تحریک لبیک  والے ایسے کیوں کر رہے ہیں ؟

تحریر:

احسان اللہ کیانی

اس کا اصل سبب تو فرانس کی حکومت ہے جس نے پیغمبر اسلام کی سرکاری سطح پر توہین کی ،اس توہین کا رد عمل ہر مسلمان پر بقدر استطاعت فرض تھا اور فرض ہے ،اس پر اصل ردعمل تو مسلمان حکمران  اور جرنیل دے سکتے تھے لیکن ستاون اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور جرنیلوں  نے اپنی اس ذمہ داری کو انجام نہیں دیا ،جس کی وجہ سے وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں سخت مجرم ہیں اور قیامت میں انہیں اس کا جواب  بھی دینا ہوگا ۔

 

حکمرانوں کے بعد علماء کا منصب آتا ہے ،ان پر بھی اس کا رد عمل دینا فرض تھا ،اس کی دو صورتیں تھیں ،عزیمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے حکومتوں کو  رد عمل کیلئے مجبور کرنا  یا رخصت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے فقط بیانوں پر اکتفا کرنا ،اکثر ممالک کے علماء نے رخصت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے فقط بیانات پر اکتفا کیا جبکہ تحریک لبیک والوں نے عزیمت کا راستہ اختیا رکرتے ہوئے میدان عمل میں اتر کر حکومت کو رد عمل کیلئے مجبور کرنے کی کوشش کی ،دو ہزار بیس کا دھرنا اسی کی پہلی کوشش تھی ۔

 

اسی دباؤ کی وجہ سے  حکومت نے نومبر دو ہزار بیس  میں ان سے معاہدہ کیا  تھا اور کہا  تھا،ہمیں دو سے تین ماہ دیں تاکہ ہم پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کر سکیں ،تحریک لبیک نے حکومت کو یہ وقت دیا ،فروری میں حکومت کی جانب سے مزید مہلت مانگی گئی اور کہا گیا کہ ہم قانون سازی کے بعد بیس اپریل تک فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کر دیں گے لیکن پھر خدا جانے کیا ہوا ،بیس اپریل سے پہلے ہی تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی صاحب کوبلا وجہ گرفتار کر لیا گیا ،گرفتار بھی اس وقت کیا گیا جب وہ ایک جنازے کیلئے جا رہے تھے،یہ کام کس کے اشارے پر اور کس کے دباؤ میں ہوا، فی الحال اس کا کچھ علم نہیں ہو سکا ۔

 

یہ عمل دیکھ کر لبیک والوں کا مشتعل ہونا بنتا تھا کیونکہ ان کے جذبات تو پہلے ہی مجروح تھے ،وہ پہلے ہی  دکھی اور غمگین تھے بلکہ ان میں سے کتنے ایسے بھی تھے جو چاہتے تھے کہ کاش انکی  اور انکے بیوی بچوں کی جانیں چلی جائیں اورکسی طرح  پیغمبر اسلام کی توہین کرنے والا شخص  اپنے انجام کو پہنچ جائے ۔

 

اب ان کے پاس اپنے قائد کو رہا کروانے اور اپناسابقہ مطالبہ منوانے کیلئے کیا بچا تھا ؟

پہلا آپشن یہ تھا کہ وہ قانون کا دروازہ کھٹکھٹائیں  لیکن اس  قانون پر عمل در آمد حکومت نے کروانا تھا جو پہلے ہی خلافِ قانون سعد رضوی کو گرفتار کر چکی تھی ۔

 

دوسرا  آپشن یہ تھا کہ وہ کسی کونے میں ،کسی پارک میں ،کسی میدان میں احتجاجی دھرنا دے دیں ،اس سے میڈیا میں ان کو کوریج بھی مل جانی تھی ،اخبارات میں ان کی تصاویر بھی آجانی تھی اور مذہبی طبقے میں ان کی اچھی خاصی واہ واہ بھی ہو جانی تھی لیکن اس سے حکومت نے رد عمل پر مجبور نہیں ہونا تھا جبکہ تحریک لبیک تو حکومت کو مجبور کرنا چاہتی تھی ۔

 

تیسرا آپشن یہ تھا کہ تحریک لبیک مسلح ہو کرسرکاری اداروں پر حملے کرے اور حکومت کو اس پر مجبور کرنے کی کوشش کرے ،اس طریقے کیلئے نہ تحریک لبیک کے پاس افراد تھے اور نہ ہی اسلحہ تھا اور میرے خیال سے اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہونا تھا  کیونکہ تحریک لبیک پر مستقل پابندی لگ جانی تھی اور اس کا وجودبھی آہستہ آہستہ ختم کر دیا جانا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اس  دور کے علماء کے فتوؤں کے مطابق یہ طریقہ حرام اور ناجائز بھی تھا ۔

 

چوتھا آپشن یہ تھا کہ تحریک لبیک ملک کو جام کرنے کی کوشش کرے ،اس مقصد کیلئے بڑی شاہراہوں اور اہم راستوں کو بند کرنا ضروری تھا، تحریک لبیک  نے اسی راستے کو اختیار کیا ، یہ کام حکمرانوں کی ناک میں دم کر دیتا ہے کیونکہ بیک وقت بہت سے کام رک جاتے ہیں اور پورے ملک کے تمام افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں ،اسی طریقے میں عوام کو بھی خاصی تکلیف ہوتی ہےلیکن ایسی شرعی ضرورتوں کیلئے اس طریقے کو  اختیار کرنا بالکل جائز بلکہ کار ثواب ہے ۔

 

عوام  جو وقتی پریشانی کو دیکھ کر ان پر اعتراض کررہی ہے ،نادان ہے ،وہ ان کے عظیم مقصد سے بے خبر ہے ،وہ ان کی پس پردہ نیت سے غافل ہے جو لوگ دو چار حدیثیں پڑھ کر ان پر اعتراض کر رہے ہیں ،وہ بھی کم علم ہیں،انہیں کیا خبر کے حالات کے بدلنےکیسے احکام  بدل جاتے ہیں۔

مثلا

عام حالات میں کسی کو تکلیف دینا بہت بڑا گناہ ہے لیکن میدان جنگ میں کافر کو زخمی کرنا بلکہ قتل کرنا اعلی درجے کی عبادت ہے ۔

 

عام حالات میں ماں باپ کی خدمت جہاد پر مقدم ہے لیکن جب دشمن کی تعداد زیادہ ہو ،نفیر عام ہو تو ماں باپ کو چھوڑ کر جنگ میں جانا فرض ہے ۔

 

عام حالات میں کسی  کتے کو پانی پلانا جنت میں جانے کا سبب ہے لیکن  بدر میں نبی رحمت ﷺ نے خود بدر کے کنووں پر قبضہ کر لیا تھا تاکہ دشمن پانی سے محروم ہو جائے ۔

 

عام حالات میں کسی کو دھوکہ دینا حرام ہے لیکن حدیث میں ہے الحرب خدعۃ (جنگ چال بازی کا نام ہے)

 

عام حالات میں شراب پینا حرام ہے لیکن حالات اضطرار میں اسے پینا بالکل جائز ہے ۔

 

عام حالات میں خود کشی حرام ہے لیکن اگر دشمن کے ہتھ چڑھنے میں ایمان کا خوف ہو تو خود کشی بالکل جائز ہے ۔

 

عام حالات میں جھوٹ بولنا حرام ہے لیکن محمد بن مسلمہ جب کعب بن اشرف یہودی کو قتل کرنے کیلئے جانے لگے تو انہوں نے خود نبی کریم ﷺ سے خلاف واقع بات  بولنے کی اجازت لے لی ۔

 

عام حالات میں کسی کافر  کا مال لوٹنا  بھی حرام ہے لیکن بدر نے نبی کریم ﷺ نے خود قریش کے تجارتی قافلے پر حملہ کیا تاکہ ان کی معیشت کو نقصان پہنچےکیونکہ وہ حربی کافر تھےا ور حربی کافر کا مال اور خون مباح ہوتا ہے ۔

 

عمومی حکم یہی ہے کہ انسان ہر ایک سے اچھے اخلاق اور نرم لب و لہجے کے ساتھ پیش آئے مگرقرآن ہی کہتا ہے مسلمان عورت جب غیر محرم سے بات کرے تو لہجے میں سختی ہونی چاہیے ،قرآن ہی مسلمانوں کو کہتا ہے کہ وہ منافقین اور کافروں کے ساتھ سخت زبان میں بات کریں ،قرآن ہی کہتا ہے جب تم کسی کو زنا کی سزا کے طور پر سنگ سار کروں تو تمہارے دل میں رحم نہیں آنا چاہیے ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے