رنجیت سنگھ کے پنجابی مسلمانوں پہ انسانیت سوز مظالم،
پنجابی قوم پرستی کے نام پہ رنجیت سنگھ کی حمایت کرنے والوں اور اسے مذہبی روادار حکمران کہنے والوں کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رنجیت سنگھ (1799-1839) متنازعہ حکمران رہا ہے۔ ملتان پر سکھ فوج نے جو ظلم کے پہاڑ ڈھائے اُس کا ذکر میں آگے چل کر کروں گا لیکن یہ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب سکھ فوج نے لاہور پر قبضہ کیا تو اُس وقت بھی مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، مسجدوں سے نہ صرف یہ کہ اذانیں بند کرائی گئیں بلکہ مسجدوں کو اصطبل بھی بنایا گیا اور قرآن مجید کی بے حرمتی کی گئی اور مردو خواتین مسلمانوں کے ساتھ ساتھ معصوم بچوں کو بھی ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ تمام حالات و واقعات تاریخ کا حصہ ہیں اس لحاظ سے رنجیت سنگھ کی برسی کا وسیع پیمانے پر اہتمام زخموں پر نمک پاشی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو بابا گورونانک (1500ئ) سکھ مذہب کی بنیاد رکھی، وہ بنیادی طور پر ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے مگر اُن کا عقیدہ مسلمانوں کی طرح یہ تھا کہ اللہ ایک ہے، وہ عدم تشدد کے پیروکار تھے، اُن کی وفات کے بعد اُن کے 9 جانشینوں نے ان کو پیغمبر کا درجہ دیا اور ان کی تعلیمات پر مشتمل کتاب ترتیب دی جسے گرنتھ صاحب کہا جاتا ہے۔ سکھوں نے فارسی (شاہ مکھی) کی جگہ پنجابی (گورمکھی) کو اپنایا اور اسے سکھ مذہب کی مذہبی زبان قرار دیا ، سکھوں نے گوردوارے تعمیر کرائے، اس دوران سکھوں نے مغل حکمرانوں سے مذہب کی بنیاد پر کشمکش شروع کی۔ اورنگزیب کے دور میں ( 1675ئ) میں سکھوں کا آٹھواں رہنما قتل ہوا تو الزام مسلم حکمرانوں پر لگا، اس پر گوبند سنگھ نے اعلان جنگ کیا اور سکھوں کو تلوار اٹھانے کا حکم دیا، گوروگوبند سنگھ نے پاہل یعنی بپتسمہ کی تقریب متعارف کرائی جہاں سکھ اجتماعی طور پر اکٹھے ہوئے، اجتماعی تقریب منعقد ہوئی پانی اور چینی کو ابال کر دو دھاری تلوار سے ہلایا ، اس ہلانے والے کو کیس دھاری لقب دیا جاتا اور کہا گیا کہ جو سکھ دو دھاری تلوار نہ اٹھائے اُس کے آگے ’’سنگھ‘‘ نہ لکھا جائے۔ جب سکھوں نے مغل حکمرانوں کے خلاف مزاحمت کا عمل تیز کیا اور سکھوں نے جتھے بنائے، چوری، ڈاکہ، اغواء کی وارداتیں بڑھ گئیں اور مغل حکومت عدم استحکام کا شکار ہوئی تو اس صورتحال کو انگریز جو کہ ہندوستان پر قبضہ کیلئے منصوبہ بندی کر رہے تھے، نے سکھوں کو شہہ دی کہ یہ دراصل انگریزوں کا کام آسان کر رہے تھے انگریزوں کی درپردہ حمایت سے اُن کے لٹیرے اور ڈاکو جتھے عساکر کا روپ دھارنے لگے، اسی بناء پر رنجیت سنگھ نے پہلے لاہور پر قبضہ کیا بعد میں ریاست قصور کو قبضے میں لیا، یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ قصور کے بادشاہ نظام الدین کی مدد کیلئے ملتان کے فرمانروا نواب مظفر خاں نے بھی فوجیں بھیجیں اور کہا کہ یہ کفر اسلام کی جنگ ہے ہم مسلمان کا ساتھ دیں گے، قصور پر قبضے کے بعدجھنگ میں اور بعدازاں 2 جون 1818ء کو ملتان پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔رنجیت سنگھ فوت ہوا تو اُن کو تخت لاہور کا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بیٹے کھڑک سنگھ کو بنایا گیا، انگریز سامراج نے اپنا کام نکالنے کے بعد 1849ء میں سکھوں سے حکومت چھین لی بعدازاں انگریز نے سکھوں کو اپنی فوج میں بھرتی کیا اور اُن کو اہم عہدے دیئے، سکھ ہندوستان کی مجموعی آبادی کا ایک فیصد تھے مگر فوج میں وہ بیس فیصد ہو گئے، 1857ء کی جنگ میں سکھوں نے انگریزوں کا بھرپور ساتھ دیا اور انگریزوں نے بھی سکھوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ صرف لاہور ہی نہیں ملتان پر بھی بہت ظلم و بربریت ہوا۔ سقوط ملتان کے واقعات قلمبند کرتے ہوئے مورخین لکھتے ہیں ۔ ’’جون کے مہینے میں سورج آگ برسا رہا ہے ٗ گرمی سے انسان تڑپ رہے ہیں ٗ بدنام زمانہ ڈاکوئوں کے جتھے پر مشتمل ’’سکھا فوج‘‘ نے قلعہ ملتان کا چاروں طرف سے محاصرہ کر لیا ہے ۔ راستے بند ٗ پانی اور راشن کی سپلائی بند ٗ بارود کی تڑ تڑاہٹ میں سکھ کمانڈر کھڑک سنگھ کی طرف سے ملتان کے فرمانروا کو پیغام آتا ہے کہ ہتھیار ڈال کر جان کی امان لے لو ٗ جواب ملتا ہے ہمیں جان کی نہیں ایمان کی امان چاہئے ٗ سکھا فوج قلعے کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتی ہے ٗ ملتانی سپاہ کا قائد اور اس کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی سب سے آگے ہیں ٗ مسلم فرمانروا کے دو بیٹے شہید ہوئے تو سکھا فوج نے کہا ٗ بوڑھے نواب اب تمہاری کمر ٹوٹ چکی ہے ٗ تختِ ملتان کی چابیاں ہمارے حوالے کر دو ٗ مسلم فرمانروا کہتا ہے ملتان کی چابیاں میرے پیٹ میں ہیں ٗ سکھا فوج کی بربریت جاری ہے ٗ سورج سوا نیزے پر ہے ٗ گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے ٗ ملتانی سپاہ کے ساتھ ملتان کے فرمانروا کی عظیم بیٹی دخترِ ملتان صبیحہ بی بی اور اس کے ایک اور بھائی کو قتل کر دیا جاتا ہے ٗ سکھ کمانڈر کی طرف سے پیغام آتا ہے کہ ضدی نواب! اب تمہاری آل اور نسل ختم ہونے کے قریب ہے اب تم ہاتھ کھڑے کر دو ٗ ملتانی فرمانروا کا واپسی جواب ہوتا ہے مجھے پیدا کرنے والے کی قسم پانچ تو کیا پانچ لاکھ بیٹے اور بیٹیاں ہوں تب بھی میں ایک ایک کر کے اپنی ماں دھرتی اور ملتان کی ’’ویل‘‘ دیدوں ۔ یہ ملتان کی تابناک تاریخ ہے۔‘‘ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ 2 جون 1818ء کو نواب مظفر خان نے رنجیت سنگھ کی سکھا فوج سے جنگ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ٗسکھا فوج نے قلعہ ملتان پر قبضہ کر لیا ٗ نواب کی آل میں سے دو بیٹے اور چند سپاہی جو زندہ بچے قیدی کر لئے گئے اور انہیں لاہور بھیج دیا گیا تاریخ میں یہ ’’ قیدی تخت لہور دے‘‘ کہلائے ٗ سقوط ملتان کے بعد سکھا فوج نے لوٹ مار شروع کر دی ٗ سرکاری خزانہ لوٹنے کے بعد سکھا فوج گھروں میں داخل ہوئی ٗ وہاں بربریت کی انتہاء ہوئی ٗ وہاں لوٹ مار کے علاوہ انسانوں کو تہ تیغ کیا گیا ٗ بچوں کو سانگوں پر ٹانگ دیا گیا ٗ تاریخ کی کتب میں درج ہے کہ غیرت کا یہ عظیم واقعہ بھی ملتان کے حصے میں آیا کہ اپنی عصمت و ناموس کو سکھ ہوس پرستوں سے بچانے کیلئے ملتان کی سینکڑوں و ہزاروں دوشیزائوں نے کنوئوں میں چھلانگیں مار دیں اور جب کنویں لاشوں سے بھر گئے تو ان کے منہ بند کر کے انہیں اجتماعی قبریں قرار دیدیا گیا۔ ملتان پر قبضے کے بعد سکھوں نے جس طرح لاہور میں مسجدوں کو اصطبل بنایا ٗ قرآن مجید کی بیحرمتی کی ٗ اذانوں کی آواز بند کر دی ٗ لائبریریاں جلا دیں یہی کچھ سکھوں نے ملتان میں بھی کیا۔ سکھوں نے 1818ء کے بعد 1947ء میں بھی مسلم پنجابیوں کو مشرقی پنجاب میں گاجر مولی کی طرح کاٹا، اس کا سبق یہ ہے کہ سکھوں سے دور رہا جائے تو بہتر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے