مطلوبہ عنوان تک فورا جانے کیلئے یہاں کلک کریں hide

مسلم حکمران یا یورپی قاتل؟

چور اور ڈاکو کون؟

*ہنری ایوری، بحری قذاقوں کا بادشاہ اور بحری تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو*
*تدوین و اضافہ: ڈاکٹر احید حسن*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنری ایوری (Henry Every) جسے کبھی کبھی غلطی سے جان ایوری (John Avery) بھی کہا جاتا ہے۔ ایک انگریز بحری قزاق اور ڈاکو تھا جو 1690 سے 1696ء میں بحر اوقیانوس اور بحر ہند میں لوٹ مار کرتا تھا۔ وہ ڈیون انگلینڈ میں پیدا ہوا، اس کی کئی عرفیت تھیں جن میں ہنری برج مین اور لانگ بین اس کے جہاز کے عملہ میں زیادہ مشہور ہیں۔ جبکہ ہم عصر قزاقوں میں وہ قزاقوں کا بادشاہ کے نام سے مشہور تھا۔
بحری ڈکیتیوں میں اس کے دو ساتھی اور مشہور بحری ڈاکو فرانسس ڈریک اور ہنری مورگن تھے اور اس کی مشہور ڈکیتیوں نے یورپ کے باقی بحری ڈکیتوں جیسا کہ والٹر کینیڈی، ایڈورڈ انگلینڈ ( جو بحر ہند میں مسلم مغل سلطنت کے جہازوں کو لوٹتا تھا) میں اسے ایک ہیرو اور نمونہ بنا دیا۔
گینیا کے ساحل کے پاس اس نے ایک مقامی سردار کو تجارت کا جھانسہ دے کر اپنے ساتھ شامل کر لیا اور بعد ازاں اسے لوٹ کر اپنا غلام بنا لیا۔ 1
اس نے بحری ڈکیتیوں کے دوران ستمبر 1695ء تک کم از کم 11 جہازوں پر قبضہ کر لیا جن میں مغل سلطنت کا بحری تاریخ کا امیر ترین بحری جہاز گنج سواہی بھی شامل تھا جس کی وجہ سے ہنری ایوری کی اس ڈکیتی کو بحری قزاقی کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی کہا جاتا ہے۔ اس جہاز کو لوٹنے کے دوران اس جہاز پہ سوار حاجیوں کا قتل عام اور مسلم خواتین سے ریپ کیا گیا اور جو بچ گئیں ان کو اغوا کر لیا گیا۔ 2
اس کی کی گئی دوسری مشہور بحری ڈکیتی مسلمانوں کے جہاز جہاز فتح محمد کو لوٹنا تھا جس میں آج کی کرنسی کے مطابق تیس ملین ڈالر کی لوٹ مار کی گئی۔ 3
اس کے علاوہ اس نے جو مشہور بحری ڈکیتی کی وہ رامپورا کے جہاز کو لوٹنا تھا جس سے اسے اس زمانے میں سترہ لاکھ روپے کی رقم حاصل ہوئی جس کی قیمت آج اربوں روپے بنتی ہے۔4
لیکن لوٹ مار اور ڈکیتی کا مال کب تک چلتا، ایوری کو بحری جہازوں کے مالکوں اور مسافروں کی بددعائیں لے ڈوبی اور یہ کسمپرسی کے عالم میں گداگری کرتا ہوا مر گیا۔ 5
اور کوئی یہ بھی نہیں کہ سکتا کہ ان صدیوں میں جو بحر اوقیانوس، بحر ہند اور دنیا کے دیگر سمندروں میں لوٹ مار اور بحری ڈکیتیوں کا سلسلہ چل رہا تھا یہ چند ڈاکوؤں کی انفرادی کروائی تھی بلکہ یہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور لوٹ مار تھی جسے نیو امریکہ میں قائم انگلینڈ راج کے گورنروں کی بھرپور حمایت اور مدد حاصل تھی۔ 6
اگر اس تحریر کو پڑھنے کے بعد سیکولروں اور ملحدین کو ذرا بھی شرم آئی ہے تو مسلم فاتحین کو ڈاکو کہنے کی جگہ انسانیت کے ان قاتلوں کی مذمت کریں جنہوں نے 1492ء میں امریکا کی دریافت سے آج تک دنیا کے ہر خطے میں لوٹ مار پھیلا رکھی ہے۔ انصاف اور مذہب انسانیت کا یہی تقاضا ہے، اگر پھر بھی آپ کے تیروں کا رخ اسلام کی طرف ہے تو آپ کا مذہب انسانیت نہیں منافقت ہے۔
حوالہ جات:
1:Emlyn, Sollom, ed. (1730). A Complete Collection of State-Trials, and Proceedings upon High-Treason, and Other Crimes and Misdemeanours; from the Reign of King Richard II to the End of the Reign of King George I. 5 (2nd ed.). London: J. Walthoe Sen. [etc.] OCLC 2730073. Retrieved 2 January 2012., p.10
2:Woodard, Colin (2007). The Republic of Pirates: Being the True and Surprising Story of the Caribbean Pirates and the Man Who Brought Them Down. Orlando, FL: Houghton Mifflin Harcourt. ISBN 978-0-15-101302-9. p.19
3:Rogoziński, Jan (2000). Honor Among Thieves: Captain Kidd, Henry Every, and the Pirate Democracy in the Indian Ocean. Mechanicsburg, PA: Stackpole Books. ISBN 978-0-8117-1529-4. p.85
4:Burgess, Douglas R. (2009a). The Pirates’ Pact: The Secret Alliances Between History’s Most Notorious Buccaneers and Colonial America. New York, NY: McGraw-Hill. ISBN 978-0-07-147476-4. pp.139
5:Notice of John Knill, of Gray’s Inn: 1733–1811. (Continued from our last)”. The Cornishman (15). 24 October 1878. p. 6.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے