کیا رنجیت سنگھ ایک منصف حکمران تھا؟ کیا اس کے دور میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل تھی؟ سیکولرز و ملحدین کو جواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھارویں صدی کے وسط ہی میں سکھوں نے پنجاب میں اہم سیاسی طاقت حاصل کر لی تھی،احمد شاہ ابدالی کی وفات پر شمالی ہندوستان میں سکھ ہی اصل طاقت تھے پورا پنجاب،ملتان کا ایک حصہ،جمنا اور ستلج کے درمیان کا سب سے بڑا علاقہ سکھوں کے قبضے میں تھا
شمال مغرب میں دریائے سندھ،مشرق میں جموں کی ریاست جنوب میں انگریزی عملداری اور حصار اور جلسیلمیر کے ریگستان ان کے وسیع اقتدار کی سرحدیں تھیں۔
مسلمان اس نوخیز طاقت کےاصل حریف رہ چکے تھے،کئی صدیوں کی تاریخ اور دینی و سیاسی کشمکش نے اس قوم کے دل میں مسلمانوں کی نفرت کا بیچ بو دیا تھا
اور وہ روز بروز ترقی اور نشوونما حاصل کرتا جاتا تھا بالآخر وہ اس شدید تعصب اور عداوت کی حد کو پہنچ گیا جس کی نہایت وحشیانہ مثال”بندابیراگی” کی زندگی اور اس کی خونریز و خون آشام جنگی سرگرمیاں ہیں جن کی مثال ہندوستان کی پچھلی تاریخ میں ملنی مشکل ہے۔
{1799}ء میں رنجیت سنگھ نے لاہور کو جس کا پروانۂ حکومت شاہ زماں سے مل گیا تھا ان تین سکھ سرداروں سے چھین لیا جو اس پر حکومت کرتے تھے۔۔۔اس کے بعد اس نے ایک ایک کر کے وہ تمام ریاستیں اور صوبے جو خود مختار سکھ سرداروں اور مسلمان حکمرانوں کے پاس تھے فتح کر لیے۔
جن مسلمان ریاستوں نے نذرانہ دینے سے انکار کیا اور مقابلہ کیا ان کو بے تربیت،نیم وحشی اور فتح کے نشے میں سرشار فوجوں کے ہاتھوں سخت ذلت و عذاب کا سامنا کرنا پڑا،ان کے شہر اکالیوں اور خالصہ فوج کے ہاتھوں بری طرح تباہ و برباد ہوئے اور مسلمان رعیت کو لرزہ خیز مظالم کا مشانہ بننا پڑا
احمد خان رئیس جھنگ کی شکست کے بعد سکھوں نے شہر کو لوٹ لیا اور تمام رعیت کو روٹی کے ٹکڑوں کا محتاج کر دیا اس بات کی فریاد چودھریوں نے جب مہاراج سے کی تو فرمایا کہ ہماری فتحیاب فوج فتح کے وقت بے بس ہوتی ہے۔
سن رسیدہ نواب مظفر خاں والیِ ملتان اور اس کے جواں مرد بیٹوں کی
دست بدست جنگ اور دلیرانہ شہادت کے بعد ملتان حملہ آوروں کے رحم و کرم پر تھا،چار پانچ سو مکانات پیوندِ زمین ہو گئے کسی کے پاس روٹی کا ایک ٹکڑا نہ رہا شہر میں مکانات کو آگ لگا دی گئی اور سب کچھ لے لیا گیا بہت سی شریف عورتوں نے کنوؤں میں گر کر جان دے دی اور عزت بچا لی۔
قصور میں سکھوں نے لوگوں کے بدن کے کپڑے اتار لیے عورتیں ننگے سر ننگے بدن بے ستر ہو کر جا بجا اپنے آپ کو چھپاتی پھرتی تھیں مگر کوئی جگہ امن کی نہیں ملتی تھی۔بہت سی اَشراف عورتیں جنہوں نے کبھی بیگانے مرد کی صورت نہیں دیکھی تھی اپنے ہاتھ سے پھانسی لے کر مر گئیں۔کئی چاہات میں کود پڑیں
بہت سی جوان عورتیں اور لڑکیاں اور لڑکے سکھوں نے شہر سے پکڑ لیے اور غلام بنانے کے ارادے سے اپنے پاس رکھ لیے۔
بڑے بڑے فوجی سرداروں کی حکومت دہشت انگیزی اور وحشیانہ سزاؤں پر قائم تھی ہری سنگھ نلوہ کے متعلق انگریز مؤرخ لکھتا ہے:
وہ صرف اس خوف و دہشت کے سہارے حکومت کرتا تھا جو لوگوں
پر بیٹھی ہوئی تھی اور اہل ملک کے لیے ایک خوفناک شخصیت کی حیثیت رکھتا تھا اور ایک روایتی آدم خور اور وحشی انسان کی طرح ہزارے کے علاقے میں مشہور تھا اب بھی مائیں اس کا نام لے کر رونے والے بچوں کو چپ کراتی ہیں”
یہی شہرت اور تاثر پھولا سنگھ اکالی اور بعض دوسرے سرداروں کے متعلق تھا۔
سر لیپل گریفن لکھتا ہے:
مہاراجہ یا تو بالکل غیر متعصب تھا یا کم ازکم لاپروا تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ اس کی مسلمان رعایا بلا مزاحمت مراسم مذہبی ادا کرنے کی مجاز ہو لیکن اس کو مجبور ہونا پڑا کہ اونچی آواز سے اذان کی ممانعت کر دے کیونکہ اس سے اکالی بر افروختہ ہوتے تھے
اس کا نتیجہ یہ تھا کہ پنجاب پر رنجیت سنگھ کی”باقاعدہ”حکومت قائم ہو جانے کے بعد بھی مسلمانوں کو وہ عام شہری حقوق اور مذہبی آزادی حاصل نہ ہوئی جو ایک باضابطہ اور منظم حکومت میں رعیت کو حاصل ہوتی ہے ان کو بعض مذہبی احکام ادا کرنے کی اجازت نہ تھی بہت سی اہم مسجدیں فوج کے استعمال اور
لوگوں کے ذاتی قبضے میں تھیں۔
رائے بہادر کنھیا لال ایگزیکٹو انجنیئر لاہور اپنی کتاب تاریخ لاہور میں شاہی مسجد کے متعلق لکھتے ہیں:
بادشاہی مسجد میں اس عہد میں اس مسجد کی آرائش کاسامان فرش،جھاڑ،فانوس وغیرہ لاکھوں روپے کا تھا جب زمانہ نے پلٹا کھایا اور سکھی سلطنت ہوئی تو مہاراجہ
رنجیت سنگھ کے وقت کبھی اس میں توپ خانہ کبھی پلٹن اور سواری کی فوج کی چھاؤنی رہا کرتی تھی حجروں میں میگزین بھرا رہتا تھا سکھ لوگ پتھروں کی سلیں اکھاڑ کر لے گئے”
مسستی دروازے کی مسجد کے متعلق لکھتے ہیں:
جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت ہوئی تو اس مسجد پر سرکاری تسلط ہو گیا اور باروت (بارود)بھری گئی سالہا سال اس میں باروت بنتی رہی یہاں تک کہ باروت خانے والی مسجد مشہور ہو گئی”
سنہری مسجد کے متعلق کنھیا لال نے جو حکایت لکھی ہے اس سے حکومت کے طرزعمل اور اس ملک میں مسلمانوں اور ان کی مذہبی آزادی کا جو حال تھا اس پر پوری روشنی پڑتی ہے:
یہ مکمل تھریڈ الفاظ کے معمولی رد و بدل کے ساتھ عظیم مفکر اور مورخ مولانا سید ابولحسن علی ندوی مرحوم کی کتاب تاریخ دعوت و عزیمت حصہ ششم سے مقتبس ہے
حوالہ:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے