فتاوی شامی کا تعارف اسکی علامات کی وضاحت اور اس سے مطلوبہ مسئلہ تلاش کرنے کا طریقہ

تحریر:

احسان اللہ کیانی

علامہ شامی کو ابن عابدین کیوں کہتے ہیں؟

فتاوی شامی امام ابن عابدین شامی کی تصنیف ہے ،انہیں ابن عابدین اس وجہ سے کہا جاتا تھا  کیونکہ ان کے جد اعلی بہت نیک انسان تھے ،انکی عبادت کی وجہ سے انہیں عابدین کہا جاتا تھا پھر اسی خاندان میں سے امام شامی کو شہرت ملی ،تو لوگ انہیں اپنے جد کی نسبت سے  ابن عابدین شامی کہنے لگے ۔

فتاوی شامی میں کیا کیا ہے ؟

فتاوی شامی جسے رد المحتار بھی کہتے ہیں ،یہ شرعی مسائل پر مشتمل ایک کتاب ہے ،جس میں طہارت سے لے کر مرنے کے بعد وراثت کی تقسیم تک کے ضروری شرعی احکام درج ہیں ،اس کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں ۔

علماء فتاوی کیلئے  فتاوی شامی کی طرف کیوں رجوع کرتے ہیں ؟

فتاوی شامی کی طرف رجوع کی پہلی وجہ :

آج کل علماء کرام فتاوی کے وقت اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں ،یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر علماء  کرام فتوے کے وقت اس کی طرف کیوں  رجوع کرتے ہیں ؟

اس کی بہت سی وجوہات ہیں،سب سے پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ ہزار سالہ علماء کی تحقیقات کا نچوڑ ہے اورپھر اس میں راجح اور مفتی بہ قول کا تعین بھی ہے۔ اس کے برعکس  اکثر کتب  فقہ میں متفرق اقوال ذکر کر دیے جاتے ہیں ، راجح اور مفتی بہ قول کا تعین نہیں کیا جاتا ،اس صورت میں  راجح و مرجوح اور صحیح اور اصح کا فیصلہ کرنا خود قاری کے ذمے ہوتا ہے ۔

فتاوی شامی کی طرف رجوع کی دوسری وجہ :

دوسری وجہ یہ ہے کہ  اس میں انہوں نے اپنی طرف سے بہت ہی کم لکھا ہے ،ہر موقع پر پچھلے علمائے کرام کی تحقیقات کوپیش کیا ہے۔

مثلا

علامہ شامی نے مفتی بہ اور راجح کا فیصلہ بھی خود نہیں کیا بلکہ متاخرین میں سے معتبر اصحاب فتوی پر اعتماد کیا ہے،جن میں ابن ہمام ، قاسم ،ابن حاج ، رملی ، ابن نجیم ،اسماعیل ،حائک ،خانوتی  اور سراج جیسے صاحب تقوی علمائے کرام شامل ہیں ۔

فتاوی شامی کی طرف رجوع کی تیسری وجہ :

تیسری وجہ یہ ہے کہ اس میں مسائل کو مکمل تحقیق کے بعد پوری احتیاط سے لکھا گیا ہے ،آپ اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ  انہوں نے جب بھی کسی کا قول نقل کیا  ہے تو  اس کی اصل عبارت  اصل کتاب سے تلاش کرکےلکھی ہے

مثلا

اگر انہوں نے امام طحاوی یا امام سرخسی کا قول لکھا ہے ،تو انہوں نے ہدایہ  جیسی کسی کتاب سے نہیں لکھ دیا  بلکہ ان بزرگوں کی اصل کتب کی طرف رجوع کیا اور ان کی اپنی  عبارت کو تلاش کرکے درج کیا ہے تاکہ غلطی اور خطا ء کا امکان کم سے کم ہو ۔

یہ کام انتہائی مشکل کام تھا جو علامہ شامی نے کیا لیکن یہ انتہائی مفید بھی تھا کیونکہ  بعض اوقات ایسے ہوتا ہے کہ ناقل کسی قول کو پوری ایماندار ی سے اپنے الفاظ میں درج کر دیتا ہے  لیکن اس سے جملے کا معمولی سا مفہوم بدل جاتا ہے ،جس  کا اثر مخصوص باریک  صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے ،امام ابن عابدین شامی نے امت کو اس سے بچانے کیلئے یہ مشقت اٹھائی اور اللہ نے ان کی کتاب کو وہ شہرت عطا فرمائی جو کم ہی کتابوں کے حصے میں آئی ہے ۔یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بعض اوقات ضرورت کے پیش نظر انہوں نے عبارات کا خلاصہ بھی ذکر کیا ہے ۔

فتاوی شامی میں کون کونسی کتابیں شامل ہیں؟

  فتاوی شامی بنیادی طور پر تین کتابوں کامجموعہ ہے۔

تنویر الابصار ،در مختار اور رد المحتار

 یہاں یہ بات بھی بڑی قابل توجہ ہے کہ تنویر الابصار ،در مختار اور رد المحتار نام رکھنے کا بھی ایک خاص پس منظر ہے۔

تنویر الابصار کا مختصر تعارف :

سب سے پہلے امام تمرتاشی نے ایک کتاب لکھی ،جس میں بڑی بڑی کتب ِفقہ میں پھیلے ہوئے ، معتبر اور مستند مسائل کو جمع کیا اور ایک مختصر سی کتاب کی صورت میں پیش کر دیا، اس کتاب کی وجہ سے بڑی سہولت پیدا ہوگئی ،جن مسائل کو دیکھنے کے لیے کئی جلدوں پر مشتمل کتب کو دیکھنا پڑتا تھا ،اب اس مختصر کتابچے کے ذریعے انہیں پڑھا اور یاد کیا جا سکتا تھا ،اسی وجہ سے انہوں نے اس کا نام ” تنویر الابصار ” (یعنی آنکھوں کی ٹھنڈک ) رکھا ۔

در مختار کا مختصر تعارف :

 اس کی شرح امام حصکفی نے د س جلدوں میں لکھنے کا ارادہ کیا لیکن جب لکھنے لگے تو خیال آیا ،ایساکرتا ہوں کہ تفصیلی کتاب نہیں لکھتا بلکہ بس "چُنے ہوئے موتیوں "کو جمع کر دیتا ہوں ،اسی مناسبت سے انہوں نے اس کتاب کا نام ” الدر المختار ” (یعنی چُنے ہوئے موتی ) رکھ دیا ۔

رد المحتار علی الدر المختار کا مختصر تعارف :

امام شامی نےدیکھا ،یہ کتاب  بہت مفید ہے ،لیکن اپنے اختصار کی وجہ سے کافی مشکل  ہو گئی ہے،طالب علم اسے سمجھنے کے معاملے میں تردد اور شک میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اسے چھوڑ کر دو سری کتابوں کی طرف چلے جاتے ہیں ،امام شامی نے ارادہ کیا کہ کیوں نہ متردد طالب علموں  کو  اس کتاب کی طرف واپس لایا جائے ،اسی لیے انہوں نے اس پر ایک وضاحتی حاشیہ لکھا اور اس کا نام رکھا

رد المحتار علی الدر المختار”  جس کا مطلب ہے( حیران ،پریشان ،شک اور تردد میں مبتلا طالب علم کو چُنے ہوئے موتیوں کی طرف واپس لانا )

فتاوی شامی میں ہے :

قد ارشدت من احتار من الطلاب فی فھم معانی ھذا الکتاب فلھذا سمیتھا رد المحتار علی الدر المختار

فتاوی شامی میں اختیار کردہ علامات کی وضاحت:

فتاوی شامی پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ فتاوی شامی میں ذکرہ کردہ چند علامات کو ہمیشہ ذہن میں رکھے ،تاکہ اسے مطالعہ کے دوران پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے

مثلا

امام شامی جب ” ح "لکھتے ہیں

تو اس سے انکی مراد ہوتی ہے کہ یہ بات امام حلبی کی شرح در مختار میں لکھی ہوئی ہے

جب امام شامی ” ط ” لکھتے ہیں

تو اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ بات میں نے امام طحطاوی کے حاشیہ در مختار سے لی ہے

جب  امام شامی ” ھ” لکھتے ہیں

تو اس سے ان کی مراد ہوتی ہے کہ جو بات چل رہی تھی اب و ہ اس ھ کے بعد ختم ہو گئی ہے

جب امام  شامی ” ملخصا ” کا لفظ لکھتے ہیں

تو اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ بات میں نے اصل الفاظ میں نہیں لکھی بلکہ اس کا خلاصہ لکھا ہے ۔

جب امام شامی ” قاموس ” کا لفظ لکھتے ہیں

تو اس سے ان کی مراد فیروز آبادی کی قاموس ہوتی ہے

جب وہ مصنف یا شارح کا لفظ لکھتے ہیں

تو اس سے انکی مراد بالترتیب امام تمرتاشی اور شارح امام حصکفی ہوتے ہیں

جب امام  شامی ” فافہم ” کا لفظ لکھتے ہیں

تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میں ادب کی وجہ سے صراحت نہیں کر رہا کہ امام حلبی یا طحطاوی سے مجھے اختلاف ہے ،آپ خود سمجھ جائیں ۔

فتاوی شامی سے اپنے فتوی کیسے تلاش کریں ؟

یہاں ہم اختصار کے ساتھ یہ بھی بیان کر دیتے ہیں کہ ا ٓپ اس سے اپنے سوال کا جواب کیسے  نکال سکتے ہیں ،سب سے پہلے تو آپ سوچیں  کہ آپ کا مسئلہ فقہ کے ابواب میں سے کس باب میں ملےمثلا کتاب الصلوۃ میں ملے گا یا کتاب البیوع میں ،کتاب الطہارۃ میں ملے گا یا کتاب السیر میں ۔

جب یہ سمجھ میں آجائے کہ یہ مسئلہ فلاں باب میں ملے گا، تو اس باب کی فہرست کو دیکھیں کیونکہ فتاوی شامی کی فہرست میں عموما مشہور مسائل درج ہیں ،اگر وہاں نہ ملے ،تو صرف درمختار کی عبارت کو پڑھتے جائیں ،جہاں شک ہو کہ اس مقام پر میرا مطلوبہ مسئلہ ہوسکتا ہے ،وہاں در مختار کی شرح بھی پڑھ لیں،جہاں تک یہ مکمل بحث ختم نہ ہو جائے ،پڑھتے رہیں ،اگر مطلوبہ مسئلہ مل جائے ،تو احتیاطا ایک دو صفحے پچھلے اور ایک دو صفحے اگلے بھی پڑھ لیں تاکہ اگر پہلے یا بعد میں کوئی قید ذکر کی گئی ہو تو وہ بھی آپ کے سامنے آجائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے