کیا حماس کے راکٹ حملوں سے اسرائیل کو نقصان ہو رہا ہے ؟

کیا حماس کے راکٹ حملوں سے اسرائیل کو نقصان ہو رہا ہے ؟

سوال:

کیا حماس کے راکٹ حملوں سے اسرائیل کو نقصان ہو رہا ہے ؟

 

جواب:

حماس کے راکٹ حملوں سے اسرائیل کو جانی نقصان تو نہیں ہورہا اور اس کی عمارتیں بھی تباہ نہیں ہو رہی کیونکہ اسرائیل کے پاس ایک میزائل شکن نظام ہے جس کو آئرن ڈوم کہتے ہیں، یہ ہوا میں ہی حماس کے راکٹوں کو تباہ کر دیتا ہے۔

اب تک غزہ کی پٹی سے حماس اسرائیل پر سینکڑوں راکٹ حملے کر چکا ہے لیکن نوے فیصد راکٹوں کو اسرائیل کے میزائل شکن نظام نے ہوا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔ اس وجہ سے اسرائیل کو زیادہ جانی نقصان نہیں ہو سکا اور اس کے فقط چند آدمی ہی مارے گئے ہیں۔

لیکن

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ حماس کے یہ راکٹ حملے بے فائدہ ہیں۔

بلکہ

یہ بہت مفید ہیں کیونکہ یہ اسرائیل کو خوبی مالی نقصان پہنچا رہے ہیں.

 

اس کی وجہ  یہ ہے کہ حماس والے جب قسام نامی ایک راکٹ پھینکتے ہیں تو ان کا خرچہ تین سو سے آٹھ سو ڈالر آتا ہے جبکہ اسرائیل کا میزائل شکن نظام جب اسے ہوا میں تباہ کرتا ہے تو اس کا پچاس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر تک کا خرچہ آتا ہے۔

 

اسرائیلی آئرن ڈوم اور حماس کے راکٹوں کی قیمت میں فرق کیوں ہے ؟

 

دراصل حماس شارٹ رینج کے میزائل خود مقامی فیکٹری میں تیار کرتا ہے، اس لیے اسے یہ سستے پڑتے ہیں، اس کے مقابلے میں اسرائیل کو میزائل شکن نظام میں انتہائی مہنگے میزائل ڈالنے پڑتے ہیں

تاکہ

وہ طاقتور سے طاقتور میزائل کو ہوا میں تباہ کر سکے ،اس لیے غلیل کے پتھر کو روکنے کے لیے بھی اسرائیل کا میزائل شکن نظام آئرن ڈوم  پچاس ہزار ڈالر والا میزائل مار دیتا ہے۔

از

احسان اللہ کیانی

Book on Israel and Palestine conflict

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے