بسم اللہ کی تفسیر قسط نمبر دو:

اب سے  ہم  ان تیرہ معانی کے متعلق بات کریں گے ،جو حرف ب کے ذریعے  ہمیں حاصل ہو سکتے ہیں ۔

 

حرف ب اور الصاق کا معنی:

ب کا پہلا معنی الصاق ہے،الصاق  کا معنی بیان کرتے ہوئے عبد القاہر جرجانی لکھتے ہیں  

اتصال الشیء بالشیء

ایک چیزکا دوسری چیز کے ساتھ ملنا الصاق کہلاتا ہے ۔

 

الصاق کے معنی کی وضاحت:

الصاق کا معنی مزید واضح کرنے کیلئے ہم آپ  کے سامنے دو مثالیں  پیش کر رہے ہیں جو بنیادی طور پر دو تعریفات بھی ہیں ۔

پہلی مثال یہ ہے ۔

إلصاق الوجه بالأرض

زمین کے ساتھ چہرہ ملانے کو  سجدہ کہتے ہیں ۔

دوسری مثال یہ ہے ۔

الصاق الجلد بالجلد

جلد سے جلد ملانے کو مباشرت کہتے ہیں۔

 

حرف ب میں الصاق کے معنی کی خاصیت:

الصاق ب  کا حقیقی معنی ہے ، جو اس کے تمام معانی کے ساتھ بھی پایا جاتا ہے ،یعنی  ہم ب کا جو بھی  معنی  مراد لیں گے،اس کے ساتھ یہ معنی بھی کسی نہ کسی درجے میں پایا جائے گا ۔

سیبویہ اور حرف ب کا معنی:

یہی وجہ ہے کہ سیبویہ نے اس کو ذکر کرنے کے بعد کسی دوسرے معنی کو ذکر ہی نہیں کیا  اور یہ کہہ دیا کہ  ب کا معنی الصاق اور اختلاط ہی ہے ۔

الصاق کی دو اقسام:

یہاں یہ بات بھی ذہن نشین  رہے کہ الصاق کی بھی  دو قسمیں ہیں

الصاق حقیقی اور الصاق مجازی

الصاق حقیقی کی تعریف:

الصاق حقیقی سے مراد یہ ہے کہ کوئی چیز حقیقت میں کسی دوسری چیز سے ملی ہوئی ہو۔

الصاق مجازی کی تعریف:

الصاق مجازی سے مراد یہ ہے  کہ وہ چیز حقیقی طور پر تو اس سے ملی ہوئی نہ ہو لیکن وہ اس کے قریب ترہو ۔

الصاق حقیقی کی مثال یہ ہے

بہ داء

جس کا ترجمہ یہ ہے

اس کے ساتھ بیماری ملی ہوئی ہے

یعنی بیماری اس کے ساتھ حقیقی طور پر ملی ہوئی ہے

الصاق مجازی کی مثال یہ ہے

مررت بزید

میں زید کے پاس سے گزارا

 یہاں اس کا ترجمہ یہ کرنا درست نہیں ہوگا

میں زید  کے ساتھ مل کر گزرا

کیونکہ یہاں الصاق حقیقی نہیں بلکہ مجازی ہے  

امام سیوطی اس مثال میں   الصاق مجازی ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں  

لما الْتَصق الْمُرُور بمَكَان بِقرب زيد

کیونکہ جو گزرنا ہے وہ اس جگہ سے ملا ہے جو زید کے قریب ہے ۔

یعنی حقیقی طور پر ملنا ثابت نہیں ہوا  بلکہ قریب سے گزرنے کو ہی ملنے سے تعبیر کر لیا ہے ۔

اسی طرف علامہ زمخشری نے بھی اشارہ کیا ہے ۔

التصق مروري بموضع يقرب منه

ب الصاق اور علامہ جامی کا اصول:

ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ کسی مقام پر ب الصاق کیلئے ہے یا نہیں تو اس حوالے سے علامہ جامی رحمۃ اللہ علیہ نے  ایک اصول لکھا ہے:

ب جب الصاق کیلئے استعمال ہوتی ہے تو وہ لصوق امر الی مجرور کا فائدہ دیتی ہے،یعنی وہ امر کو مجرورسے ملا دیتی ہے یا  اس کے قریب کر دیتی ہے۔

ب کے مزید معانی جاننے کیلئے اگلی اقساط ملاحظہ فرمائیں ۔

بسم اللہ کی تفسیر کی تیسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے