سوال:

مدرسے کے استاد کی روزانہ کی روٹین کیا ہوتی ہے ؟

جواب :

تحریر:

احسان اللہ کیانی

بیس اکتوبر دو ہزار سترہ کو میں نے اپنی روزانہ کی روٹین لکھی تھی ،جب میں ایک مدرسے میں استاد تھا۔وہ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔

میں نماز فجر سے کچھ دیر پہلے اٹھ جاتا ہوں ،وضو کر کے سب بچوں کو اٹھاتا ہوں ،ان کو اٹھا تے اٹھاتے تقریبا بیس سے پچیس منٹ لگ جاتے ہیں ،اتنی دیر میں جماعت کا وقت قریب آجاتا ہے ،میں مسجد میں آکر فجر کی سنتیں ادا کرتا ہوں اور جماعت کے انتظار میں بیٹھ جاتاہوں ،جماعت کے بعد کچھ دیر مسجد میں ذکر و تلاوت کرتا ہوں۔

پھر کمرے میں آکر لیپ ٹاپ آن کر تاہوں ،پہلے سے رجسٹرڈ پر لکھی چند تحریریں کمپوز کرتا ہوں اور انٹرنیٹ پر شیئر کر دیتا ہوں ،سات بجے تک اسی کام میں مصروف رہتا ہوں پھر ناشتہ کرکے فورا مسجد میں چلا جاتا ہوں ،وہاں بچے اسمبلی کر رہے ہوتے ہیں ،انکی حاضری لگاتا ہوں جو غیر حاضر ہو تے ہیں ان کے اسباب پوچھتا ہوں تاکہ اگر کوئی بیمار ہے تو اسکی دوا وغیرہ کا انتظام کیا جا سکے ۔

پھراپنی کلاس میں چلا جاتا ہوں ، آٹھ بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک درس نظامی کے اسباق پڑھاتا ہوں ،ساڑھے بارہ بجے دن کا کھانا کھا تا ہوں ،کھانے کے بعد ظہر کی تیاری میں مصروف ہو جاتا ہوں ،مدرسے کے بچے اتنی دیر میں کچھ آرام کر لیتے ہیں۔

اذان کے ساتھ ہی نماز کے لیے تمام بچوں کو کمروں سے جا کر نکالتا ہوں ،نماز کے بعد بچوں کو سبق کے تکرار کے لیے ترتیب وار مسجد میں بٹھا تا ہوں اور خود مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر مطالعہ میں مصروف ہو جاتا ہوں۔عصر تک وہیں بچوں کے ساتھ بیٹھتاہوں ،عصر کی نماز کے بعد بچے کھیلنے کیلئے باہر چلے جاتے ہیں۔

میں کمرے میں آکر لیپ ٹاپ یا موبائل میں مصروف ہو جاتا ہوں کبھی مطالعہ کرتا ہوں اور کچھ لکھ بھی لیتا ہوں ۔

مغرب کی نماز ادا کرکے بچوں کو اگلے دن کا سبق تیار کرنے کیلئے مسجد میں کلاس وائز بٹھا دیتا ہوں ،خود کبھی انکے ساتھ مسجد میں بیٹھتا ہوں اور کبھی اپنےکمرے میں آکر بیٹھ جاتا ہوں۔

میں نے ایک دن میں کل چھ کتابیں پڑھانی ہوتی ہیں ،عشاء تک دو سے تین درسی کتب کے اسباق کی تیاری کر لیتا ہوں ،عشاء کی نماز کے بعد بچوں کو دوبارہ ترتیب وار  بٹھا کر خود بقیہ اسباق کی تیاری میں مصروف ہو جاتا ہوں۔

رات دس بجے تک بچے مطالعہ کرتے ہیں ،دس بجے انکی چھٹی ہو جاتی ہے میں بھی اپنے بستر پر چلا جاتا ہوں ۔موبائل اٹھا کر بستر پر لیٹ جاتا ہوں ،کچھ دیر موبائل کے ساتھ وقت گزارتا ہوں پھر سو جاتا ہوں ۔

یہ میری روٹین ہے اور ہر مدرسے کے نگران استاد کی یہی روٹین ہوتی ہے

اندازہ لگائیں ،دین کیلئے مدرسوں میں زندگیاں وقف کرنے والے اساتذہ کتنی نیکیاں کماتے ہیں۔

نماز کیلئے صبح اٹھنا ثواب

بچوں کو نماز کیلئے اٹھانا ثواب

مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھنا ثواب

دینی تحریریں لکھنا اور پھیلانا ثواب

بچوں کو دینی تعلیم دینا ثواب

انہیں مطالعے کیلئے بٹھانا ثواب

مسجد میں بیٹھنا ثواب

بچوں کی اچھی تربیت کرنا ثواب

بچوں کی ضروریات پوری کرنا ثواب

بچوں کو اچھا پڑھانے کیلئے خوب محنت کرنا ثواب

انکی غلطیوں اور شرارتوں پر صبر کرنا ثواب

میرا آپ کو مشورہ ہے ،اگر آخرت بنانا چاہتے ہیں تو ضرور اس شعبے کو اختیار کریں کیونکہ یہاں نیکیاں کرنا بہت آسان ہیں اور گناہ کرنا بہت مشکل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے