تاریخ تدوین حدیث اور حجیت حدیث پر تین اہم سوالوں کے جوابات

سوال:

منکرین حدیث  کی تاریخ کیا ہے ؟

 

جواب :

منکرین حدیث کی تاریخ زیادہ قدیم نہیں ہے ، منکرین حدیث یاحجیت حدیث کا انکار کرنے والے عموما مستشرقین کی تحقیقات سے متاثر ہیں ،برصغیر میں سرسید پہلے شخص تھے ،جو مستشرقین کے افکار سے متاثر ہوئے اور انکار حدیث کر بیٹھے ،ان کے بعد جیراج پوری اور پرویز صاحب اس قافلے کے سرخیل تھے۔

 

سوال:

حجیت حدیث پر دلائل کیا ہیں ؟

جواب :

حجیت حدیث پر کچھ عقلی و نقلی دلائل پیش خدمت ہیں ،امید ہے یہ ایک مسلمان کو مطمئن کرنے کیلئے کافی ہوں گے۔

 

حجیت حدیث پر پہلی دلیل :

  کیا نبی کریم ﷺ کی زبان سے نکلنے والا ہر حکم قابل عمل تھا یا نہیں ؟

اگر قابل ِ عمل  تھا

تو کیا صحابہ کرام  اسے اہتمام کے ساتھ یاد نہیں رکھتے ہوں گے ؟

 

حجیت حدیث پر دوسری دلیل :

کیا نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کی اتباع کار ثواب تھا یا نہیں ؟

اگر کارِ ثواب تھا

تو کیا صحابہ کرام آپ کے عمل کو یاد رکھنے کی کوشش نہیں کرتے ہوں گے ؟

 

حدیث کے حجت ہونے پر تیسری دلیل :

کیا نبی کریم ﷺ کے کسی قول و فعل کو دوسروں تک پہنچانا کار ثواب تھا یا نہیں ؟

اگر تھا

تو کیا  صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کے اقوال و افعال کو پوری ایمانداری کے ساتھ آگے پہنچانے کی کوشش نہیں کرتے ہوں گے ؟

 

حجیت حدیث پر چوتھی دلیل :

نبی کریم ﷺ نے کیوں فرمایا کہ اللہ تعالی اس شخص کا چہرہ ترو تازہ رکھے جو میری بات سنے اور اسے یاد رکھے ؟

 

حجیت حدیث پر پانچویں دلیل :

نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر کیوں فرمایا جو لوگ یہاں نہیں ہیں ان تک یہ پیغام پہنچا دو ؟

 

حجیت حدیث پر چھٹی دلیل :

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کیوں اپنے حافظے کیلئے نبی کریم ﷺ سے دعا کروائی ؟

 

حجیت حدیث پر ساتویں دلیل :

نبی کریم ﷺ کلمات کو تین تین بار کیوں دہراتے تھے ؟

 

حجیت حدیث پر آٹھویں دلیل :

صحابہ کرام باہم حدیث کا تکرار  کیوں کرتے تھے ؟

 

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ

حفظ کے ذریعے حفاظت حدیث کا پورا پورا انتظام عہد رسالت میں بھی موجود تھا اور بلا شبہ حفظ بھی حفاظت کا ایک عمدہ نظام ہے۔

 

 اگر کوئی شخص کہے کہ صرف لکھا ہوا  محفوظ ہوتا ہے تو اس کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ قرآن بھی لکھا ہوا نازل نہیں ہوا  تھا

 یہ بھی حضور نے لکھوا کر محفوظ کروایا ہے۔

 

ایک تسلیم شدہ اصول ہے  جس کے ذریعے بات دوسروں تک پہنچ رہی ہو اس کا قابل اعتماد ہونا بات کو قابل اعتماد بناتا ہے خواہ وہ مضمون مکتوب  ہو یا غیر مکتوب ہو ،اس کو مثال سے یوں سمجھیں کہ کسی ملک کی خفیہ ایجنسی کا بندہ اپنے کسی ساتھی سے کہے کہ یہاں خطرہ ہے  نکل جاؤ تو یقینا کوئی اس سے یہ  مطالبہ  نہیں کرے گا کہ مجھے لکھا ہوا دکھاؤ پھر تمہاری بات مانوں گا ۔

 

یہاں حفظ پر اگر اعتراض یہ ہو سکتا ہے کہ 

 عدم توجہ  سے سنی ہوئی باتوں  میں  راوی سے غلطی ہو سکتی ہے تو ہم اسے بالکل تسلیم کریں گے کہ یہ حقیقت ہے کہ عدم توجہ  سے سنی ہوئی باتوں میں  غلطی ہو سکتی ہے

مگر حدیث کا معاملہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جو شخص جان سے زیادہ محبوب تھا،جس کی گفتگو سننے کو کان ترستے تھے،جس کی باتوں پر دنیا و آخرت کی کامیابی کا مدار تھا،جس کی طرف جھوٹ منسوب کرنا خود کو جہنم میں دھکیلنے کے متراد ف تھا وہاں عدم توجہ سے سننے اور پھر اسے بے فکری سے پھیلانے کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا ۔

 

سوال:

عہد رسالت میں تدوین  حدیث ہوئی تھی یا نہیں ؟

 

جواب:

 

عہد رسالت میں تدوین حدیث کی ممانعت:

ابتدائی طور پر صحابہ کرام ایک ہی صفحہ پر قرآن کی آیتیں اور احادیث بلا تفریق لکھ لیتے تھے۔نبی کریم ﷺ نے دیکھا تو پوچھا ،کیا لکھ رہے ہو،انہوں نے کہا یارسول اللہ جو کچھ بھی قرآن و حدیث آپ سے سنتے ہیں ،اسے لکھ لیتے ہیں ،اس پر آپ ﷺ نے فرمایا ،تم سے پچھلی قومیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئی تھی کہ انہوں نے کتاب اللہ کے ساتھ بہت سی دوسری چیزیں ملا دیں تھیں۔

 

تم نے جو کچھ بھی لکھا ہے ،سب کو مٹادو ،ضائع کر دو ،اس بات کو سن کر  بہت سے صحابہ کرام نے اپنے لکھے ہوئے نسخے جلا دیے ۔

اسی کو منکرین حدیث بطور دلیل پیش کرتے ہیں

حالانکہ

اس کی بہت سے وجوہات تھیں ۔

 

پہلی وجہ یہ تھی کہ قرآن کریم مکمل یقینی طور پر محفوظ ہو جائے اور اس میں کوئی دوسری چیز شامل نہ ہو ۔

دوسری وجہ یہ تھی کہ صحابہ کرام احادیث زبانی یاد رکھیں اور صرف قرآن کو لکھیں تاکہ دونوں میں فرق واضح رہے ۔

تیسری وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں پر قرآن و حدیث کا مرتبہ قیامت تک کیلئے واضح ہو جائے کہ قرآن پہلا ماخذ ہے اور حدیث رسول دوسرا ماخذ ہے ۔

چوتھی وجہ یہ تھی کہ اس وقت کاتبین کی کمی تھی اور جنہوں نے نیا نیا لکھنا سیکھا تھا ان کا خط ایسا تھا کہ اس کی وجہ سے بہت سے اشکالات جنم لے سکتے تھے ۔

پانچویں وجہ یہ تھی کہ حضور چاہتے تھے کہ میری احادیث زبانی بیان کی جائیں کیونکہ انہیں بالمعنی روایت کرنے کی پوری پوری اجازت ہے جبکہ قرآن کریم کو بالمعنی یا مفہوما بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔

چھٹی وجہ یہ تھی کہ کتاب اللہ کی تلاوت مقصود تھی جبکہ حدیث رسول کی تلاوت نہیں بلکہ صرف پیروی مقصود تھی ۔

 

یاد رہے کہ یہ ابتدائی دور تھا آخری دور میں آپ نے کتابت حدیث کی اجازت دے دی تھی بلکہ آپ نے  خود بہت سے لوگوں کو اپنے فرامین لکھوا کر بھیجیے ۔

عہد رسالت میں تدوین حدیث کی اجازت :

حضرت رافع بن خدیج کہتے ہیں ،یارسول اللہ ! ہم آپ نے بہت سے چیزیں سنتے ہیں کیا لکھ لیا کریں ،آپ نے فرمایا ،لکھ لیا کرو ،کوئی حرج نہیں (تقیید العلم)

 

حضور ﷺ نے خود زکوۃ ،صدقات اور خون بہا کے احکامات حضرت عمرو بن حزم کو لکھوائے تھے (سنن دار قطنی)

 

حضرت عمر بن عبد العزیز نے اپنے دور میں حضرت عمرو بن حزم کے مجموعے سے استفادہ کیا تھا ۔(سنن دار قطنی)

 

حضور ﷺ کے حکم سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک تحریر لکھ کر بحرین روانہ کی تھی ۔(زاد المعاد )

 

حضور ﷺ نے ایک تحریر قبیلہ جہینہ کی طرف بھجوائی تھی جس میں مردہ جانور کے حوالے سے احکام تھے ۔(طبرانی صغیر)

 

حضور ﷺ نے وائل بن حجر کو ایک صحیفہ دیا تھا جس میں نماز ،روزہ ،سود اور شراب سے متعلق احکام تھے ۔(سنن دارمی)

 

حضور نے اہل یمن کیلئے ایک تحریر لکھوائی تھی ،جس میں قرآن کو چھونے اور طلاق وغیرہ سے متعلق احکام تھے ۔

اس تحریر کو لکھتے وقت  ہم نے ڈاکٹر خالد علوی صاحب کی کتاب حفاظت حدیث سے بھی استفادہ کیا ہے ۔

از

احسان اللہ کیانی

دو ۔اپریل ۔دو ہزار اکیس

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے