رنجیت سنگھ کی لیلٰی کون تھی؟ اسے پانے کے لیے اس زمانے میں ساٹھ لاکھ روپے اور بارہ ہزار جانوں کی قربانی کیوں دی گئی؟ مسلم فاتحین کو عیاش و قاتل کہنے والوں کے لیے
تلخیص: ڈاکٹر احید حسن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ لیلیٰ مہاراجہ رنجیت سنگھ کو پسند آگئی تواس نے پٹھان سردار سے اسکو حاصل کرنے کے لئے جنگوں کا آغاز کردیا ‘‘ یہ لیلیٰ کون تھی جس کی خاطر مہاراجہ نے تین معرکوں میں بھاری دولت اور بارہ ہزار فوجی مروادئیے تھے،جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے
مہاراجہ رنجیت سنگھ نے مسلمانوں کے قتل عام میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی،وہ ضدی اور ہٹ دھرم تھا ،اسکے دل کو کوئی چیز بھا جاتی تو اسکے حصول کے لئے جنگیں بھی کرگزرتاتھا ۔
یہ لیلٰی مہاراجا رنجیت سنگھ کے عہد میں پشاور کے صوبیدار سردار محمد خان کے پاس موجود تھی جو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھی ۔جب مہاراجا رنجیت سنگھ تک اس کا چرچا پہنچا تو اس نے اسے حاصل کرنے کا پیغام بھیجا۔ سردار محمد خان کے انکار پر اس نے اپنے جرنیل سردار بدھ سنگھ سندھانوالہ کو اسے چھین کر لانے کے لیے روانہ کیا۔ ایک خونریز معرکہ کے بعد، سردار بدھ سنگھ کو علم ہوا کہ یہ جنگ میں کام آچکی ہے۔ اس نے لاہور پہنچ کر یہ اطلاع رنجیت سنگھ کو پہنچائی تو پتا چلا کہ یہ اطلاع غلط ہے اور لیلیٰ زندہ ہے۔ اب رنجیت سنگھ نے اپنے شہزادے کھڑک سنگھ کی سرکردگی میں ایک اور لشکر پشاور روانہ کیا اور یار محمد خان کو معزول کر دینے کے احکام جاری کئے۔ یار محمد نے یہ صورت حال دیکھی تو لیلٰی کو لے کر پہاڑوں میں غائب ہوگیا اور اپنے بھائی سردار سلطان محمد خان کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ اسی دوران سید احمد شہید کا سکھوں اور انگریزوں سے جہاد شروع ہوگیا۔ سکھوں کی فوج کے ایک جرنیل دینورا نے سید احمد شہیداور ان کے ساتھیوں کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ سلطان محمد اور یار محمد کو بھی شکست دے دی اور ان سے لیلیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ لاہور پہنچائی گئی اور رنجیت سنگھ کی خدمت میں پیش کی گئی۔ مہاراجا رنجیت سنگھ اس کے ملنے کی بڑی خوشی منائی۔ اس کا بیان تھا کہ اس کے حصول میں اس کو ساٹھ لاکھ روپیہ اور بارہ ہزار جانوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
آپ اب تک یہ سمجھتے رہے ہوں گے کہ یہ لیلٰی کوئی ظالم حسینہ لڑکی ہوگی۔ لڑکیوں کے خیالوں سے باہر آکر سوچئے😊 یہ لیلٰی لڑکی نہیں بلکہ ایک خوبصورت گھوڑی تھی۔ اس حوالے سے لیلیٰ غالباً دنیا کی سب سے قیمتی گھوڑی قرار دی جا سکتی ہے۔ لیپل ہنری گرفن انیسویں صدی میں برٹش حکومت کی جانب سے ہندوستان میں سفیر اور ایڈمنسٹریٹر ہونے کے ساتھ ساتھ رائٹر بھی تھا ،اس نے1892 میں مشہور کتاب’’رنجیت سنگھ‘‘ بڑی تحقیق کے بعد لکھی تھی جس میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے قتال و عادات کو بیان کیا ۔اس کتاب میں اس نے مہاراجہ کی اس گھوڑی لیلٰی کی خاطر قبائلی پٹھانوں کے ساتھ جنگ کاذکر کیا ہے ، اس گھوڑی کا حنوط شدہ جسم آج بھی لاہور کے شاہی قلعہ کے سکھ دور کے نوادرات کے عجائب گھر میں دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘ مسلم فاتحین کو قاتل و عیاش کہنے والے منافقین سے آپ نے یہ کبھی نہیں سنا ہوگا۔
حوالہ:
1: ڈیلی پاکستان آن لائن
2:”From the Horse’s mouth”. The Hindu. Retrieved 30 January 2012.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے