’بنگال کے قحط کا ذمہ دار برطانیہ تھا‘ برصغیر پہ برطانیہ کے مظالم کی ایک اور داستان، مسلم فاتحین کو چور لٹیرے کہنے والوں کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سال اوڑیسہ میں آنے والے اس قیامت خیز قحط کی 150ویں برسی ہے جس میں مشرقی ہندوستان میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ اس قحط کو ’بنگال کا قحط‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس وقت اوڑیسہ بنگال کا حصہ تھا۔
آج برطانوی راج کے دوران سنہ 1866 میں آنے والے اس قحط کے بارے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
اگرچہ ہندوستان میں خشک سالی اور قحط کوئی نئی بات نہیں تھی، لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ برطانوی نوآبادیاتی دور میں نہ صرف قحط میں اضافہ ہوا بلکہ اموات کی تعداد بھی بہت زیادہ ہو گئی تھی۔
ایسٹ انڈیا کمپنی نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہندوستان کی قدیم اور پھلتی پھولتی کپڑا سازی کی صنعتوں کو تباہ کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں لوگوں کو اپنا پیٹ پالنے کے لیے زراعت اختیار کرنا پڑی اور یوں ہندوستان کی معیشت کا بڑا انحصار مون سون کی بارشوں پر ہو گیا۔
150 برس پہلے کی طرح آج بھی مون سون میں کم بارشوں کو خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سنہ 1865 میں اس وقت کلکتہ سے شائع ہونے والے اخبار ’انگلش مین‘ نے خبردار کر دیا تھا کہ ’ اب یہ بات چھپانا آسان نہیں رہے گا کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں اناج کی کمی ہونے جا رہی ہے۔‘
لیکن ہندوستانی اخبارات میں شائع ہونے والی اس قسم کے خبروں کے باوجود نوآبادیاتی برطانوی انتظامیہ نے قحط کے سد باب کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے۔ کہا یہ جاتا تھا کہ اس معاملے میں حکومتی دخل اندازی کا کوئی فائدہ نہیں اور اجناس کی منڈیاں اس مسئلے کا حل تلاش کر لے گی اور معیشت خود کو سنبھال لے گی۔ اس وقت مشہور ماہر معاشیات میلتھس کے اس نظریے کو تسلیم کیا جاتا تھا کہ بڑے پیمانے پر انسانی اموت دراصل قدرت کا نظام ہے جس کے تحت جب بھی آبادی بہت زیادہ ہو جاتی ہے تو لوگوں کی اجتماعی اموات واقع ہوتی ہیں۔
اڑیسہ کے قحط سے دو عشرے پہلے جب آئرلینڈ میں قحط آیا تھا تو تب بھی میلتھس کے نظرے پر عمل کیا گیا تھا جس کے تباہ کن اثرات سامنے آئے تھے۔ تب بھی برطانوی حکومت نے قحط سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے تھے اور اسی منطق پر عمل کیا تھا کہ قحط سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ کوئی امدادی کارروائی نہ کی جائے۔
فروری سنہ 1866 میں اوڑیسہ کے ہنگامی دورے کے دوران بنگال کے برطانوی گورنر سیسل بیڈن کا موقف بھی یہی تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ ’ قدرت کے ان کاموں کو روکنے اور ان کا مداوا کرنے کے لیے کوئی بھی حکومت کچھ بھی نہیں کر سکتی۔‘
افسر شاہی کے بروقت عمل نہ کرنے کی قیمت اوڑیسہ کے رہائشیوں کو اپنی اجتماعی موت کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔
مئی 1866 میں برطانوی حکام کے لیے بنگال میں تیزی سے آتے ہوئے خوراک کے بحران اور تباہی کو نظر انداز کرنا مشکل ہوگیا۔ کلکتہ میں مقیم انتظامیہ کو نظر آنا شروع ہو گیا تھا کہ کپمنی کے فوجی اور پولیس اہلکار بھوک سے مر رہے ہیں اور پُوری میں فوجی اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو جلانے اور دفن کرنے کے لیے مورچے اور گڑھے کھود رہے ہیں۔ ایک مبصر نے لکھا کہ اس وقت ’آپ کے ارد گرد کئی میل کے فاصلے تک لوگ کی ایک ہی پکار تھی کہ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔‘
لیکن کولکتہ اور لندن میں برطانوی انتظامیہ کو ہوش اس وقت آیا جب دونوں شہروں میں آئے دن یہ خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ ہندوستان کے دیہاتوں میں ہزاروں لوگ مر رہے ہیں۔ اس وقت مسٹر بیڈن نے اوڑیسہ میں چاول بھیجنے کا اعلان کیا لیکن نہ صرف انھوں نے یہ فیصلہ بہت دیر سے کیا بلکہ اس پر عمل درآمد کرنے میں بھی مجرمانہ سستی کا مظاہرہ کیا گیا۔ مون سون کی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے اوڑیسہ میں خوراک پہنچانے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور افسر شاہی کے بروقت عمل نہ کرنے کی قیمت اوڑیسہ کے رہائشیوں کو اپنی اجتماعی موت کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔
ہندوستان کو قحط اور غربت کا شکار کرنے میں نوآبادیاتی انتظامیہ کا ہاتھ تھا۔ اوڑیسہ کا قحط برطانوی راج کے اس رویے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حوالہ:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے