فضیلت ابو بکر صدیق یا علی شیر خدا؟(رضی اللہ عنہا)

تحریر:

حضور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا ادنی امتی

آج جبکہ کرونا (Corona) کے بعد پوری دنیا شدید مشکل حالات سے دوچار ہے اور دشمن تمام مذاہب پربالعموم اور دین اسلام پر بالخصوص حملہ کرنے کے لئے مکمل تیار ہے،
قحط سالی کے آثار واضح نظر آرہے ہیں،فصلوں پر ٹڈی دل کے جان بوجھ کر حملے کروائے جارہے ہیں، عنقریب مویشیوں پر مختلف بیماریوں کے ساتھ حملہ کرکے ان کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا جاچکا ہے، مصنوعی گوشت کو مارکیٹ میں متعارف کروایاجارہا ہے،بے روزگاری، غربت اور افلاس اپنی انتہا کو پہنچ رہے ہیں
ہارپ ٹیکنالوجی کے ذریعہ موسموں کو قابو کرکے کہیں بارشیں اور کہیں زلزلے لائے جارہے ہیں
حکومتوں کو خرید کر ان میں اپنے پٹھو بٹھا کر کھلے عام عقیدہ ختم ِ نبوت اور مدارس کے پورے نظام پر ایف اے ٹی ایف(FATF) کے ذریعہ ڈاکہ ڈالہ جارہا ہے
ایسے میں ہمارے مقتدر علماء فضیلت صدیق اکبر اور فضیلت علی شیر خدا (رضی اللہ عنہما) کی لایعنی ، بے نتیجہ اور عبث ابحاث میں صرف اس لئے الجھے پڑے ہیں کہ ان کے نام نہاد مسالک و مشارب کو علمی برتری حاصل ہوسکے۔ کوئی ایک دانا شخص نہ ان کو سمجھانے والا ہے، نہ ان عقل کے اندھوں کو حقیقتِ حال بتانے والا ہے کہ مذکورہ بالا حالات میں علماء کی ذمہ داری مسلم امت کی سرپرستی اور دین اسلام کا قومی و بین الاقوامی سطح پر دفاع ہے نہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حمایت میں پیسہ لے کر نام نہاد جنگِ صفین لڑنا۔اگر کوئی شخص ان کو سمجھانے کی کوشش بھی کرے تو الحمداللہ یہ کسی شخص کو اس قابل سمجھتے ہی نہیں کہ اس کی بات سنی جائے۔
محترم جناب مفتی منیب الرحمن صاحب، محترم جناب سید ریاض حسین شاہ صاحب، محترم جناب طاہر القادری صاحب اور دیگر راسخ العلم علماءِ کبار جو دین کے ساتھ دنیا کے مسائل اور دور ِ حاضر میں ہونے والی اسلام بلکہ ادیان مخالف سازشوں کا اچھا خاصہ ادراک رکھتے ہیں، وہ بھی جاہل پیروں، کم عقل تنظیمی رہنماؤں اور گلی کوچے میں بیٹھے چھوٹے چھوٹے مدارس اور اداروں کے سربراہوں کی طرح آنکھیں بند کئے فضیلت ِ صدیق اکبر اور ”علی علی علی علی“ (رضی اللہ عنہما) کے بے مقصد نعرے مارتے ہوئے نظر آرہے ہیں
کوئی نہ ان بزرگوں کو سمجھانے والا ہے اور نہ عقل سے فارغ دینی تنظیموں اور خانقاہوں کے حمقاء کو بتلانے والا ہے کہ جو مسئلہ ساڑھے چودہ سو سال میں طے نہ ہوسکا وہ اب آپ کی کتابوں پر ضائع ہونے والی خطیر رقم اور آپ کے جلسوں و ریلیوں پر خرچ ہونے والی زکاۃ، صدقات اور مالِ حلال و حرام سے کیسے حل ہوگا؟
کوئی ایک طبقہ یا گروہ بھی ایسا نظر نہیں آرہا جو اس نقار خانے میں طوطی کی آوازیں نکالنے کے بجائے تعالو الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم کی ربانی صدا بلند کرکے لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرسکے۔
دشمن نے خطیر رقم خرچ کرکے پہلے مسلمانوں میں شیعہ اور سنی کی تفریق کی تھی اور اب دوبارہ خطیر رقم خرچ کرکے کچھ پٹھو مزید خرید لئے ہیں جو اہل سنت میں انتشار اور اختلاف کو بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار سرانجام دے رہے ہیں ۔ وہ ننگ ِملت و ننگِ قوم یہ سمجھنے سے بھی عاری ہیں کہ دنیا کے چند روپوں کے لئے امت کا جو شیرازہ تم بکھیر رہے ہو اس کا بدلہ آخرت میں جہنم کی صورت میں تو تمہیں یقینا ملے گا لیکن دنیا میں بھی ان شاءاللہ اس آگ کو بھڑکانے کا صلہ تم جلد پاجاؤگے۔
شہید قادری کے عالمگیر جنازے کے بعد اللہ نے رضوی رحمۃاللہ علیہ کی صورت میں امت کو ایک تحفہ دیا تھا جس نے حقیقتا ایک ضروری مسئلہ کی طرف امت کی رہنمائی کی تھی اور ان کا جنازہ ہی ان کے عمل کی قبولیت کی بہت بڑی دلیل ہے لیکن ان کے علاوہ ہمارے جتنے بزرگ علماء ہیں، وہ ان فضول ابحاث میں اس طرح الجھے پڑے ہیں جیسے کہ فضیلت صدیق اکبر یا علی شیر خدا (رضی اللہ عنہما ) کو ثابت کرکے پہلے پیراگراف میں ذکر کئے گئے امت کے سارے مسائل کا حل ان کو فراہم کردینگے۔
آخر میں جمیع اکابرو اصاغر علماء کرام سے مؤدبانہ عرض ہے کہ عقل کے ناخن لیں۔ اپنے نفس کی فرعونیت کے ہاتھوں مغلوب ہونے کے بجائے امت کے حقیقی مسائل کا ادراک کریں اور نئے نوجوان طلباء و علماء کو ان فضول ابحاث میں الجھانے اور ان کا وقت ضائع کرنے کے بجائے ان میں تعمیری سوچ اور فکر کو اجاگر کریں
ورنہ
یقین جانیں اللہ کی بارگاہ میں ذلت و رسوائی تو یقیناً ہوگی ہی مگر آپ کے چکر میں ہم جیسے سادہ امتی دشمن کی چالوں کی بھینٹ چڑھ جائیں گے اور جس طرح کرونا (Corona) کے ابتدائی ایام میں آپ نے بغلیں جھانکتے ہوئے مدارس، مساجد اور خانقاہوں کو تالہ لگادیا تھا، اب کی بار آپ کو کھولنے کا موقع بھی نہیں مل سکے گا۔
اللہ مجھ سمیت ہم تمام کو عقل سلیم عطا فرمائے اور موجودہ حالات میں دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادراکِ حالات کے ساتھ اصلاح ِ حالات کی توفیق بھی عطا فرمائے اور دشمن کے پیسوں پر پلنے والی تنظیموں اور افراد کو یا تو ہدایت عطا فرمائے اور اگر ان کے نصیب میں ہدایت نہیں ہے تو ان کو ذلیل و رسوا اور نیست و نابود فرمائے۔ (آمین)

دوسروں تک پہنچانا آپ کی ذمہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے