجتا لیکن جنگ کے دوران  اطراف سے لشکر ظاہرہو جاتے اور دشمن ہکا بکا رہ جاتا یہی وجہ ہے کہ جب اس نے خوارزم پر حملہ کرنا چاہا تو اپنے بیٹے جوجی کو بیس ہزار کا لشکر دے کر  کہا تم پہلے جا کر ایک طرف سے حملہ کر دو ،جب  دشمن کی تمام فوج تم سے مقابلے کیلئے جمع ہو جائے گئی تو میں دوسری طرف سے لاکھوں کے لشکر کے ہمراہ حملہ آور ہو جاؤں گا ۔

عظیم الشان لشکروں کا مالک

نویں  وجہ یہ تھی کہ اس نے بہت بڑی فوج جمع کر لی تھی حتی کہ اس کی تعداد دیکھ کراس دور کے علماء نے کہا تھا ، شاید یہ لوگ یاجوج ماجوج ہیں ،جن کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ وہ تعداد میں اتنی زیادہ ہوگئے کہ ان سے کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا اور وہ ہر چیز تباہ و برباد کر دیں گے ۔اس نے جب خوارزم پر حملہ کیا تو اس وقت اس کے ساتھ سات سے آٹھ لاکھ فوج تھی  جو کئی میلوں پر پھیلی ہوئی تھی ۔

برق رفتار آرمی کا مالک

دسویں وجہ یہ تھی کہ  اس نے اپنی فوج کو برق رفتار بنانے کیلئے ایک فوجی کو کئی کئی گھوڑے دے رکھے تھے ،جنہیں وہ بار بار بدلتا رہتا تھا  تاکہ گھوڑے بھی تازہ دم رہیں اور یہ بھی دنوں کا فاصلہ گھنٹوں میں گزار لے ۔

دہشت گرد اور ہیبت والا

گیارویں وجہ یہ تھی کہ اس نے  اپنا رعب اور دبدبہ ہر شخص کے دل میں قائم کر لیا  تھا اور یہ انسانی فطرت ہے کہ جس کا رعب دل پر چھا جائے انسان اس سے لڑ نہیں سکتا ،اس کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے بادشاہ  اس کے قاصد کی آمد  سے  بھی کانپنے لگتے تھے لیکن اس نے اپنی ہیبت قائم کرنے کیلئے وہ ظلم و ستم کیے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی حتی کہ اس کے متعلق علماء کہتے ہیں اگر کوئی کہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آج تک ایسی مصیبت نازل نہیں ہوئی تویہ سچ ہی ہوگا،اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ یہ  جس علاقے کو فتح کرتا اس پر بالکل رحم نہیں کرتا تھا ،منگول فوجی گھروں میں گھس جاتے تھے  اور سب کچھ لوٹ لیتے  تھے،عورتوں کی سرعام عصمت دری کی جاتی تھی ،یہ بوڑھوں ،بچوں اور عورتوں تک کو قتل کردیتے  تھے اور پھر سارے شہر کو آگ لگا دیتے تھے تاکہ کوئی ذی روح زندہ نہ بچ سکے ۔

ذہین اور چالاک تموجن 

بارہویں وجہ یہ تھی کہ یہ انتہائی ذہین اور چالاک آدمی تھا یہ ہر شخص سے کام نکلوانا جانتا تھا ،یہی وجہ ہے کہ وہ بہادروں سے جنگوں میں مدد لیتا ،ہنر مندوں سے ہنر مندی کا فائدہ اٹھاتا،حسین و جمیل لڑکیوں سے لوگوں کو پھسلانے کا کام لیتا اور تاجروں تک سے جاسوسی کا کام لیتا تھا ۔

چنگیز خان کی فتوحات کے اصول  اسلام سے لیے گئے تھے ؟

ہمیں ایسا لگتا ہے کہ چنگیز خان نے یہ تمام اصول اسلام سے لیے تھے ، اسلام  ان سب اصولوں کی ترغیب دلاتا ہے،مثال کے طور پر دیکھیں

اسلام کے نزدیک بھی قوی مومن ضعیف مومن سے بہتر ہے ،اسلام بھی زہد اور دنیا سے بے رغبتی کی تعلیم دیتا ہے ،اسلام بھی اتحاد پر زور دیتا ہے ،اسلام بھی بہادری کی ترغیب دلاتا ہے اور اسکی اہمیت کو اجاگر کرتاہے یہی وجہ ہے کہ حضور علیہ السلام دعا مانگا کرتے تھے، یا اللہ !میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں.

اسلام بھی مسلسل محنت و جدوجہد کی ترغیب دلاتا ہے ،قرآن کریم میں ہے انسان کیلئے وہی کچھ ہے جس کیلئے وہ کوشش کرتا ہے ،اسی طرح  قرآن میں یہ بھی ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک  نہیں بدلتا جب تک وہ خود اسے بدلنے کیلئے محنت و جدوجہد نہ کریں ، اسلام بھی مشورے کی ترغیب دیتا ہے اور حدیث میں ہے مشورہ کرنے والا کبھی ناکام نہیں ہوتا.

اسلام بھی بہادروں کی قدر کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ حضور نے خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کے قبولِ اسلام کیلئے دعا مانگی تھی اوراسی طرح  آپ علیہ السلام  نے خالد بن ولید کو اپنا سپہ سالار بنایا جو کبھی دشمن کے سپہ سالار ہوا کرتے تھے ۔حضور کا بھی سراغ رسانی کا مخصوص نظام تھا ،جس کے ذریعے وہ دشمن کی معلومات حاصل کرتے تھے ،اسلام بھی جنگ میں چالاکی کا حکم دیتا ہے ،حضور نے خود کئی مرتبہ غیر متوقع مقامات سے اچانک حملے کیے.

اسلام بھی بڑی فوج اور طاقتور اسلحہ بنانے کی ترغیب دلاتا ہے ،قرآن کریم میں ہے کہ تمہارا اسلحہ ایسا ہونا چاہیے کہ تمہارا دشمن اور اللہ کا دشمن اس سے مرعوب ہو جائے ، اسلام بھی گھڑسواری اور تیر اندازی کی ترغیب دلاتا ہے ،حدیث میں ہے قیامت تک ان کی پیشانی میں خیر رکھ دی گئی ہے ،اسی طرح اسلام بھی جنگ میں ہمیں ہوشیار اور چالاک رہنے کا حکم دیتا ہے ،قرآن کریم میں ہے خذو ا حذرکم ۔

لیکن

یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ اسلام میں ظلم و بربریت کی کوئی اجازت نہیں ہے ،بچوں ،بوڑھوں ،خواتین اور عبادت گزاروں کو قتل کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے ۔

منگولوں اور چنگیز خان کی اسلام دشمنی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے ؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس نے یہ سب اصول اسلام سے لیے تھے تو اس نے عالم اسلام کو تباہ و برباد کیوں کیا ،ہوسکتا ہے اس کو خوف ہو کہ اگر مسلمانوں نے اپنے دین کے اصولوں پر عمل کرنا شروع کر دیا تو یہ دنیا فتح کر لیں گے اور میری فتوحات کی راہ میں یہی سب سے بڑی رکاوٹ بن جائیں گے

اسی لیے اس نے مسلمانوں کے علمی ذخیرے کو بھی خوب نقصان پہنچایا ،اسی طرح یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ کیسے منگول فاتح قوم نے مغلوب قوم کا دین اختیار کر لیاحالانکہ انسانی فطرت یہی ہے کہ  انسان فاتح قوم کا مذہب اختیا ر کرتا ہے ،شاید ان کی نسلوں کو جب اسلامی تعلیمات سے آشنائی ہوئی ہوگی تو انہوں نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے آبا جی  تو انہی کے چودہ سو سال پہلے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرکے دنیا کے فاتح بنے ہیں.

یہ ہماری ذاتی رائے ہے ،صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی ہو سکتی ہے ۔یاد رہے اس مضمون کا مقصد ہر گز چنگیز خان کے فضائل بیان کرنا نہیں ہے کیونکہ وہ تاریخ کا ایک سیاہ کردار تھا ہے اور رہے گا ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے