دلائل الخیرات اور صاحب دلائل الخیرات کا تعارف :

دلائل الخیرات کس موضوع کی کتاب ہے ؟

یہ درود شریف کی ایک مشہور کتا ب ہے،دنیا بھر میں درود شریف پر جو کتب زیادہ پڑھی جاتی ہیں ،دلائل الخیرات بھی ان ہی میں شامل ہے۔

دلائل الخیرات کے مصنف کون تھے ؟

اس کے مصنف کا نام محمد بن سلیمان ہے ۔یہاں ایک بات بڑی قابل توجہ ہے ،بعض شارحین کا قول ہے کہ ان کے والد کا نام سلیمان نہیں تھا بلکہ  عبد الرحمن تھا ،سلیمان تو ان کے  والد کے بھی دادا کا نام تھا جن کی طرف انہیں منسوب کیا جاتاہے ، دعوت اسلامی کے مکتبۃ المدینہ نے بھی اپنی مطبوعہ دلائل الخیرات میں اسے  درج کیا ہے اور علامہ محب اللہ نوری صاحب نےاسے ممتع الاسماع کے حوالے سے نقل کیا ہے ،ہمیں تلاش کے باوجود بھی ممتع الاسماع نامی کتاب  نہیں مل سکی ،البتہ ہم نے درجن کے قریب کتب دیکھی ہیں ،جن میں اس بات کا تذکر ہ کسی مقام پر  نہیں ملا ۔

صاحبِ کتاب کو جزولی کیوں کہتے تھے؟

آپ کو جزولی اس وجہ سے کہا جاتا تھا کیونکہ آپ افریقی بربر قوم کے قبیلے جزولہ سے تعلق رکھتے تھے ،جزولی کو ج پر زبر کے ساتھ بھی پڑھا جاسکتا ہے اور ج کے پیش کےساتھ بھی پڑھا جاسکتا ہے ۔

آپ سے منسوب لوگ خود کو جزولی یا شاذلی کہتے ہیں ،یاد رہے کہ شاذلہ افریقہ کے ایک دیہات کا  بھی نام ہے ۔

کیا امام محمد بن سلیمان جزولی سادات میں سے تھے ؟

جی ہاں آپ سید تھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تھے ،انیس واسطوں کے بعد آپ کا نسب ان سے جا ملتا تھا ،اس مقام پر تاج کمپنی کے ستمبر دو ہزار پانچ والے نسخے میں ایک بڑی غلطی موجود ہے ،وہاں انہیں پہلے حسنی سید لکھا گیا ہے اور اس کے بعد جو نسب ذکر کیا گیا ہے اس سے وہ حسینی سید ثابت ہوتے ہیں۔

ماہنامہ انوار حبیب والے  علامہ محب اللہ نوری صاحب نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ بعض علماء کے نزدیک یہ حسینی سید ہیں ۔

امام محمدبن سلیمان  جزولی   کہاں کے رہنے والے تھے ؟

یہ مراکش کے رہنے والے تھے،فاس  کے علاقہ میں تعلیم حاصل کی ، حج بیت اللہ کیلئے مکہ مکرمہ گئے  اور زندگی میں طویل سیاحت  بھی کی ،اس کےبعدانہوں نے فاس میں ہی سکونت اختیار کر لی تھی،اسی فاس میں آپ نے اپنی کتاب  دلائل الخیرات تالیف کی تھی۔

زمانہ  طالب علمی کا ایک واقعہ :

آپ اپنے زمانہ طالب علمی میں تنہاء کمرے میں رہتے تھے ،کسی کو اس میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے ،بعض لوگوں کو بدگمانی ہوئی تو انہوں نے ان کے والد سے شکایت کی ،والد نے دروازہ کھلوایا تو ہر دیوار پر لکھا ہوا تھا ،الموت ،الموت ،الموت۔

یہ دیکھ کر ان کے والد نے کہا ،دیکھو ،تم کیسی بد گمانی کررہے تھے  اور انکی کیفیت کیسی تھی ۔

صاحبِ دلائل الخیرات کس فقہی مسلک سے تعلق رکھتے تھے ؟

محمد بن سلیمان جزولی فقہی مذہب کے اعتبار سے مالکی تھے ،ان کو اپنے فقہی مذہب سے لگاؤ بھی تھا ،یہ حلال و حرام جاننا چاہتے تھے ،اسی لیے انہوں نے فقہ مالکی کی کتاب مدونہ کو زبانی یاد کر رکھا تھا تاکہ بوقت ضرورت اس سے حلال و حرام کو معلوم کیا جاسکے ۔

صاحب دلائل الخیرات  کون تھے ؟

آپ کے شیخ ابو عبد اللہ امغار الصغیر  تھے ،آپ سے ترتیب حاصل کرنے کے بعد آپ چودہ سال کیلئے دنیا سے کنارہ کش ہو گئے تھے ،آپ نے اپنی زندگی کے چودہ سال گوشہ نشینی میں گزار دیے،اس دوران آپ کثرت سے ذکر اللہ کرتے رہے ،ہر وقت اللہ کی طرف متوجہ رہے ،قرآن و سنت پر سختی سے عمل کرتے رہے ،آپ روزانہ باکثرت قرآن کی تلاوت بھی کرتے تھے ۔

گوشہ نشینی کے متعلق مزید جانیے کیلئے آپ ہماری یہ وڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں ۔

گوشہ نشینی کے بعد لوگوں کی تربیت  کیوں شروع کی  ؟

اتنے سال گوشہ نشینی میں گزارنے کے بعد  جب آپ نے اپنی خواہشات پر خاصا قابو پا لیا تو آپ باہر نکلے تاکہ دوسرے لوگ بھی آپکی نیکی اور تقوی سے فائدہ اٹھا سکیں ،آپ نے لوگوں کی  ترتیب کرنا شروع کر دی،آپ کے ہاتھ پر بے شمار لوگوں نے آکر گناہوں سے توبہ کی اور خود کو نیکی کے راستے پر چلا یا۔

امام محمد بن سلیمان جزولی کی وفات کیسے ہوئی اور قبر مبارک کہاں ہے ؟

کہا جاتا ہے کہ آپ کو زہر دے کر قتل کیا گیا تھا،آپ کی وفات آٹھ سو سترہجری میں ہوا تھا  اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کی قبر کو ستتر سال بعد قبر سے نکالا گیا تو آپ کا کفن اور جسم سلامت تھا ۔

بریلوی دیوبندی علماء اور یہ کتاب :

دلائل الخیرات کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ دیوبندی بریلوی دونوں ہی مکاتب فکر کے علماء اس کے عامل ہیں ،اس کی تعریف کرنے والے ہیں ،اس کی ترغیب دلانے والے ہیں ۔

مفتی امجد علی اعظمی اوردلائل الخیرات:

مفتی امجد علی اعظمی صاحب بریلوی مکتب فکر کے نامور عالم تھے ،فقہ کی مشہور کتاب بہار شریعت کے یہی مصنف ہیں ،یہ اعلی حضرت کے خلیفہ بھی تھے ،ان کا معمول تھا کہ یہ روزانہ فجر کے بعد دلائل الخیرات کا ایک باب پڑھتے تھے ۔

علامہ محمد یوسف بنوری اور دلائل الخیرات :

علامہ محمد  یوسف بنوری  صاحب ایک نامور دیوبندی عالم تھے ،آپ مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے خلیفہ تھے اور کراچی کے مشہور مدرسے جامعہ بنوریہ کے بانی بھی تھے ،آپ  مولانا انور شاہ کشمیری اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے شاگرد تھے ،آپ دلائل الخیرات کے متعلق کہتے تھے ،اس کا پابندی سے ورد کرنا اتنا ہی مفید ہے جتنا کہ ایک کامل مرشد کی بیعت کرنا ۔

مولانا امداد اللہ مہاجر مکی  اور دلائل الخیرات:

مولانا امداد اللہ مہاجر مکی دیوبندی اور بریلوی دونوں مکاتب فکر کے نزدیک معتبر عالم ہیں ،ایک طرف پیر مہر علی شاہ صاحب آپ کے خلیفہ ہیں تو دوسری طرف مولانا اشرف علی تھانوی صاحب آپ کے خلیفہ ہیں ،آپ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ سفر و حضر میں دلائل الخیرات کو ساتھ رکھتے تھے ۔

دلائل الخیرات کی وجہ تصنیف :

دلائل الخیرات علامہ جزولی نے کیوں لکھی ،اس کا واقعہ یہ تھا کہ ایک مرتبہ آپ  وضو کرنے کیلئے کنویں پر گئے تو وہاں نہ رسی تھی اور نہ ڈول تھا ،آپ پریشان تھے کہ ایک بچی آئی اور اس نے اپنا لعاب دہن پانی میں پھینکا تو پانی اوپر آگیا ،آپ یہ دیکھ کر حیران ہو گئے ،آپ نے اس بچی سے پوچھا تم اس مقام تک کیسے پہنچی تو اس نے کہا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھ کر ۔اس واقعے کے بعد امام محمد بن سلیمان جزولی نے یہ ارادہ کر لیا کہ وہ درود شریف پر ایک کتاب لکھیں گئے ۔

دلائل الخیرات کی ترتیب کیسی ہے ؟

دلائل الخیرات کو  آٹھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ،حزب اول سے لے کر حزب ثامن تک ۔

دلائل الخیرات کو  پڑھنے کا طریقہ کیا ہے ؟

پیر کے دن پہلا حزب ،منگل کے دن دوسرا،بدھ کے دن تیسرا ،جمعرات کے دن چوتھا ،جمعہ کے دن پانچواں ،ہفتہ کے دن چھٹا ،اتوار کے دن ساتواں اور پیر کے دن آٹھواں اور ساتھ پہلا بھی پڑھنا ہوتا ہے ۔

کیا دلائل الخیرات کی ترتیب کی پابندی کرنا ضروری ہے ؟

یہ ترتیب ضروری نہیں ہے ،بعض علماء کہتے ہیں ،ہو سکے تو دلائل الخیرات کو  روزانہ مکمل پڑھ لینا چاہیے ،ورنہ دو ،تین ،چار ،پانچ ،چھ یا سات جیسے بھی آسانی ہو اس کی عادت بنا لینی چاہیے،میری رائے یہ ہے کہ اگر آپ زیادہ نہیں پڑھ سکتے توروزانہ اس میں سے کم از کم ایک درود ہی پڑھنے کی عادت بنا لیں ،ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا ۔

دلائل الخیرات سے بعض درود پاک کا ترجمہ :

میں یہاں آپ کیلئے اس کتاب سے چند درود پاک کا ترجمہ کر رہا ہوں تاکہ آپ کو اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ ہو سکے ۔

اے اللہ !

 ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر  ایک دن میں ہزار بار درود بھیج ،ان تمام قطروں کی تعداد کے برابر جو تخلیق کائنات سے لے کر قیامت تک برسیں گے ۔

اے اللہ !

ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک دن میں ہزار بار درود بھیج،سات سمندروں میں جتنی مخلوقات تو نے پید ا کی ہیں  ان کی تعداد کے برابر ،جن کو صرف تو ہی جانتا ہے اور اس تعداد کے برابر بھی جو قیامت تک تو سات سمندروں میں پیدا کرے گا ۔

از

احسان اللہ کیانی 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے